عام تلاش:

قبر

<p></p>

فلٹرز

Oct 20, 2026 7

قبر کے سامنے نماز پڑھنا | قبرستان میں نماز پڑھنا

الجواب بعون الملک الوھاب  بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیااگر قبرستان  میں  خالی جگہ  یا جنازہ گاہ میں نماز جنازہ  ادا کی جارہی ہو اور سامنے قبریں نہ  ہوں یا سامنے قبریں تو ہوں،لیکن درمیان میں کوئی چیز  حائل دیوار وغیرہ ہو تو  وہاں بلاکراہت نماز  جائز ہے اور اگر قبر سامنے ہو، درمیان میں کوئی حائل بھی نہ ہو  تو ایسی صورت میں نماز  جنازہ  مکروہ ہوگی۔اور نبی کریم ﷺ سے بعض قبور پر  عذر و مجبوری کی حالت میں  نماز جنازہ پڑھنا بھی  ثابت ہے جیسے مسجد کی خادمہ بوڑھی عورت کا جنازہ پڑھنا  اور اسی طر ح ایک اور صحابی کی نماز جنازہ قبر کے پاس پڑھنا بھی ثابت ہے۔  لہذا اس عمل کو شرکیہ یا مشرکانہ کہنا درست نہیں اور نکاح بھی سب کے قائم ہیں اورجن  نوجوانوں کے نکاح نہیں ہوئے ابھی تک وہ بھی نکاح کر سکتے ہیں۔  حکم شرعی کو صحیح نہ جاننے  اور صحیح بیان نہ کرنے والے اپنے انجام کی فکر کریں۔دلائل ملاحظہ فرمائیں۔  حدیث پاک میں ہے۔عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا ۔(مسلم، رقم الحدیث 972، جلد2، صفحہ 268، ترمذی، ابودود، مسند ابی یعلی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبا، المستدرک وغیرہ)روایت ہے حضرت مرثدغنوی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو ۔اسی کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے۔  اس طرح کے قبر نمازی کے سامنے بغیر آڑ ہو یہ حرام ہے اور اگر قبر دائیں بائیں یا پیچھے ہو یا سامنے ہی ہو مگر نمازی اور اس کے درمیان دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو بلا کراہت نماز جائز ہے بزرگوں کے مزار کے پاس برکت کے لیے مسجدیں بنانا اور ان مسجدوں میں برکت کے لیے نمازیں پڑھنا سنت انبیاء و سنت صحابہ ہے چنانچہ رب تعالی اصحاب کہف کے بارے میں فرماتا ہے لنتخذن علیھم مسجدا۔ یعنی مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ ہم ان کے غار پر مسجد بنائیں گے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر انور کے ارد گرد مسجد نبوی واقع ہے جہاں سجدے کرنے کی ہر مومن کو تمنا ہے یونہی ہر بزرگ کے مزار کے پاس مسجدیں بنی ہیں۔)مراۃ المناجیح، جلد2، صفحہ 477(ملا علی قاری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔ (وَلَا تُصَلُّوا) أَيْ: مُسْتَقْبِلِينَ. (إِلَيْهَا) لِمَا فِيهِ مِنَ التَّعْظِيمِ الْبَالِغِ، لِأَنَّهُ مِنْ مَرْتَبَةِ الْمَعْبُودِ فَجَمَعَ بَيْنَ الِاسْتِحْقَاقِ الْعَظِيمِ وَالتَّعْظِيمِ الْبَلِيغِ قَالَهُ الطِّيبِيُّ، وَلَوْ كَانَ هَذَا التَّعْظِيمُ حَقِيقَةً لِلْقَبْرِ أَوْ لِصَاحِبِهِ لَكَفَرَ الْمُعَظِّمُ، فَالتَّشَبُّهُ بِهِ مَكْرُوهٌ، وَيَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ كَرَاهَةَ تَحْرِيمٍ ۔(مرقاۃ، جلد3، صفحہ 1217)فیض القدیر میں ہے۔ (ولا تصلوا إليها) أي مستقبلين إليها لما فيه من التعظيم البالغ لأنه من مرتبة المعبود فجمع بين النهي عن الاستخفاف بالتعظيم والتعظيم البليغ قال ابن حجر: وذلك يتناول الصلاة على القبر أو إليه أو بين قبرين ۔۔(فیض القدیر، جلد6، صفحہ 390)غنیۃ المستملی میں ہے۔ویکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی المخرج او الی الحمام او الی القبر لان فیہ ترک تعظیم المسجد وفی الخلاصۃ ھذا اذا لم یکن بین یدی المصلی وبین ھذا الموضع حائل کالحائط وان کان حائطاً لایکرہ۔ (غنیةالمستملی:مکروھات الصلوٰۃ،ص:353)حبیب الفتاوی میں ہے۔ قبرستان میں قبر کے اوپر یا قبر کے سامنے ہوتو نماز پڑھنا منع مکروہ ہے۔(حبیب الفتاوی، جلد1، صفحہ 550)اور نبی کریم ﷺ سے بعض قبور پر  عذر و مجبوری کی حالت میں  نماز جنازہ پڑھنا بھی  ثابت ہے جیسے مسجد کی خادمہ بوڑھی عورت کا جنازہ پڑھنا  اور اسی طر ح ایک اور صحابی کی نماز جنازہ قبر کے پاس پڑھنا بھی ثابت ہے۔ عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا۔)مسلم، رقم الحدیث 954، جلد2، صفحہ 658()بخاری شریف و مسلم ابن ماجہ وغیرہ میں بوڑھی عورت کی قبر پر نماز جنازہ کی روایت مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے(شعبی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں۔بخاری شریف میں ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً أَوْ رَجُلًا كَانَتْ تَقُمُّ المَسْجِدَ وَلاَ أُرَاهُ إِلَّا امْرَأَةً فَذَكَرَ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى قَبْرِهَا۔)بخاری شریف، رقم الحدیث460، جلد1، صفحہ99( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے  روایت ہے کہ ایک عورت یا مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ ابورافع نے کہا، میرا خیال ہے کہ وہ عورت ہی تھی۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر نماز پڑھی۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                  شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                  محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2023۔12۔19

