عام تلاش:

عقائد

<p></p>

فلٹرز

ذیلی ابواب
Oct 24, 2026 50

افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے سرکار گولڑہ پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ کا نظریہ

افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے حضرت  پیرسیدمہرعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ۔۔۔۔۔۔۔اس مقام پر شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ شیخین کی افضلیت اس جماعت پر جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے منطوق آیت سے ثابت ہے اور جماعت متقدمہ پربمفہوم موافق یعنی جماعت متقدمہ میں سے جن کا انفاق وقتال  مقدم ہوگا وہ سب سے افضل ہوگا  اور شیخین کا انفاق اورقتال  احادیث صحییحہ سے مقدم ثابت ہے۔ لہذاخلافت ان کی خلافت راشدہ وخاصہ ٹھہری جس میں خلیفہ کا افضل ہونا ضروری سمجھا گیا ہے[1]۔               [2]پیر صاحب مزید لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابوبکر بن عیاش  کہتے ہیں میں نے ابو حفص سے سنا کہ کہتا تھا "بعد از پیغمبر کوئی  شخص ابو بکرسے افضل نہیں ہے کیونکہ اس نے مقاتلہ مرتدین میں نبی سا کام کیا ہے ۔ غزوہ بدر اور حدیبیہ کے بعد یہ جہاد بالمرتدین عظیم  الشان واقعہ ہوا ہے۔اس کی عظمت کے مقابلہ میں مومنوں  کو تسلی دی گئی ہے کہ خبر دار اس فتنہ ارتداد سے گھبرانا نہیں[3]۔اسی طرح ایک اور جگہ آپ لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جب عبدالرحمن  رضی اللہ عنہ نے سامان کتابت لانے کا قصد کیا تو آپ ﷺنے پھر فرمایا کہ اللہ تعالی اور اہل ایمان ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اختلاف کرنے سے انکاری ہیں ،، ایام مرض میں تین روز کی نمازیں اور بقول بعض سترہ نمازیں صدیق اکبر  رضی اللہ عنہ نے پڑھائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مکرَّر اور اصرار مُؤَکَّد سے امام بنائے گئے۔ اس پر علی مرتضی نے جناب ابوبکر سے مخاطب ہوکر فرمایا قَدّمَکَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺَمَنْ ذَالّذِیْ یُؤَخِّرُکَ یعنی تمہیں رسول اللہ ﷺ نے مقدم کیا ہے پھر کون ہے جو تمہیں پیچھے کرے۔مزید ایک جگہ لکھا۔۔۔۔۔۔حسن بصری ،حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے  ہیں کہ رسول خدا ﷺنے ابوبکر کو مقدم کیا اور لوگوں کو نماز پڑھوائی ۔اور میں وہاں موجود تھا غیر حاضر نہیں تھا۔ میں تندرست تھا بیمار نہیں تھا ،چونکہ آپ ﷺ کا منشاء یہ تھا اس لیے ہم سب اپنی دنیا کےلیے بھی اس شخص پر راضی ہوئے جس  کو اللہ اور اس کے رسول نے اپنی رضا سے ہمارے لیے دینی پیشوا بنایا یعنی ہم ابوبکر کی خلافت پر راضی ہوئے۔[4]آپ فتاویٰ مہریہ میں لکھتے ہیں:نیابت نبوی کا مستحق وہی شخص ہو سکتا ہے جس کا جوہر نفس انبیاء کے جوہر نفس کے قریب ہو۔ پس اسے صورت خلافت یعنی (ریاست عامہ) اور معنی خلافت یعنی ( قرب انبیاء) دونوں کا جامع ہونا چاہیے جیسے کہ خلفاء اربعہ علیھم الرضوان تھے۔( فتاویٰ مہریہ ص 145)افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے حضرت  فخر جہاں اور حضرت داتا صاحب  کا نظریہنیز اس بارے حضرت پیر پٹھان رحمہ اللہ علیہ کے دادا پیراورقبلہ عالم خواجہ نور محمد مہاروی رحمہ اللہ علیہ کے پیر اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء  رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین حضرت مولانا محمد فخرالدین چشتی نظامی دہلوی رحمہ اللہ علیہ نے  پاک پتن شریف کے حکم پر لکھی گئی اپنی کتاب عقائد نظامیہ میں لکھتے ہیں۔افضل الناس بعد وجود مبارک حضرت رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر بن قحافہ است بعد ایشاں حضرت عمر ابن الخطاب  است بعد ایشاں حضرت عثمان ابن عفان بعد ایشاں حضرت مرتضی علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب۔ترجمہ۔ آدمیوں میں سب سے افضل بعد وجود مبارک حضرت رسول خدا ﷺ (یعنی ہر رسول اور ہر نبی کے بعد )حضرت ابوبکر بن قحافہ  ہیں بعد ان کے حضرت عمر بن خطاب ہیں بعد ان کے حضرت عثمان بن عفان بعد ان کے حضرت مرتضی علی کرم اللہ وجہہ ابن ابی طالب ہیں رضی اللہ عنہم اجمعین۔ ( عقائد نظامیہ ص 39 از حضرت فخر الدین دہلوی رحمۃ  اللہ علیہ)حاجی نجم الدین سلیمانی، خلیفہ پیر پٹھان حضرت شاہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "مناقب المحبوبین" میں لکھتے ہیں:حکم شریعت اور ترتیب خاص کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چار خلفاء تھے، اول سب سے بزرگ (افضل) امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق ، دوم امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ،سوم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ، چہارم امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ۔(مناقب المحبوبین، صفحہ 56)حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ اپنی کتاب کشف المحجوب میں تحریر فرماتے ہیں:شیخ الاسلام و بعد از انبیاء خیر الانام خلیفہ و امام و سید اہل تجرید و شہنشاہ ارباب تفرید و از آفات انسانی بعید امیر المومنین ابو بکر عبد اللہ بن عثمان الصدیق رضی اللہ عنہ ۔                                                                                                    (کشف المحجوب فارسی، صفحہ 50)ان میں شیخ الاسلام  بعد انبیاء خیر الانام خلیفہ پیغمبر و امام سید اہل تجرید شہنشاہ ارباب تفرید و آفات انسانی سے بعید امیر المومنین حضرت ابو بکر عبد اللہ ابن عثمان الصدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔(کشف المحجوب، صفحہ 172)صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مقدم جمیع خلایق است از پس انبیاء صلوات اللہ علیہم اجمعین و روا نباشد کہ کسی قدم اندر پیش وی نھد۔ (کشف المحجوب، صفحہ 69)(قدیم ترین نسخہ ، بقلم خواجہ بہاو الدین زکریا ملتانی منقول )حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی  ہستی مبارک  وہ ہستی ہے کہ افضل البشر بعد الانبیاء ہیں۔ ان سے آگے بڑھ کر کسی کو قدم اٹھانا روا نہیں۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2026۔10۔24[1]  ۔ چونکہ حضرت مؤلف نے یہ رسالہ خلافت راشدہ کے منکرین کے رد میں لکھا ہے اس لیے خلفاء راشدین کی فضیلت کے بارے میں اس مختصر بیان پر اکتفا فرمائی، اس مسئلہ کی مزید تفصیل اکابر علمائے اہل سنت کی کتابوں  ملاحظہ ہو خصوصا متاخیرین علماء کرام ومشائخ عظام سے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین اور ان کے معاصر مشہور شیخ طریقت حضرت مولانا فخر جہاں چشتی نظامی دہلوی کی کتاب عقائد نظامیہ قابل دید ہیں۔جن میں ثابت کیا گیا ہے کہ خلفائے اربعہ کی فضیلت ان کی ترتیب خلافت کے مطابق ہے۔ البتہ بعض فضائل جزئیہ جیسے علم شجاعت ،قرابت نبوی وغیرہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کعو امتیاز ی شان حاصل ہے۔فیض عفی عنہ[2] ۔ (تصفیہ  از سیدنا پیر  مہر علی شاہ علیہ الرحمہ۔ ص23)[3] ۔( تصفیہ از   سیدنا پیر  مہر علی شاہ علیہ الرحمہ۔ ص19)[4]۔( تصفیہ از   سیدنا پیر  مہر علی شاہ علیہ الرحمہ۔ ص34)

افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
مکمل فتویٰ
Oct 10, 2026 54

