افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے سرکار گولڑہ پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ کا نظریہ
افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے حضرت پیرسیدمہرعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ۔۔۔۔۔۔۔اس مقام پر شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ شیخین کی افضلیت اس جماعت پر جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے منطوق آیت سے ثابت ہے اور جماعت متقدمہ پربمفہوم موافق یعنی جماعت متقدمہ میں سے جن کا انفاق وقتال مقدم ہوگا وہ سب سے افضل ہوگا اور شیخین کا انفاق اورقتال احادیث صحییحہ سے مقدم ثابت ہے۔ لہذاخلافت ان کی خلافت راشدہ وخاصہ ٹھہری جس میں خلیفہ کا افضل ہونا ضروری سمجھا گیا ہے[1]۔ [2]پیر صاحب مزید لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابوبکر بن عیاش کہتے ہیں میں نے ابو حفص سے سنا کہ کہتا تھا "بعد از پیغمبر کوئی شخص ابو بکرسے افضل نہیں ہے کیونکہ اس نے مقاتلہ مرتدین میں نبی سا کام کیا ہے ۔ غزوہ بدر اور حدیبیہ کے بعد یہ جہاد بالمرتدین عظیم الشان واقعہ ہوا ہے۔اس کی عظمت کے مقابلہ میں مومنوں کو تسلی دی گئی ہے کہ خبر دار اس فتنہ ارتداد سے گھبرانا نہیں[3]۔اسی طرح ایک اور جگہ آپ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سامان کتابت لانے کا قصد کیا تو آپ ﷺنے پھر فرمایا کہ اللہ تعالی اور اہل ایمان ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اختلاف کرنے سے انکاری ہیں ،، ایام مرض میں تین روز کی نمازیں اور بقول بعض سترہ نمازیں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مکرَّر اور اصرار مُؤَکَّد سے امام بنائے گئے۔ اس پر علی مرتضی نے جناب ابوبکر سے مخاطب ہوکر فرمایا قَدّمَکَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺَمَنْ ذَالّذِیْ یُؤَخِّرُکَ یعنی تمہیں رسول اللہ ﷺ نے مقدم کیا ہے پھر کون ہے جو تمہیں پیچھے کرے۔مزید ایک جگہ لکھا۔۔۔۔۔۔حسن بصری ،حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺنے ابوبکر کو مقدم کیا اور لوگوں کو نماز پڑھوائی ۔اور میں وہاں موجود تھا غیر حاضر نہیں تھا۔ میں تندرست تھا بیمار نہیں تھا ،چونکہ آپ ﷺ کا منشاء یہ تھا اس لیے ہم سب اپنی دنیا کےلیے بھی اس شخص پر راضی ہوئے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے اپنی رضا سے ہمارے لیے دینی پیشوا بنایا یعنی ہم ابوبکر کی خلافت پر راضی ہوئے۔[4]آپ فتاویٰ مہریہ میں لکھتے ہیں:نیابت نبوی کا مستحق وہی شخص ہو سکتا ہے جس کا جوہر نفس انبیاء کے جوہر نفس کے قریب ہو۔ پس اسے صورت خلافت یعنی (ریاست عامہ) اور معنی خلافت یعنی ( قرب انبیاء) دونوں کا جامع ہونا چاہیے جیسے کہ خلفاء اربعہ علیھم الرضوان تھے۔( فتاویٰ مہریہ ص 145)افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے حضرت فخر جہاں اور حضرت داتا صاحب کا نظریہنیز اس بارے حضرت پیر پٹھان رحمہ اللہ علیہ کے دادا پیراورقبلہ عالم خواجہ نور محمد مہاروی رحمہ اللہ علیہ کے پیر اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین حضرت مولانا محمد فخرالدین چشتی نظامی دہلوی رحمہ اللہ علیہ نے پاک پتن شریف کے حکم پر لکھی گئی اپنی کتاب عقائد نظامیہ میں لکھتے ہیں۔افضل الناس بعد وجود مبارک حضرت رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر بن قحافہ است بعد ایشاں حضرت عمر ابن الخطاب است بعد ایشاں حضرت عثمان ابن عفان بعد ایشاں حضرت مرتضی علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب۔ترجمہ۔ آدمیوں میں سب سے افضل بعد وجود مبارک حضرت رسول خدا ﷺ (یعنی ہر رسول اور ہر نبی کے بعد )حضرت ابوبکر بن قحافہ ہیں بعد ان کے حضرت عمر بن خطاب ہیں بعد ان کے حضرت عثمان بن عفان بعد ان کے حضرت مرتضی علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب ہیں رضی اللہ عنہم اجمعین۔ ( عقائد نظامیہ ص 39 از حضرت فخر الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ)حاجی نجم الدین سلیمانی، خلیفہ پیر پٹھان حضرت شاہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "مناقب المحبوبین" میں لکھتے ہیں:حکم شریعت اور ترتیب خاص کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چار خلفاء تھے، اول سب سے بزرگ (افضل) امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق ، دوم امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ،سوم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ، چہارم امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ۔(مناقب المحبوبین، صفحہ 56)حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ اپنی کتاب کشف المحجوب میں تحریر فرماتے ہیں:شیخ الاسلام و بعد از انبیاء خیر الانام خلیفہ و امام و سید اہل تجرید و شہنشاہ ارباب تفرید و از آفات انسانی بعید امیر المومنین ابو بکر عبد اللہ بن عثمان الصدیق رضی اللہ عنہ ۔ (کشف المحجوب فارسی، صفحہ 50)ان میں شیخ الاسلام بعد انبیاء خیر الانام خلیفہ پیغمبر و امام سید اہل تجرید شہنشاہ ارباب تفرید و آفات انسانی سے بعید امیر المومنین حضرت ابو بکر عبد اللہ ابن عثمان الصدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔(کشف المحجوب، صفحہ 172)صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مقدم جمیع خلایق است از پس انبیاء صلوات اللہ علیہم اجمعین و روا نباشد کہ کسی قدم اندر پیش وی نھد۔ (کشف المحجوب، صفحہ 69)(قدیم ترین نسخہ ، بقلم خواجہ بہاو الدین زکریا ملتانی منقول )حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ہستی مبارک وہ ہستی ہے کہ افضل البشر بعد الانبیاء ہیں۔ ان سے آگے بڑھ کر کسی کو قدم اٹھانا روا نہیں۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2026۔10۔24[1] ۔ چونکہ حضرت مؤلف نے یہ رسالہ خلافت راشدہ کے منکرین کے رد میں لکھا ہے اس لیے خلفاء راشدین کی فضیلت کے بارے میں اس مختصر بیان پر اکتفا فرمائی، اس مسئلہ کی مزید تفصیل اکابر علمائے اہل سنت کی کتابوں ملاحظہ ہو خصوصا متاخیرین علماء کرام ومشائخ عظام سے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین اور ان کے معاصر مشہور شیخ طریقت حضرت مولانا فخر جہاں چشتی نظامی دہلوی کی کتاب عقائد نظامیہ قابل دید ہیں۔جن میں ثابت کیا گیا ہے کہ خلفائے اربعہ کی فضیلت ان کی ترتیب خلافت کے مطابق ہے۔ البتہ بعض فضائل جزئیہ جیسے علم شجاعت ،قرابت نبوی وغیرہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کعو امتیاز ی شان حاصل ہے۔فیض عفی عنہ[2] ۔ (تصفیہ از سیدنا پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ۔ ص23)[3] ۔( تصفیہ از سیدنا پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ۔ ص19)[4]۔( تصفیہ از سیدنا پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ۔ ص34)