Oct 18, 2026 1,268

قبر پر اذان دینا

الجواب بعون الملک الوھاب                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیامردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر فجر کی اذان کے علاوہ جو بقیہ نمازوں کے لئےاذان مروج  ہے وہی بطور تلقین قبر پرپڑھی جائے گی۔اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اس پر خوب کلام فرمایا اور آذان کے کلمات کو احادیث سے ثابت فرمایا جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے۔جو دفن ہوچکا حقیقۃً مُردہ ہے اور اُسے بھی کلمہ پاک سکھانے کی حاجت کہ بعون اللہ تعالٰی جواب یاد ہوجائے اور شیطان رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشک اذان میں یہی کلمہ لاالٰہ الّا اللّٰہ تین جگہ موجود بلکہ اُس کے تمام کلمات جواب نکیرین بتاتے ہیں ان کے سوال تین ہیں (۱)من ربک تیرا رب کون ہے؟ (۲)مادینک تیرا دین کیا ہے؟ (۳)ما کنت تقول فی ھذا الرجل تُو اس مرد یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ اب اذان کی ابتدا میں اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اشھد ان لاالٰہ الااللّٰہ اشھد ان لاالٰہ الااللّٰہ اور آخر میں اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لاالٰہ الااللّٰہ سوال من ربک کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئیگا کہ میرا رب اللہ ہے اور اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ سوال ماکنت تقول فی ھذا الرجل کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیں اللہ کا رسول جانتا تھا اور حیّ علی الصلاۃ حی علی الفلاح جواب مادینک کی طرف اشارہ کریں گے کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن وستون ہے کہ الصلاۃ عمادالدین تو بعد دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعمیل ہے جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حدیث صحیح متواتر مذکور میں فرمایا۔                                                                                               (فتاوی رضویہ ج 5ص657)مزید تفصیل کے لئے دیکھیں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا رسالہ فتاوی رضویہ میں۔ ایذان  الاجر فی اذان القبر(دفن کے بعد قبر پر اذان کہنے کے جواز پر مبارک فتوٰی) (فتاوی رضویہ ج5ص653)                       ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                        ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                                                    محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2019۔04۔15