کیا انبیاء کرام پر فلم سازی کی جا سکتی ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب                                      بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاانبیاء کرام علیھم السلام کے بارے فلم سازی شرعاً ممنوع و حرام ہے اور بالآخر حد کفر و ارتداد تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور ایسی فلمیں جن میں ادا کار انبیاء کرام علیھم السلام کی تمثیل پیش کرتے ہیں اس میں کئی خرابیاں ہیں اور غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ مثلاً غیر نبی کو نبی کہنا یا ایسی شکلوں میں تمثیل پیش کرنا جس سے بالآخر تنقیص شان انبیاءکا پہلو نکلتا ہے اور ذہنوں میں ان مقدس ہستیوں کا تقدس باقی نہیں رہتا خصوصاً نئی نسل کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی نظریات کا پرچار ہے۔ یا وہ فلمیں جن میں قرآن پاک کے بیان کردہ نظریات کو جھٹلایا گیا ہے جیسا کہ بعض فلموں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دئیے جانے کا نظریہ، ایسا کرنا انجام کار قرآن پاک کی تکذیب(جھٹلانا) ہے اور قرآن پاک کو جھٹلانا کفر ہے۔حالانکہ قرآن پاک میں ہے۔                        وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا۔(سورہ النساء آیت 157،158)ترجمہ ضیاء القرآن:۔ اور ان کے اس قول سے کہ ہم نے قتل کردیا ہے مسیح عیسیٰ فرزند مریم کو جو اللہ کا رسول ہے  حالانکہ نہ انھوں نے قتل کیا اور نہ اسے سولی چڑھا سکے  بلکہ مشتبہ ہوگئی ان کے لیے (حقیقت) اور یقیناً جنھوں نے اختلاف کیا ان کے بارے میں وہ بھی شک و شبہ میں ہیں ان کے متعلق  نہیں ان کے پاس اس امر کا کوئی صحیح علم بجز اس کے کہ وہ پیروی کرتے ہیں گمان کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے اسے یقینا۔ بلکہ اٹھالیا ہے اسے اللہ نے اپنی طرف  اور ہے اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا۔      (تفسیر ضیاء القرآن از جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ)لہذا CD’S بنانے والوں، فروخت کرنے والوں نیز ٹی وی چینلز پر ان فلموں کو دکھانے والوں کو اگر علم نہ ہو کہ ایسے واقعات کی منظر کشی کی گئی ہے جن سے قرآن پاک کی تکذیب لازم آتی ہے تو بھی اس سے ماٰلاً (بالآخر) لزوم کفر ثابت ہوگا البتہ اگر انہیں مطلع کر دیا گیا کہ ایسا کرنا کفر ہے اس کے باوجود وہ اس کام سے باز نہ آئے تو التزام کفر کے مرتکب ہوئے کہ ان پر کافر و مرتد ہونے کا حکم صادر کر دیا جائے گا۔ اور ارتداد اور توہین ایکٹ کے تحت ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اور وہ فلمیں جن میں صحابہ کرام کی تنقیص شان کا پہلو نکلتا ہے۔ اس میں توہین صحابہ ایکٹ کے تحت کاروئی کی جائے گی۔فتاوی شامی میں ہے۔                 وَيَجِبُ حَمْلُهُ عَلَى مَا إذْ عَلِمَ الْمُنْكِرُ ثُبُوتَهُ قَطْعًا لِأَنَّ مَنَاطَ التَّكْفِيرِ، وَهُوَ التَّكْذِيبُ أَوْ الِاسْتِخْفَافُ عِنْدَ ذَلِكَ يَكُونُ أَمَّا إذَا لَمْ يَعْلَمْ فَلَا إلَّا أَنْ يَذْكُرَ لَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ ذَلِكَ فَيَلِجُّ۔          (فتاوی شامی ج6 ص357 دارالکتب العلمیہ بیروت)ترجمہ:۔ تکفیر کو اس پر محمول کرنا لازمی ہے کہ قطعی طور پر ثابت ہونے والے امر کے منکر کو اس کی قطعیت کا علم بھی ہو کیونکہ کسی کو کافر قرار دینے کا مدار جھٹلانے یا استخفاف پر ہے، تکفیر تکذیب یا استخفاف پر ہی ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے نہیں جانتا تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی مگر یہ کہ اگر اسے اہل علم اس کا قطعی ہونا بتا دیں۔ (اور وہ تب بھی انکار کرے) تو وہ کفر میں داخل ہو جائے گا۔امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کفر لزومی اور التزامی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شئی کا تصریحات خلاف کرے یہ قطعا اجماعا کفر ہے اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوٰی کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں بلکہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتاہو جیسا کہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔ یہ اقرار تو بہت طوائف کفار میں بھی نہ پایا جائے گا ہم نے دیکھا ہے بہیترے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا یا جس بات کا اس نے دعوٰی کیا وہ بعینہ کفر ومخالف ضروریات دین ہو جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک وجن وشیطان وآسمان ونار وجنان و معجزات انبیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی برحق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا اور اپنی تاویلات باطلہ وتوہمات عاطلہ کو لے مرنا نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے نہ محبت اسلام وہمدردی قوام کے جھوٹے دعوے کام آئیں گےقَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ  (اللہ انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت)اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے لے چلئے توانجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے .          (فتاوی رضویہ ج15 ص431 رضاء فاؤنڈیشن لاہور)ارباب اقتدار پر لازم ہے کہ اس قسم کی غیر شرعی اور فتنہ انگیز فلموں کی ریلیز پر پابندی عائد کریں اور اس میں ملوث جملہ عناصر کو قرار واقعی سزا دیں تاکہ مسلمانوں کو اشتعال انگیزی سے روکا جاسکے۔سرکار دوعالمﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ۔    (مسلم شریف رقم الحدیث49 باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان)ترجمہ:۔ اور تم میں سے جو شخص خلاف شریعت کام دیکھے تو اپنے ہاتھوں سے اس کی اصلاح کرے اگر طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اس کا رد کرے اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔اور ہر مسلمان اس حدیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے جہاں تک ممکن ہے قانونی طریقہ سے سد باب کی کوشش کرے تاکہ اس مذموم کام کو روکا جا سکے اور عوام الناس خصوصاً نئی نسل کو اس کے برے نتائج سے محفوظ رکھا جا سکے۔حضور نبی کریمﷺ کی تصویر یا خاکے بنا کر سطحی قسم کے تصورات پیش  کرتے ہیں وہ بھی تنقیص شان مصطفیٰ ﷺ کے مرتکب ہیں کیونکہ تقدس کا تصور باقی نہیں رہتا بلکہ ایک عام انسان کا تصور پیش کیا جا رہا ہوتا ہے۔ لہذا ایسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہئے اور بذریعہ عدالت انہیں سزا دلوانی چاہئے۔اللہ رب العزت حامی و ناصر ہو اور ہدایت کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خانمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2012۔12۔19

Oct 09, 2026 63

ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل ہیں

ازواج مطہرات اہل بیت میں داخل ہیں حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری  رحمۃ اللہ علیہوَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ۔ (پارہ22، سورۃ الاحزاب، آیت 33)ترجمہ ضیاء القرآن: اور ٹھہری رہو اپنے گھروں میں اور اپنی آرائش کی نمائش نہ کرو جیسے سابق دور جاہلیت میں رواج تھا 61 اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دیا کرو اور اطاعت کیا کرو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی  اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے دور کر دے پلیدی کو اے نبی کے گھر والو ! اور تم کو پوری طرح پاک صاف کر دےاسی کے تحت حضرت ضیاء الامت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: آیت کے اس جملہ ( انما یرید اللہ) میں بھی وہی مخاطب ہیں جن سے پہلے اور بعد میں خطاب ہو رہا ہے۔ اور وہ ازواج مطہرات ہیں (رض) اور اہل بیت سے بھی ازواج مطہرات مراد ہیں۔فرقہ وارانہ تعصب سے بلند اور خالی الذھن ہو کر اگر ان آیات کا مطالعہ کیا جائے تو ان آیات کا یہی مفہوم ہے جو بلا تکلف سمجھ آتا ہے۔ خدا نہ بھلا کرے فرقہ وارانہ تعصبات کا کہ وہ حق فہمی کی راہ میں پہاڑ بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔شیعہ حضرات کو اس بات پر اصرار ہے کہ اہل بیت میں ازواج مطہرات داخل نہیں، اس سے مراد فقط حضرات خمسہ ہیں یعنی امام المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، امیر المومنین علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت سیدہ طاہرہ رضی اللہ عنہا  اور حسنین کریمین (رضی اللہ عنہما) اپنے اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے جو دلائل انھوں نے پیش کئے ہیں وہ پیش خدمت ہیں۔ انھیں پڑھئے، سنجیدگی سے ان میں غور کیجئے اور ازروئے انصاف یہ فیصلہ کیجئے کہ راہ حق سے کون بہک گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں :(١) آیت کے اس جملہ میں ضمیریں مذکر ذکر کی گئی ہیں۔ (عنکم اور یطھرکم) اگر ان کا مرجع ازواج مطہرات ہوتیں تو مونث کی ضمیریں ذکر کی جاتیں۔ عنکم کی بجائے عنکن اور یطھرکم کی بجائے یطھرکن ہوتا۔(٢) آیت کے اس حصہ میں ” بیت “ واحد مذکور ہے۔ یہ چیز ازواج کی نفی کرتی ہے کیونکہ جہاں ان کے گھروں کا ذکر ہے وہاں بیت کی جمع بیوت مذکور ہے۔ جیسے وقرن فی بیوتکن اور واذکرن ما یتلی فی بیوتکن۔(٣) اس سلسلہ میں جو بڑی وزنی بات انھوں نے کہی ہے، وہ یہ ہے کہ ” انما “ حصر کے لیے آتا ہے یعنی جو چیز اس کے بعد مذکور ہے اس کے لیے یہ فعل ثابت ہے اور جو مذکور نہیں اس سے یہ فعل منفی ہے۔ نیز ارادہ کی دو قسمیں ہیں ارادہ محصنہ یعنی وہ ارادہ جس کو مراد کا پایا جانا یا نہ پایا جانا مستلزم نہیں، دوسرا وہ ارادہ جس کے ساتھ مراد کا پایا جانا ضروری ہے۔ یعنی ایسا ارادہ جس پر تطہیر اور اذھاب رجس ضرور مترتب ہوگا۔ اس مقام پر ارادہ محصنہ نہیں ہے، کیونکہ ایسا ارادہ تو ہر مومن کے لیے ہے کہ وہ ہر ناپاکی سے منزہ ہو، ظاہری اور باطنی نجاستوں سے اس کا دامن حیات پاک ہو۔ اہل بیت کی اس میں کوئی خصوصیت نہیں، حالانکہ یہ مقام مدح اہل بیت کا ہے۔ یہاں تو کسی ایسی چیز کا ذکر ہونا چاہیے جو ان کے ساتھ مخصوص ہو اور وہ ارادہ کا دوسرا معنی ہے جس سے ان حضرات کی عصمت ثابت ہوتی ہے۔ لیکن ازواج کی عصمت کا کوئی بھی قائل نہیں، یہاں وہی لوگ مراد ہوں گے جن کی عصمت ثابت ہے اور وہ یہ حضرات خمسہ ہی ہیں۔ اس لیے ثابت ہوا کہ یہاں اہل بیت سے مراد ازواج نہیں ہیں۔ امید ہے یہ پیچ در پیچ دلیل آپ نے سمجھ لی ہوگی۔(٤) کتب اہلسنت میں بھی ایسی احادیث بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد ازواج نہیں بلکہ حضرات خمسہ ہیں۔ شیخ الطائفہ طوسی نے التبیان میں اور شیخ طبرسی نے مجمع البیان میں اور اسی فرقہ کے دوسرے مفسرین نے اپنی تفاسیر میں یہی دلائل پیش کئے ہیں۔آئیے ! ان دلائل کا بنظر انصاف جائزہ لیں۔ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اگر ازواج مراد ہوتیں تو ضمیریں مونث کی ذکر کی جاتیں۔ اس لیے گزارش ہے کہ آیت کے اس حصہ میں اہلسنت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ مذکر ہے اگرچہ معنی مونث ہے اور عربی زبان میں بسا اوقات معنی کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، صرف لفظ کے مطابق ضمیر ذکر کردی جاتی ہے۔ قرآن کریم میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ سورة ہود کی آیت ٧١، ٧٢، ٧٣ ملاحظہ فرمائیے جہاں فرشتے حضرت ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہیں۔ حضرت اسحاق کی ولادت کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ پاس ہی حضرت سارا کھڑی ہیں۔ آپ وفور مسرت سے ہنس پڑتی ہیں۔ ساتھ ہی اظہار تعجب کرتے ہوئے فرماتی ہیں : یا ویلتی ا الد ونا عجوز وھذا بعلی شیخا ان ھذا لشیء عجیب “ یعنی میں بوڑھی اور میرا شوہر بھی بوڑھا، کیا میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ فرشتے حضرات سارا کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : ” اتعجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت “۔ اے حضرت خلیل کی رفیقہ حیات ! کیا تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر تعجب کر رہی ہو۔ اے اہل بیت تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ” تعجبین “ مونث کا صیغہ ہے لیکن بعد میں اہلسنت کے لفظ کے پیش نظر ” علیکم “ میں مذکر کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ آپ دور کیوں جاتے ہیں اسی صفحہ کی پہلی آیت میں من یقنت منکن پر غور کیجئے۔ ” یقنت “ مذکر کا صیغہ ہے لیکن بلا اختلاف اس سے مراد ازواج ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ” من تقنت “ ہوتا، لیکن من کے لفظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ” یقنت “ فرمایا گیا۔ اس لیے ان کا یہ استدلال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔دوسری دلیل کے بارے میں عرض ہے کہ ازواج مطہرات کے حجروں کی دو حیثیتیں ہیں ایک حیثیت تو یہ ہے کہ امہات المومنین کی قیام گاہیں ہیں۔ دوسری حیثیت یہ ہے کہ ان حجروں میں حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات اقامت گزیں ہیں۔ جب ان حجروں کا ذکر ازواج کی قیام گاہوں کی حیثیت سے ہو تو انھیں جمع ذکر کیا جاتا ہے اور جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسبت سے ہو تو واحد۔ ” وقرن فی بیوتکن “ میں ہر زوجہ محترمہ کو حکم ہے کہ وہ اپنے اپنے حجرہ میں ٹھہرے۔ اسی طرح ” ما یتلی فی بیوتکن “ میں بھی ہر بی بی کا حجرہ مراد ہے، کیونکہ وحی کا نزول مختلف حجرات میں ہوتا تھا۔ لیکن اہل البیت میں ” بیت “ سے مراد حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیام گاہ ہے اس لیے اس کو واحد ذکر کیا گیا۔تیسرا استدلال بھی بڑا انوکھا ہے۔ آپ کی دلیل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ مقام مدح اہل بیت کا ہے۔ حالانکہ یہ مقام مقام مدح نہیں بلکہ مقام موعظت و ارشاد ہے، جو باتیں اور جو خوبیاں اہل بیت کو اپنانی چاہئیں اور جس ضابطہ حیات کی انھیں پابندی کرنا چاہیے اس کا تفصیلی ذکر ہو رہا ہے، اس لیے اس دلیل کی بنیاد ہی درست نہیں۔ نیز عصمت انبیاء کا عقیدہ تو متفقہ عقیدہ ہے۔ لیکن دوسرے حضرات کی عصمت آپ کا اپنا مفروضہ ہے اس پر دلیل کی عمارت کیسے تعمیر کی جاسکتی ہے۔ نیز اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہاں سے عدم عصمت ثابت ہوتی ہے ورنہ تحصیل حاصل لازم آئے گی یعنی جو ہستیاں پہلے ہی معصوم اور ہر طرح کے رجس سے منزہ اور مبرا ہیں، ان کے متعلق یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو پاک اور طاہر کرنا چاہتا ہے اس کا کوئی مطلب نہیں۔ اس کے علاوہ اگر اہلبیت کی عصمت کا ذکر ہی بطور مدح کرنا مقصود ہوتا تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی : انما اراد اللہ واذھب عنکم الرجس اہل البیت وطھرکم تطہیرا۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ آیت اس طرح نہیں ہے۔ان صاحبان نے چوتھی دلیل یہ پیش کی ہے کہ اہلسنت کی کتب میں بھی بکثرت ایسی احادیث ہیں جو اکابر صحابہ ابو سعید خدری، انس بن مالک، واثلہ بن اسقع، ام المومنین عائشہ، ام المومنین ام سلمہ (رض) سے مروی ہیں۔ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد حضرات خمسہ ہی ہیں اور ازواج اہل بیت میں داخل نہیں۔ اس کے متعلق گزارش ہے کہ وہ احادیث جن میں یہ مذکور ہے کہ یہ آیت فقط ان حضرات قدسی صفات کے حق میں نازل ہوئی ان کے راوی مجروح اور ساقط الاعتبار ہیں۔ جن کی تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے اور جن کے راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔ ان کوئی تخصیص مذکور نہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ امہات المومنین اور یہ حضرات سب اہل بیت ہیں۔ یہی حق ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے۔پہلی حدیث : حضرت انس سے مروی ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز صبح کے لیے تشریف لاتے تو حضرت سیدہ فاطمہ (رض) کے مکان کے پاس سے گزرتے اور فرماتے الصلوۃ یا اھل البیت انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ویطھرکم تطہیرا۔ چھ ماہ تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ معمول رہا۔گزارش ہے کہ حضرت انس سے روایت کرنے والے کا نام علی بن یزید ہے۔ اس کے بارے میں علماء جرح وتعدیل کی رائے ملاحظہ فرمائیے : لیس بالقوی۔ منکر الحدیث عن الثقات وقال ابن عدی احادیثہ لا تشبہ احادیث الثقات (تہذیب التھذیب ) ۔ یعنی یہ قوی نہیں ہے۔ ثقات سے منکر حدیثیں روایت کرتا ہے۔ ابن عدی فرماتے ہیں کہ اس کی مرویات ثقات کی احادیث سے کوئی مشابہت نہیں رکھتیں۔اسی مضمون کی ایک حدیث اور مروی ہے جس کے راویوں میں ابوداؤد ہے۔ علامہ ابن کثیر نے اس کے بارے میں لکھا ہے ابو داؤد الاعمی ھو نفیع بن حارث کذاب۔ اندھے ابوداؤد کا نام نفیع بن حارث ہے وہ کذاب ہے، بہت بڑا جھوٹا ہے۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں : متروک الحدیث ضعیف یضع الحدیث لیس بشیء کان یغلو فی الرفض۔ یعنی محدثین نے اس کی حدیث کو ترک کردیا ہے یہ ضعیف ہے، اپنی طرف سے حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ یہ کوئی چیز نہیں ہے رفض میں بڑا غالی تھا۔ (تہذیب التہذیب)تیسری حدیث واثلہ بن اسقع (رض) سے مروی ہے جس میں ان سے یہ منقول ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت سیدہ کے ہاں گیا۔ حضرت علی مرتضیٰ (رض) کے بارے میں پوچھا۔ سیدہ نے بتایا کہ بارگاہ رسالت میں گئے ہیں۔ میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ اسی اثنا میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ حضرت علی اور دونوں شہزادے بھی تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو اپنے ہاتھ سے پکڑا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ گھر تشریف لائے۔ پس شہزادوں کو اپنی رانوں پر بٹھایا اور سیدنا علی اور حضرت سیدہ کو اپنے قریب کیا۔ پھر ان پر اپنی چادر ڈالی پھر یہ آیت پڑھی : انما یرید اللہ الآیہ پھر فرمایا : اللہم ھولاء اہل بیتی واھل بیتی احق۔ یا اللہ ! یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہلبیت زیادہ حقدار ہیں۔ واثلہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں بھی آپ کی اہلبیت میں سے ہوں۔ تو آپ نے فرمایا : ” وانت من اھلی “۔ تو بھی میری اہل سے ہے۔ واثلہ کہا کرتے : ” انھا من ارجی ما ارتجی “۔ یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد وانت من اھلی۔ میرے لیے سب سے بڑی امید ہے۔اس سند میں محمد بن معصب ایک راوی ہے۔ اس کے متعلق بھی علماء جرح کی رائے سنیے : قال یحی۔ لم یکن من اصحاب الحدیث کان مغفلا کان کثیر الخلط۔ یعنی یحییٰ کہتے ہیں کہ اس شخص کا علماء حدیث میں نہیں ہے۔ یہ بالکل احمق آدمی تھا اور روایات میں بکثرت الٹ پھیر کردیا کرتا تھا۔ نیز اس میں تو واثلہ کو بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اہل میں شمار کیا، تو تخصیص کہاں رہی۔حضرت ام سلمہ سے ایک حدیث مروی ہے جس میں حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ یہ آیت انما یرید اللہ الآیہ۔ میرے گھر میں نازل ہوئی اور یہ حضرات خمسہ کے لیے خاص ہے۔ اس کے راویوں میں ایک عبداللہ بن عبد القدوس ہے جس کے متعلق علامہ ابن حجر نے لکھا ہے : قال ابن معین لیس بشیء رافضی خبیث۔ یہ کچھ نہیں ہے رافضی ہے اور خبیث النفس ہے۔حضرت ام سلمہ (رض) کی ایک روایت میں یہ ہے کہ جب ان حضرات پر آپ نے اپنی چادر ڈالی تو میں عرض کی : وانا یا رسول اللہ حضور کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وانت “ یعنی تو بھی میرے اہلبیت میں سے ہے۔ اس سے ازواج مطہرات کا اہلبیت میں شامل ہونا صراحت سے ثابت ہوا۔ایک اور روایت جو ام سلمہ سے مروی ہے اس میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی تو اس کے راوی عطیہ ہیں۔ اس کے متعلق بھی علما کی رائے سنیے : قال احمد ھو ضعیف الحدیث۔ امام احمد کہتے ہیں کہ یہ ضعیف الحدیث ہے۔ پھر آپ نے کہا کہ عطیہ، کلبی کے پاس جا یا کرتا تھا اور اس کی کنیت اس نے ابو سعید مقرر کر رکھی تھی۔ جب لوگ اس سے پوچھتے کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے، وہ کہتا کہ میں نے ابو سعید سے سنی ہے۔ کلبی کا نام نہ لیتا تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ ابو سعید سے مراد ابو سعید خدری مشہور صحابی ہیں حالانکہ اس نے وہ حدیث کلبی سے سنی ہوتی اور کلبی کے متعلق علامہ ابن حجر نے لکھا ہے : کان بالکوفتہ کذا بان احدھما الکلبی کوفہ میں دو کذاب تھے، ان میں ایک یہ کلبی تھا۔ تمام علما جرح وتعدیل نے اس کو مردود قرار دیا ہے۔یہاں بھی عن عطیہ عن ابی سعید عن ام سلمہ مذکور ہے۔ اس سند میں عطیہ کا آجانا ہی اس روایت کو پایہ اعتبار سے ساقط کردیتا ہے حضرت ام سلمہ سے اسی مفہوم کی ایک اور حدیث منقول ہے جس کے راویوں میں عبد الحمید بن بہرام ہے جو شہر بن حوشب سے روایت کرتا ہے۔ اس کے متعلق حاتم سے پوچھا گیا : ” ھل یحتج بحدیثہ قال حاتم لا۔ ولا بحدیث شہر ولکن یکتب حدیثہ راہ کثیر من العلماء انہ لیس بحجۃ “۔ تو انھوں نے کہا کہ اس کی حدیث اور شہر بن حوشب کی حدیث دونوں حجت نہیں ہیں البتہ اس کی حدیث لکھنے کی اجازت ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ قابل سند نہیں ہے۔حضرت ابو سعید خدری سے ایک اور حدیث مروی ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ یہ آیت ان پانچوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کے راویوں میں ایک عطیہ ہے جس کا ذکر گزر چکا ہے، دوسرا مندل ہے جس کے متعلق ابن حجر لکھتے ہیں : قال احمد ضعیف الحدیث قال یحی لیس بشیء البخاری ادخلہ فی الضعفاء (تہذیب التھذیب) امام احمد نے کہا کہ مندل ضعیف الحدیث ہے یحییٰ کہتے ہیں کہ وہ کچھ بھی نہیں۔ امام بخاری نے بھی اس کا شمار ضعفاء میں کیا ہے۔اس تفصیل سے یہ چیز واضح کرنا مقصود ہے کہ اس قسم کی احادیث جن میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ آیت صرف حضرات خمسہ کے بارے میں نازل ہوئی یا ازواج مطہرات اس میں داخل نہیں۔ وہ تمام روایات قابل حجت نہیں تاکہ ان ضعیف احادیث کے پیش نظر قرآن کریم کی اس نص کا انکار کردیا جائے اور سیاق وسباق سے جو معنی سمجھا جاتا ہے، اس کی نفی کردی جائے۔ احادیث اگر صحیح بھی ہوں تو وہ قرآن کریم کے مفہوم کی ناسخ نہیں ہوسکتیں۔ نہ ان کی وجہ سے قرآن کریم کی نصوص میں تغیر وتبدل کیا جاسکتا ہے، چہ جائیکہ جب وہ ایسے راویوں سے مروی ہوں جو پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔اب آئیے ذرا یہ دیکھیں کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں اہل کے لفظ کا اطلاق بیوی پر ہوتا ہے یا نہیں۔ایک آیت تو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اہلیہ حضرت سارا کا ذکر ہے۔ گھر میں کوئی بچہ ہے نہ بچی۔ صرف حضرت سارا زوجہ خلیل (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے بارے میں ارشاد ہے : و رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اہل البیت انہ حمید مجید (ھود) کوئی آدمی بھی یہ جرات نہیں کرسکتا کہ یہاں اہلبیت کے لفظ سے حضرت سارا کو نکال سکے۔ اسی طرح حضرت کلیم (علیہ السلام) مدین سے اپنی اہلیہ محترمہ اور اپنے بچوں کے ہمراہ مصر واپس جا رہے ہیں۔ ان کا گزر راوی سینا سے ہوتا ہے۔ رات کی تاریکی ہے، جاڑے کا موسم ہے، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ دور سے ایک آگ جلتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس منظر کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے ” فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ انس من جانب الطور نارا۔ قال لاھلہ امکثوا انی انست نارا “۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ مقرر کی ہوئی مدت پوری کرلی اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ روانہ ہوئے تو کوہ طور کی ایک سمت میں انھوں نے آگ دیکھی اور اپنے اہل کو کہ تم ذرا یہاں ٹھہرو، میں نے آگ دیکھی ہے۔ یہاں بھی اہل سے بیوی اور بچے سب مراد ہیں۔ سورة طہ میں ہے وقال لاھلہ امکثوا انی انست نارا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس سفر میں آپ کی زوجہ آپ کے ہمراہ نہ تھیں۔ قرآن کریم کی ان متعدد آیات کے بعد بھی اگر کوئی شخص اہلبیت سے ازواج مطہرات کو خارج کرنے پر مصر ہو تو اس کی ہٹ دھرمی کی داد دینی چاہیے۔حدیث شریف میں ہے : ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعطی الاھل حظین والغرب حظا۔ الاھل الذی لہ زوجۃ و عیال۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل کو مال غنیمت میں دو حصے دئیے اور اکیلے آدمی کو ایک حصہ دیا۔ اہل کا معنی بتایا گیا ہے کہ جس کی بیوی بھی ہو اور بچے بھی ہوں۔آخر میں اہل لغت کی توضیح بھی ملاحظہ فرما لیں۔ علامہ جوہری لکھتے ہیں : اہل الرجل : اھل الدار۔۔ وقد اھل فلان یاھل ویاھل اھولا ای تزوج وکذلک تاھل قال ابو زید اھلک اللہ فی الجنۃ ای ادخلکھا وزوجک فیھا (صحاح) ۔ہم اپنے محاورہ میں بھی بیوی کو اہل خانہ یا گھر والی کہتے ہیں۔ یہ حضرات فرمائیں کہ حضرت سیدنا علی مرتضیٰ کی زوجہ محترمہ آپ کی اہلبیت سے تھیں یا نہیں ؟ حضرت شہر بانو حضرت سید الشہدا کے اہل خانہ میں سے تھیں یا نہیں ؟آپ کی اپنی بیوی صاحبہ آپ کے اہل خانہ میں سے ہے، ذرا آپ اپنی بیگم صاحبہ کو یہ کہہ کر تو دیکھیں کہ وہ آپ کی اہل خانہ یا گھر والی نہیں ہے، تو آپ کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ کی بیگم صاحبہ تو آپ کی اہل خانہ ہوں۔ ائمہ کبار کی ازواج طاہرات تو ان کے اہل میں شمار ہوں۔ کیا آپ کو صرف حضور پر نور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات سے جنہیں قرآن کریم نے امہات المومنین فرمایا ہے، بیر ہے کہ آپ انھیں اہلبیت میں شمار نہ کرنے پر بضد ہیں۔ لا حول ولا قوۃ۔ہم اہلسنت کے نزدیک حضور سرور کائنات کی ازواج مطہرات بھی اہلبیت ہیں، سیدنا علی مرتضیٰ ، سیدہ طاہرہ، حسنین کریمین بھی اہلبیت میں سے ہیں، جس طرح متعدد صحیح احادیث میں مذکور ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خصوصی طور پر ان کو اپنی عباء کے سایہ میں لینے اور ان کو ھولاء اھل بیتی فرمانے میں حکمت یہ ہے کہ عرب میں بھی بلکہ ہر جگہ مسلمہ دستور یہ ہے کہ نسب باپ کی طرف سے چلتی ہے نہ کہ ماں کی طرف سے۔ مثلاً اگر باپ گوندل ہو اور ماں راجپوت ہو تو اس کے بطن سے جو اولاد ہوگی، وہ گوندل کہلائے گی نہ کہ راجپوت۔ اس بین الاقوامی طور پر مسلمہ قاعدہ کے مطابق حضرت سیدنا علی کے فرزندان ارجمند حضرت ابو طالب کی اولاد اور نسل سے شمار ہونے چاہئیں تھے نہ کہ حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد اور نسل سے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس طرح دیگر بیشمار خصوصیات سے نوازا ہے یہ خصوصیت بھی بخشی ہے کہ حضرت سیدنا علی کی اولاد حضرت سیدہ طاہرہ کے بطن سے اولاد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا شمار ہوئی نہ کہ ذریت ابو طالب۔ اسی نسبت کی برکت سے سادات کرام میں سے جو حضرات شریعت اسلامیہ کی پابندی کرتے اور را ہوار عزیمت پر سوار ہو کر ریاضت اور مجاہدہ کے میدان میں قدم رکھتے ہیں وہ دیگر حضرات سے گوئے سبقت لے جاتے ہیں۔ واللہ یختص برحمتہ من یشاء۔ یہاں پر علامہ آلوسی نے بڑی ایمان افروز بحث کی ہے جسے خوف طوالت سے نقل نہیں کرسکا۔ اہل ذوق سے استدعا ہے کہ روح المعانی کے اس مقام کا مطالعہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں خانوادہ نبوت کی سچی محبت اور غلامی نصیب فرمائے۔ قیامت کے دن انہی کی سنگت میں لواء الحمد کے نیچے ہمارا حشر ہو۔ آمین ثم آمین۔ بجاہ حبیبہ الکریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واھل بیتہ الطاھرین واولیا ملۃ الکاملین امین یا ارحم الرحمین۔ (ضیاء القرآن پارہ 22،سورۃ الاحزاب ، زیر آیت 33) ۔

Sep 24, 2026 462

اعلامیہ بھیرہ شریف

اعلامیہعقائد اسلامبر موقع عرس پاک حضرت ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمتہ اللہ تعالی علیہ18,19 محرم الحرام 1442ھ ۔8,9 ستمبر 2020حسب ِارشاد : مجاھد تحریک ختم نبوت  جانشین حضور ضیاء الامت حضرت الحافظ پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحبسجادہ نشین آستانہ عالیہ امیر السالکین بھیرہ شریف                      عصرِ حاضر میں عقائد اسلام کے بیان میں بعض عناصر کی جانب سے غیر محتاط روش اپناتے ہوئے بہت نامناسب گفتگو کی  جا رہی ہے . اور امت مسلمہ کے عقائد سے انحراف کیا جارہا ہے ،             جسکے سبب نئے نئے فتنے جنم لے رہے ہیں.                       ان فتنوں کے سدّ باب کیلئے اہلسنت و جماعت کے بزرگانِ دین کے متوازن اور پختہ عقائد پر مشتمل بیانیہ مفادِ عام کیلئے اعلامیہ کی صورت میں جاری کیا جارہا ہے. مرکزی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف کے تمام شاہین علمائے کرام، آستانہ عالیہ کے خلفاء عظام ،معتقدین، متوسلین ، جملہ طلباء و طالبات، فاضلین اور فاضلات اور جملہ  اہلِ اسلام اس بیانیے پر دل و جان سے کاربند رہیں ۔اور ہر قسم کے افراط و تفریط سے بچے رہیں۔                         درج ذیل عقائد قرآن و سنت سے ثابت ہیں اور قرونِ اولی سے لیکر عہدِ حاضر تک جمیع سلاسل طریقت کے اولیاء و صلحاء کے عقائد بھی یہی رہے ہیں۔1 : ہم اللہ تعالی کو وحدہ لاشریک مانتے ہیں۔اور اسکی ذات و صفات میں کسی کو اسکا ہمسر(برابر) نہیں ٹھہراتے۔2 : اللہ کریم کو تمام عیوب سے منزہ و مبرا اور تمام عظمتوں کا مالک سمجھتے ہیں۔3 : اسلام دین ِحق ہے اور ہم تمام کتبِ سماویہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور قرآن مجید کو سب سے اعلی اور تحریف سے پاک سمجھتے ہیں اور تحریف (تبدیلی)کے قائل کو دائرہ اسلام سےخارج مانتے ہیں اور  جملہ مذاہب و ادیان  کے ان حقوق کا  لحاظ  کرتے ہیں جو اسلام نے ان کو  عطا فرمائے ہیں۔4 : حیات بعد الموت، برزخی زندگی ، ثواب و عذابِ قبر ،  حشر و نشر اور جنت و دوزخ کو حق سمجھتے ہیں۔5/1: ہمارا دعویٰ بلکہ ہمارا غیر متزلزل عقیدہ اور ایمان یہ ہے کہ : ” حضور سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے آخری نبی ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اور جو شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو بدبخت اس کے اس دعویٰ کو سچا تسلیم کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے اور اسی سزا کا مستحق ہے جو اسلام نے مرتد کے لئے مقرر فرمائی ہے “۔ [1]5/2:۔ "مسلم"سےکوئی ایسا شخص مراد ہےجووحدت وتوحیدقادرمطلق اللہ تبارک وتعالیٰ،خاتم النبین حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتاہواورپیغمبریامذہبی مصلح کےطورپرکسی ایسےشخص پرنہ ایمان رکھتاہونہ اسےمانتاہوجس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد اس لفظ  کے  کسی مفہوم میں یا کسی  بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوی کیا ہویا جو دعویٰ کرے۔[2]6- آپﷺکو تمام  سابقہ انبیاء و رسل علیہم السلام سے افضل و اعلٰی سمجھتے ہیں اور تمام انبیاء و رسل علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور کسی بھی نبی کی توہین کرنے والے کو از روئے قرآن و سنت  دائرہ  اسلام سے خارج اور سنگین ترین سزا کا مستحق سمجھتے ہیں ۔ تمام ملائکہ پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں انبیاء و ملائکہ کو معصوم عن الخطاء (گناہ) سمجھتے ہیں ان کے علاوہ مخلوق میں امکان خطاء موجود ہے البتہ اللہ کریم اپنے مقبول بندوں کو گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ [3]6/1:۔ اللہ تعالی کی عطا سے حضور سید عالمﷺ کے لئے علم غیب ، صلوۃ و سلام بصیغہ ندا ،استغاثہ، حیات برزخی،  حاضرو ناظر  ہونا اور ایصال ثواب ثابت مانتے ہیں۔7 : ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کےجمیع اصحاب،  اہلِ بیتِ اطہاربشمول  ازواج مطھرات (امھات المؤمنین)، آپﷺ کی چاروں صاحبزادیوں اور تینوں صاحبزادگان رضوان اللہ علیھم   ، کو واجب الاحترام سمجھتے ہیں۔8. نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ برحق و امامِ مطلق حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق، پھر حضرت عمرِ فاروق، پھر حضرت عثمان غنی، پھر حضرت مولیٰ علی پھر چھ مہینے کے لیے حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم ہوئے، اِن حضرات کو خلفائے راشدین اور اِن کی خلافت کو خلافتِ راشدہ کہتے ہیں ، کہ انھوں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی سچی نیابت کا پورا حق ادا فرمایا۔[4]  اور خلفاء کی خلافت بر ترتیب افضلیت ہے۔ فقہ اکبرمیں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔وَأفضل النَّاس بعد النَّبِيين عَلَيْهِم الصَّلَاة وَالسَّلَام أَبُو بكر الصّديق ثمَّ عمر بن الْخطاب الْفَارُوق ثمَّ عُثْمَان بن عَفَّان ذُو النورين ثمَّ عَليّ بن أبي طَالب المرتضى رضوَان الله عَلَيْهِم أَجْمَعِينَ عابدين ثابتين على الْحق وَمَعَ الْحق نتولاهم جَمِيعًا وَلَا نذْكر أحدا من أَصْحَاب رَسُول الله إِلَّا بِخَير۔[5]انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل حضرت ابو بکر صدیق ان کے بعد حضرت عمر فاروق  ان کے  بعد حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین اور ان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ  رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین (یہ سب ) عبادت گزار ہیں ہمیشہ حق پر  ثا بت رہنے والے اور حق کے ساتھ تھے اور   ہم ان تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور ہم کسی صحابی کا ذکر سوائے خیر (بھلائی) کے نہیں کرتے ۔ مولا علی رضی اللہ عنہ کو   ہر مومن کا مولی یعنی محبوب  دوست و مددگار  مانتے ہیں  ۔[6]9 : اہل بیتِ اطہار بشمول امھات المومنین اور جمیع  صحابہ  و صحابیات میں سے کسی کی بھی عزت و عظمت کے خلاف  صراحتاً یا اشارۃً  لعن طعن  کرنے کو عقائد اہلسنت  کے خلاف اور قابلِ مؤاخذہ سمجھتے ہیں۔10- کسی صحابی کی قبل از اسلام زندگی کو بنیاد بنا کر ان پر زبان طعن دراز کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں اور جن کے ایمان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا ان کو صحابی ہونے کی بنیاد پر قابلِ احترام مانتے ہیں۔ .جو بد نصیب ازواج مطہرات، آل پاک اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی جناب میں گستاخیاں کرتا ہے اور ان کے دلوں کو دکھاتا ہے اس کا انجام خطرناک  ہوگا۔[7]11 : مشاجراتِ واختلافات صحابہ میں لعن طعن سے کفِ لسان یعنی زبان کو روکے رکھنا لازم و ضروری سمجھتے ہیں ،اور اس پر منفی انداز میں بحث و تمحیص کو اسلام کے اجتماعی مزاج کے خلاف سمجھتے ہیں اور جن مسائل میں  بزرگانِ دین نےتوقف فرمایا ہے وہاں سکوت ہی ضروری  سمجھتے ہیں۔بہر حال ہم میں سے کسی کو زیب نہیں دیتا کہ سرکاردوعالم ﷺ کے صحابہ کی اس بابرکت جماعت کے بارےمیں زبان طعن دارز کرے کیونکہ قرآن کریم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اس پاک باز جماعت کی شان بیان کی گئی ہے۔[8]12:۔ ہم جمیع منکرین سنت سے بیزاری و براءت کا اظہار کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث اور سنت کو قرآنِ کریم کے بعد دوسرا مصدرِ تشریع اور  اجماع و قیاس کو بطور حجت و سند تسلیم کرتے ہیں . اور حضورﷺ کے ہر فرمان کو سر آنکھوں پر رکھتے ہوئے دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں.13- تصوف اسلام کا اہم ترین جزء ہے اور حدیثِ جبریل علیہ السلام کی رو سے احسان و تزکیہ نفس کی اہمیت ایمان و اسلام کے بعد  مسلم ہے . لہذا ہم جمیع سلاسلِ حقہ کے صوفیاء کرام کا احترام کرتے ہوئے انکی تعلیمات کو حرزِ جان بناتے ہیں اور تصوف کو دین کے متوازی (الگ مذہب) کہنے والوں کی فکر کو مبنی بر خطا قرار دیتے ہیں.14 - ہم حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قیامِ امن کی خاطر اسلامی مقدسات اور عقائد  کے  احترام کو یقینی بنائے ،اور ان کی توہین کرنے والے کو قرار واقعی سزا دینے کا اہتمام کرے ۔نوٹمفسر قرآن حضرت ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ  صاحب الازہری رحمۃ اللہ علیہ نے دارالعلومحمدیہ غوثیہ کے  مقاصد تاسیس میں درج ذیل عبارت کندہ کروائی جو کہ تاحال موجود ہے۔"یہ دارالعلوم فقہی اعتبار سے مسلک  حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  کا مقلد ہوگا ،جملہ سلاسل ِتصوف کا تہہ دل سے معتقد ہوگا ،نظریاتی اعتبار سے ملت کے سوادِاعظم اہل السنت و الجماعت کا ہم نوا ہوگا،    جس کی ترجمانی اعلیٰ حضرت مولانا  احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے " .                          ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ  موجودہ دور میں تمام مذہبی حلقے باہمی نزاعات و اختلافات   کو بالائے طاق رکھتے  ہوئے قومی و بین الاقوامی  سطح پر اہل اسلام کو در پیش    مسائل  الحاد ،استشراق ،جدت پسندی،  عقلیت پرستی اور مرزائیت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں  تاکہ صحیح معنوں میں خدمتِ اسلام ہو سکے ۔ عقائد ِ اسلام سے متعلقہ اس اہم بیانیہ  کو  آستانہ عالیہ  سیال شریف سے جاری کردہ اعلامیہ سے استفادہ و پیروی کرتے ہوئے متوسلینِ خانقاہ امیر السالکین (بھیرہ شریف)اور جمیع اہل اسلام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے ۔ جملہ متعلقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس اعلامیہ پر سختی سے کار بند رہیں اور مساجد و مدارس میں اسے آویزاں فرما دیں۔اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔یہی عقائد درج ذیل اجلہ علماء و مشائخ سے ثابت  ہیں۱۔ حضرات خلفائے راشدین   رضوان اللہ علیھم اجمعین۲۔ آئمہ اہل بیت اطہار، اجلہ تابعین، تبع تابعین رضی اللہ عنہم و علماء راسخین۳۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۴۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۵۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ۶۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۷۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۸۔ حضرت داتا گنج بخش علی  ہجویری رحمۃ اللہ علیہ۹۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ۱۰۔ شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ۱۱۔ امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ۱۲۔ شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ۱۳۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ۱۴۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ۱۵۔ حضرت الشاہ احمد رضا خان محدث بریلی رحمۃ اللہ علیہ۱۶۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ۱۷۔ حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ۱۸۔ خواجہ خواجگان بہار چشت خواجہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ۱۹۔ قدوة السالکین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ۲۰۔ اور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ قمرالدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ21۔ حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازھری رحمۃ اللہ علیہ ۔ان عقائد کو  مفصل  سمجھنے کے لئے درج ذیل کتب کا مطالعہ نہایت مفید رہے گا۔الفقہ الاکبر، العقیدۃ الطحاویہ، کتاب الابانہ شرح العقائد النسفیۃ  ،  الیواقیت الجواہر، نظام العقائد از فخر جہاں فخر الدین دہلوی ، مہر منیر،  فتاوی رضویہ،  بہار شریعت ، تکمیل الایمان، مرام الکلام ، کشف المحجوب،  مکتوبات شریف،  فتاوی عزیزیہ،غذاء المحبین،  مراۃ العاشقین، انوار قمریہ   ،  تفسیر ضیاء القرآن ،سیرت ضیاء النبی ﷺ،اور مقالا تِ  ضیا ء الامت  رحمۃ اللہ علہیم اجمعین۔پوری امت کی طرح مشائخ چشت اہل بہشت  کا بھی یہی عقیدہ ہے ۔[9]منجانب :۔ سجادہ نشین آستانہ عالیہ امیر السالکین بھیرہ شریف۔ از دارالافتاء بھیرہ شریف[1] ۔ ( ماخوذاز ضیاء القرآن ج 4 ص68)۔[2] ۔(ماخوذ ازاآئین پاکستان آرٹیکل260،شق3اے،ص327) ۔[3] ۔شرح العقائد النسفیہ، النبراس، منح الروض، فتاوی رضویہ، بہار شریعت، کتاب العقائد۔[4] ۔(بہار شریعت، جلد1، صفحہ 241، شرع عقائد نسفی مع النبراس)  بہرحال حضرت امام حسن کی چند ماہ خلافت پر تیس سال پورے ہوگئے،چونکہ امام حسن کی خلافت دراصل خلافت حیدری کا تتمہ تھی اس لیے اس کا ذکر علیحدہ نہ فرمایا ۔(مراۃ المناجیح، جلد7، صفحہ 241)۔اس لئے عام طور پر خلفاء اربعہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جب خلفائے راشدین کا تذکرہ ہوتا ہے تو  حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا ذکر کم ہی کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام زُرقانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:جن حضرات نے آپ کی خلافت کو شُمار(Count) نہیں کیا  تو  اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی مدت طویل نہیں تھی،گویا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت اپنے والدِ ماجد کی خلافت  میں ہی شامل ہے ،یہ دونوں مقدس ہستیاں ایک شخصیت کی طرح ہیں اور چوتھے خلیفۂ راشد کے تذکرے میں آپ کا ذکر بھی ہوجاتا ہے۔(شرح الزرقانی علی المواھب،جلد 10، صفحہ156)۔[5] ۔(فقہ اکبر از امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، صفحہ 41) ۔[6] ۔وَدَفَعَهَا عُلَمَاءُ أَهْلِ السُّنَّةِ بِأَنَّ الْمَوْلَى بِمَعْنَى الْمَحْبُوبِ وَهُوَ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ سَيِّدُنَا وَحَبِيبُنَا، وَلَهُ مَعَانٍ أُخَرُ تَقَدَّمَتْ، وَمِنْهُ النَّاصِرُ وَأَمْثَالُهُ۔ (مرقاۃ، جلد9صفحہ 3944)اسی طرح النہایہ میں ہے۔[7] ۔ (ماخوذ از ضیاء القرآن ج4 ص94)۔[8] ۔ (ضیاءالنبی ج5 ص780)[۔[9] ۔اعلامیہ عقائد اسلام ضیاء حرم  کا شمارہ اپریل مئی 2025 میں بھی شائع ہو چکا ہے۔

اعلامیہ
مکمل فتویٰ
Sep 08, 2026 174

یا علی مدد کہنا کیسا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیامشکل کے وقت یا علی مدد کہنا جائز ہے اور میرے غریب نواز ضیاء الامت مد ظلہ العالی کا یہی فرمان ہے جیسا کہ بہت سے جلیل القدر محدثین نے کہا اگر سفر میں کوئی مشکل پیش آئے تو یا عباد اللہ اعینونی کہنے سے مشکل حل ہو جاتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ جو ولائت کا منبع  اور سرچشمہ ہیں ان کو پکارنے سے مشکل حل کیوں نہیں ہوسکتی یقیناً اللہ کریم ایسے شخص کی مشکل کو حل فرما دے گا جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وسیلہ پیش کرے گا ۔(فتاوی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ صفحہ 66)ھذا ماعندی  واللہ اعلم بالصوابقاضی محمد ایوب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

Sep 05, 2026 351

ختم نبوت

الجواب بعون الملک الوھاب                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاہمارا دعویٰ بلکہ ہمارا غیر متزلزل عقیدہ اور ایمان یہ ہے :  حضور سرور عالم سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے آخری نبی ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اور جو شخص اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو بدبخت اس کے اس دعوے کو سچا تسلیم کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے اور اسی سزا کا مستحق ہے جو اسلام نے مرتد کے لیے مقرر فرمائی ہے ۔ (تفسیرضیاء القرآن، جلد3، سورہ الاحزاب، زیر آیت 40)مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔(پارہ22، سورہ الاحزاب، آیت40)ترجمہ ضیاء القرآن:۔ نہیں ہے محمد (فداہ روحی) کسی کے باپ تمہارے مردوں میں سے بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں  اور خاتم النبیین ہیں  اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔خاتم النبیین کا معنی اور مفہومخاتم النبین کا جو معنی یہاں کیا گیا ہے اہل لغت نے اس کا یہی معنی لکھا ہے۔ اس وقت میرے پاس علم لغت کی دوسری کتب کے علاوہ الصحاح للجوہری اور لسان العرب لابن منظور موجود ہیں جن کا شمار لغت عرب کی امہات الکتب میں ہوتا ہے۔ آؤ ان کے مطالعہ سے اس لفظ کی تحقیق کریں۔ ایک چیز پیش نظر رہے کہ صحاح کے مولف علامہ حمادبن اسماعیل الجوہری کا سن ولادت ٣٣٢ ھ اور سال وفات ٣٩٣ ھ یا ٣٩٨ ھ ہے اور لسان العرب کے مولف علامہ ابو الفضل جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور الافریقی المصری کا سن ولادت ٦٣٠ ھ اور سال وفات ٧١١ ھ ہے۔ یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ فتنہ انکار ختم نبوت سے صدہا سال پہلے یہ کتابیں لکھی گئی ہیں، ان کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے مذہبی تعصب یا ذاتی عقیدہ کے باعث یہ لکھا ہے تاکہ ان کا قول حجت نہ رہے بلکہ ان کی نگارشات اور ان کی تحقیقات اہل لغت کے اقوال کے عین مطابق ہیں۔ پہلے صحاح کی عبارت ملاحظہ فرمائیے۔ ختم اللہ لہ بخیر خدا اس کا خاتمہ بالخیر کرے۔ وختمت القران : بلغت اخرۃ۔ یعنی میں نے قرآن آخر تک پڑھ لیا۔ اختتمت الشیء : نقیض افتتحتہ : افتتاح کی نقیض اختتام ہے۔ والخاتم والخاتم بکسر التاء وفتحہا والختام والحاتام کلہ بمعنی وخاتمۃ الشیء اخرہ۔ یعنی خاتم خاتم۔ ختام۔ خاتام سب کا یک ہی معنی ہے اور کسی چیز کے آخر کو خاتمۃ الشیء کہتے ہیں۔ ومحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام نبیوں سے آخر میں تشریف لے آئے۔علامہ ابن منظور لسان العرب میں لکھتے ہیں : ختام الوادی، اقصاہ وختام القوم وخاتمہم وخاتمہم۔ اخرہم ومحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم الانبیاء علییہ وعلیہم الصلوۃ والسلام۔ وادی کے آخری کونے کو ختام الوادی کہتے ہیں۔ قوم کے آخری فرد کو ختام خاتم اور خاتم کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے۔ لسان العرب میں التہذیب کے حوالہ سے لکھا ہے : والخاتم والخاتم من اسماء النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفی التنزیل العزیز ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ای اخرہم ومن اماۂ العاقب ایضا ومعناہ اخر الانبیاء۔ یعنی خاتم اور خاتم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء گرامی میں سے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ یعنی سب نبیوں سے پیچھے آنے والا۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء میں سے العاقب بھی ہے اس کا معنی آخر الانبیاء ہے۔اہل لغت کی ان تصریحات سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خاتم کی تآء پر زیر ہو یا زبر اس کا معنی ” آخری “ ہے۔ اس معنی کی تائید کے لئے اہل لغت نے ایک دوسری آیت سے بھی استدلال کیا ہے وختامہ مسک ای اخرہ مسک۔ یعنی اہل جنت کو جو مشروب پلایا جائے گا اس کے آخر میں انہیں کستوری کی خوشبو آئے گی۔ختم نبوت کے منکرین اس موقع پر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ خاتم کا جو معنی آپ نے بیان کیا ہے (آخری) وہ یہاں مراد نہیں بلکہ اس کا دوسرا معنی مراد ہے اور یہ معنی بھی ان لغت کی کتابوں میں موجود ہے جن کا حوالہ آپ نے دیا ہے۔ جب ایک لفظ کے دو معنی ہوں، تو وہاں ایک معنی مراد لینے پر بضد ہونا اور دوسرے معنی کو ترک کردینا تحقیق حق کا کوئی اچھا مظاہرہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم بھی اس آیت کو مانتے ہیں اور اس کے معنی اپنی طرف سے نہیں گھڑتے تاکہ ہم پر تحریف قرآن کا الزام لگایا جائے بلکہ لغت عرب کے مطابق ہی اس کا مفہوم بیان کرتے ہیں۔ کسی کو ہم پر اعتراض کا حق نہیں پہنچتا۔صحاح اور لسان العرب دونوں میں خاتم کا معنی مہر یا مہر لگانے والا مذکور ہے۔ آیت کا یہی معنی ابلغ اور شان رسالت کے شایان ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انبیا پر مہر لگانے والے ہیں جس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہر لگا دی وہ نبوت کے شرف سے مشرف ہوگا اور جس پر مہر نہ لگائی، وہ نبوت کے منصب پر فائز نہیں ہوسکتا۔اس کے متعلق گزارش ہے کہ بیشک لغت کی کتابوں میں خاتم کا معنی مہر یا مہر لگانے والا موقوم ہے لیکن انہوں نے تصریح کردی ہے کہ مذکورہ آیت میں خاتم النبیین کا معنی آخر النبیین ہے۔ یہاں فقط یہی معنی مراد ہے اور یہ لوگ اگر مصر ہوں کہ یہاں خاتم کا دوسرا معنی مراد ہے تو اس سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مطالعہ کرتے ہوئے غورو تدبر سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے مہر سے مراد ڈاکخانہ کی مہر یا کسی افسر کی مہر سمجھی ہے کہ لفافہ یا کارڈ پر مہر ٹھپہ لگایا اور اسے آگے بھیج دیا یا کسی کی درخواست پر اپنی مہر ثبت کی اور اسے مناسب کاروائی کے لئے متعلقہ دفتر روانہ کردیا۔ حالانکہ مہر کا جو مفہوم اہل لغت نے لیا ہے وہ قطعا اس کے خلاف ہے۔ کاش انہیں بےجا تعصب اس امر کی اجازت دیتا کہ وہ ائمہ لغت کی عبارتوں میں غور کرتے۔ آئیے ! ہم آپ کی خدمت میں یہ عبارتیں پیش کرتے ہیں تاکہ آپ کسی صحیح فیصلہ پر پہنچ سکیں۔ لسان العرب میں ہے : ختمہ یختمہ ختما وختاما : طبعہ فھو مختوم ومختم شدد للمبالغۃ۔ یعنی ختم کا معنی مہر لگانا ہے اور جس پر مہر لگا دی جائے اس کو مختوم اور مبالغہ کے طور پر مختم کہتے ہیں۔اس کے بعد لکھتے ہیں : ومعنی ختم وطبع فی اللغۃ واحد وھو التغطیۃ علی الشی والاستیثاق عن ان لا یدخلہ شیء کما قال جل وعلا۔ ام علی قلوب اقفالھا۔ اس عبارت کا ترجمہ ذرا غور سے سنیے یعنی ختم اور طبع کا لغت میں ایک ہی معنی ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ دینا اور مضبوطی سے بند کردینا کہ اس میں باہر سے کسی چیز کے داخلہ کا امکان ہی نہ ہو۔پہلے زمانہ میں خلفاء، امراء، سلاطین وغیرہ اپنے خطوط کو لکھنے کے بعد کسی کاغذ کے لفافہ اور کپڑے کی تھیلی میں رکھ کر سربمہر کردیتے کہ جو کچھ لکھا جا چکا، اب اس کو سر بمہر کردیا گیا ہے تاکہ اس مہر کی موجودگی میں اس میں کوئی رد وبدل نہ کر دے۔ اگر کوئی ردو بدل کرے گا، تو وہ پہلے مہر توڑے گا اور جب مہر توڑے گا تو پکڑا جائے گا۔ اس پر احکام سلطانی میں تغیر وتبدل کرنے اور امانت میں خیانت کرنے کے سنگین الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس صورت میں خاتم النبیین کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلے انبیاء کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد یہ سلسلہ بند ہوگیا اور اس پر مہر لگادی گئی تاکہ کوئی کذاب، دجال اس میں داخل نہ ہو سکے۔ اگر کوئی شخص زبردستی اس زمرہ میں گھسنا چاہے گا تو پہلے مہر توڑے گا اور جب مہر توڑے گا تو پکڑا جائے گا اور اسے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔(تفسیرضیاء القرآن، جلد3، سورہ الاحزاب، زیر آیت 40)احادیث ختم نبوتعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ " مَثَلِي وَمَثَلَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ، وَيَعْجَبُونَ لَهُ، وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ۔      (بخاری، رقم الحدیث، 3535، جلد4، صفحہ186)حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی ہے۔ لوگ اس عمارت کے اردگرد پھرتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی، تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ۔حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ: قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى: رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَاتَ صَغِيرًا، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث 6194، جلد8، صفحہ 43)حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ ونہ فرماتے ہیں کہ اگر محمد کریمﷺ کے بعد نبی آنا ہوتا تو آپﷺ کے بیٹے ابراہیم زندہ رہتے لیکن آپ ﷺ  کے بعد کوئی نبی نہیں۔حَدَّثَنَا - سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ۔ (مسلم، رقم الحدیث2354، جلد4، صفحہ1828ترمذی وغیرہ)حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں مٹانے والا ہوں میرے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے اور میں اٹھانے والا ہوں لوگ میرے پیچھے اٹھیں گے اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ۔(مسلم، رقم الحدیث523، جلد1، صفحہ371)رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی۔ (١) مجھے جوامع الکلم سے نوازا گیا۔ یعنی الفاظ مختصر اور معانی کا بحر بےپیدا کنار۔ (٢) رعب کے ذریعے میری مدد فرمائی گئی۔ (٣) میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ (٤) میرے لیے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا اور اس سے تیمم کی اجازت دی گئی۔ (٥) مجھے تمام مخلوق کے لیے رسول بنایا گیا اور (٦) میری ذات سے انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ ۔عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث 3455، جلد4، صفحہ 169)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں سیاست کا کام انبیاء کرتے تھے جب بھی کوئی نبی فوت ہوجاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آ جاتا تھا مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى يَعْبُدُوا الأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔(ترمذی، رقم الحدیث2219، جلد4، صفحہ499)حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ۔۔ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَأَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ، وَهُوَ خَارِجٌ فِيكُمْ لَا مَحَالَةَ ۔(ابن ماجہ، رقم الحدیث 4077، جلد2، صفحہ 1359)حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا ہو۔ اب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ وہ ضرور تمہارے اندر ہی نکلے گا۔ ۔حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ»،۔ (ترمذی، رقم الحدیث 2272، جلد4صفحہ 533)رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا اور میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدِي آخِرُ الْمَسَاجِدِ۔مسلم، رقم الحدیث 1394، جلد2، صفحہ 1012(حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے پیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں، اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ۔ترمذی، رقم الحدیث 3686، جلد5، صفحہ 619حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ  رویت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا۔آئین پاکستان میں مسلم کی تعریف :۔مسلم سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ  تبارک و تعالی  ا خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں اور پیغمبر یا مذہبی مصلح   کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہوں اور نہ اسے مانتا ہوں جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوی کیا ہو یا جو دعوی کرے ۔غیر مسلم سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخص یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں کسی سے تعلق رکھنے والا ہو، کوئی شخص شامل ہے۔ (آئین پاکستان،صفحہ 331 )7 ستمبر 1974 کو دوسری آئینی ترمیم آئین کی دفعہ 260 میں مسلم کی تعریف کو شامل کر دیا گیا۔آرڈیننس بنام:’’قادیانی گروپ ‘لاہوری گروپ اور اَحمدیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیاں (امتناع وتعزیر)آرڈیننس1984ء‘‘کے ذریعے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان (ایکٹ: 45بابت1860ء‘باب:15)میں دفعہ:298B اور 298Cکی ترمیم واضافہ (298.B)بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لیے مخصوص القاب،اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال۔میجر کریمنل ایکٹ میں ہے۔298 ب ۔  مقدس شخصیتوں اور مقامات کے لیے مخصوص القابات و خطبات کا غلط استعمال : کوئی شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے خواہ وہ قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہو زبانی یا تحریری طور پر بذریعہ ظاہری فعل :الف۔ کسی شخص کو امیرالمومنین خلیفۃ المومنین خلیفہ المسلمین صحابی یا رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے حالانکہ وہ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ یا اصحاب میں سے نا ہو یاب ۔  وہ کسی ایسی خاتون کو ام المومنین کہے حالانکہ وہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے نہ ہو یاج ۔ کسی شخص کو اہل بیت کہے اگرچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت میں سے نہ ہو یاد ۔  اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے تو وہ اتنی سزا کا مستحق ہوگا جس کی معیاد تین سال تک ہو سکتی ہے اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے 2. جو کوئی قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہو جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتا ہو  بذریعہ الفاظ یا تحریری یا زبانی یا کسی نمایاں  فعل سے نماز سے پیشتر اس قسم کی اذان دے جیسی کہ اپنے عقیدے کے مطابق مسلمان دیتے ہیں تو وہ بھی دونوں سزاؤں میں سے ایک سزا کا مستحق ہوگا جس کی معیاد تین سال تک ہو سکتی ہے اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے 298 ج ۔  قادیانی گروپ کے کسی شخص کا اپنے آپ کو مسلمان کہنا یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا نشر اشاعت : جو شخص قادیانی گروپ لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہو جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہو یا کسی اور نام سے پکارا جاتا ہو جو براہ راست  یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے یا کہلوائے اپنے عقیدہ کو سلام کہے یا ایسے عقیدے کی تبلیغ کرے یا دوسرےکو اس کی زبانی یا تحریری دعوت دے یا کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو وہ سزائے قید کا مستحق ہوگا جو تین سال تک ہو سکتی ہے ۔ضابطہ ۔ قابل دست اندازی پولیس سمن ناقابل ضمانت نا قابل راضی نامہ مجسٹریٹ درج اول و دوم۔ میجر ایکٹ (کریمینل ) صفحہ 476 تا 478ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                  شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

ختم نبوت
مکمل فتویٰ