Oct 17, 2026 16

پرانے قبرستان میں تدفین کرنا کیسا؟

الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاقبروں کی بے حرمتی کرنا،   روندنا  ، اوپر چلنا  جائز نہیں کیونکہ اور بعد موت مسلمان کو تکلیف دینا  ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچانا ۔    البتہ قبروں کو روندنے ان پر چلنے اور ان کی بے حرمتی سے ہر ممکن بچا جائے ۔جب تک کسی  اور قبرستان میں جگہ موجود ہو اگرچہ دور ہی ہو  تو پرانی قبروں کو کھود کر اس میں نئی میت داخل کرنا جائز نہیں۔ اور اسی طرح برادری ایک قبرستان میں دفن ہے اس کی وجہ سے دوسری برادری کے لوگ بھی وہاں دفن ہونا چاہیں تو ایسا کرنا جائز نہیں۔ ایک موقف یہ ہے کہ اگر میت خاک  بھی ہو جائے تب بھی دوسری میت کو اسکی  قبر میں دفن کرنا جائز نہیں۔ دوسرا موقف یہ ہے کہ   جب  قبرستان میں جگہ بالکل ختم چکی ہو اور گردو نواح کے قبرستانوں میں بھی جگہ نہ ہو تو پھر پرانی قبریں جن کی میت کے بوسیدہ ہو جانےکا غالب گمان یا یقین ہو جائےتو ان قبروں کو کھود کر ان میں نئی میت دفن  کرنا جائز ہے یہ صرف اور صرف  ضرورت شدیدہ کے باعث اجازت ہے البتہ قبروں کو روندنے ان پر چلنے اور ان کی بے حرمتی سے ہر ممکن بچا جائے۔   اور اگر قبر کھودتے وقت  ہڈیاں نکل آئیں تو ان کو ایک طرف کر کے  مٹی کی آڑ یا دیوار دے کر ساتھ مردہ دفن کر سکتے ہیں۔دلائل ملاحظہ فرمائیں۔مصنف ابن ابی شیبہ، مرقاۃ المفاتیح میں ہے۔ والالفاظ من  مصنف ابن ابی شیبہ  عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ أَذَى الْمُؤْمِنِ فِي مَوْتِهِ كَأَذَاهُ فِي حَيَاتِهِ۔(مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث 11990 باب ما قالوا فی سب الموتی و ماکرہ من ذالک ج3ص46)حضرت سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی مسلمان کو بعد موت تکلیف دینا ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچانا۔حضور  سید عالم ﷺجن کی نعلین پاک کی خاک اگر مسلمان کی قبر پر پڑ جائے تو تمام قبر جنت کے مشک، عنبر سے مہک اُٹھے، اگر مسلمان کے سینے اورمنہ اور سر اور آنکھوں پر اپنا قدم اکرم رکھیں اس کی لذت و نعمت وراحت وبرکت میں ابدالآ باد تک سرشار وسرفراز رہے۔عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أَمْشِيَ عَلَى جَمْرَةٍ، أَوْ سَيْفٍ، أَوْ أَخْصِفَ نَعْلِي بِرِجْلِي، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْشِيَ عَلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ ۔ (سنن ابن ماجۃ    ،رقم الحدیث  1567، باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور   ، جلد1، صفحہ  499)عقبہ بن عامر  رضی اللہ عنہ سے مروی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بے شک چنگاری یا تلوار پرچلنا  یا جوتا پاؤں سے گانٹھنا  مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ، فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ۔)مسلم، رقم الحدیث 971، جلد2، صفحہ 667۔ اسی طرح ابو داود، نسائی  میں ہے(ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بے شک آدمی کو آگ کی چنگاری پر بیٹھا رہنا یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر جلد تک توڑ جائے اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ قبر پر بیٹھے۔ ۔حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی  عنہ حضور  سید عالم ﷺ  کی اتباع میں فرماتے ہیں:لان اطاء علی جمرۃ احب الی من ان اطاء علٰی  قبر مسلم۔( الترغیب والترتیب الترھیب من الجلوس علی القبر الخ، مصطفی البابی مصر،ج4،ص372) بے شک مجھے چنگاری  پر پاؤں رکھنا زیادہ پیارا ہے مسلمان کی قبر پرپاؤں رکھنے سےاور ایک مقام پر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی  عنہ اس کی وجہ ان الفاظ سے بیان فرمائی ۔کسی نے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا ، فرمایا: کما کرہ اذای المؤمن فی حیاتہ فانی اکرہ اذاہ بعد موتہ  اخرجہ سعید بن منصور فی سننہ کما فی شرح الصدور۔( شرح الصدور،باب تأذیہ سائروجوہ الاذی   ،خلافت اکیڈمی، منگورہ سوات،    ص 126) میں جس طرح مسلمان کی ایذا اس کی زندگی میں مکروہ جانتا ہوں یونہی بعد موت اس کی ایذا کو ناپسند کرتاہوں ۔ اسے سعیدبن منصور نے اپنی سنن میں بیان کیا جیسا کہ شرح الصدور میں ہے۔سیدی عبدالغنی بابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں : قال الوالد رحمہ اﷲ تعالٰی  فی شرح علی الدرر ویکرہ ان یوطء القبر لماروی عن ابن مسعود الخ و ذکر اثرالذی رویناہ۔(حدیقہ ندیہ،الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل ،نوریہ رضویہ، فیصل آباد،ج2،ص504) والد صاحب نے درر کی شرح میں فرمایا کہ قبر کا روندنا مکروہ ہے جیسا کہ ابنِ مسعود رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے مروی ہے الخ، پھر آپ نے وہی اثر ذکر کیا جو ہم روایت کرچکے ہیں ۔اور محیط سے نقل فرمایا : ۔یکرہ ان یطاء علی القبر  بالرجل ویقعد علیہ ۔(حدیقہ ندیہ،الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل ،نوریہ رضویہ، فیصل آباد،ج2،ص504)قبر کو پیر وں سے روندنا او راس پر بیٹھنا مکروہ ہےفتاوٰی  عالمگیری میں ہے :۔ ویکرہ ان یبنی علی القبر اویقعد اوینام علیہ اویطاء علیہ الخ۔( فتاوٰی  ہندیۃ     ،الفصل السادس فی القبرو الدفن،    نورانی کتب خانہ،پشاور ،ج1،ص166)(عین)  قبر پر عمارت بنانا، بیٹھنا، سونا یا روندنامکروہ ہے ۔تحفۃ الفقہاء، بدائع اور محیط وغیرہ میں ہے کہ امام اعظم  ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ  نےقبر کا روندنا ، بیٹھنا، سونا، اس پرقضائے حاجت کرنا مکروہ کہا ہے، اسی طرح ابنِ امیر الحاج نے حلیہ میں نقل کیا                                           ان اباحنیفۃ کرہ وطء القبر ۔( بدائع الصنائع،فصل فی سُنۃ الدفن،ایچ ایم سعیدکمپنی،کراچی،ج1،ص320وتحفۃ الفقہاء،باب الدفن وحکم الشہداء،   دارالکتب العلمیۃ ،بیروت        ، ج2،ص257)بے شک امام اعظم  ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ  نے قبر کا روندنا مکروہ قراردیاہےنورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے :۔ ندب زیارتھا من غیر ان یطأ  القبور۔ (مراقی الفلاح علی ھامش الطحطاوی،فصل فی زیارۃ القبور،نورمحمد کارخانہ تجارت کتب ،کراچی،ص 340) زیارت قبور مستحب ہے مگر قبریں نہ روندی جائیں ۔پھر آگے اس کی وجہ بیان فرمائی  : کرہ وطؤھا بالاقدام لما فیہ من عدم الاحترام۔(مراقی الفلاح علی ھامش الطحطاوی،فصل فی زیارۃ القبور،نورمحمد کارخانہ تجارت کتب ،کراچی،ص 340)قبروں کو پیروں سے روندنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں بےحرمتی ہے۔طریقہ محمدیہ میں قبرون کوروندنا پاوں کی آفات میں سے قراردیاگیاہے : من اٰفات الرجل المشی علی المقابر ۔(طریقہ محمدیہ،  الصنف الثامن فی آفات الرجل،مطبع ہندو پریس،دہلی،ج2،ص259)   پَیر کی آفتوں میں سے قبروں کاروندنا ہے ۔امام علامہ محقق علی الاطلاق ان لوگوں پر اعتراض فرماتے ہیں جن کے اعزّاء واقراباء کے گرد مخلوق دفن ہے،وہ ان قبروں کو روند تے ہوئے اپنے عزیزوں کی قبروں تک جاتے ہیں، انھیں چاہئے قبرستان کے کنارے سےزیارت اور دعا کرلیں اور ان کی قبروں کے قریب نہ جائیں۔یکرہ الجلوس علی القبرو وطؤہ فما یصنعہ الناس ممن وفنت اقاربہ ثم دفن حوالیھم خلق من وطأتک القبور الی ان یصل الٰی  قبر قریبہٖ مکروہ۔( فتح القدیر،   فصل فی الدفن،مکتبہ نوریہ رضویہ،سکھر،ج2،ص102) قبرپر بیٹھنا اور اس کوروندنا مکروہ ہے، تووہ لوگ جن کے رشتہ داروں کے گرد دوسروں کی قبریں ہوں ان کا ان قبروں کو روندنا اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر تک پہنچنے کے لیے مکروہ ہے ۔پہلا موقف :۔تارتار خانیہ و امدادالفتاح میں ہے : إذَا صَارَ الْمَيِّتُ تُرَابًا فِي الْقَبْرِ يُكْرَهُ دَفْنُ غَيْرِهِ فِي قَبْرِهِ لِأَنَّ الْحُرْمَةَ بَاقِيَةٌ، وَإِنْ جَمَعُوا عِظَامَهُ فِي نَاحِيَةٍ ثُمَّ دُفِنَ غَيْرُهُ فِيهِ تَبَرُّكًا بِالْجِيرَانِ الصَّالِحِينَ، وَيُوجَدُ مَوْضِعٌ فَارِغٌ يُكْرَهُ ذَلِكَ ۔( فتاوٰی تاتار خانیۃ    الجنائز، القبر والدفن    ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ     ۲/ ۱۷۲)یعنی اگر میّت بالکل خاک ہوجائے تب بھی اس کی قبر میں دوسرے کو  دفن کرنا ممنوع ہے کہ حرمت اب بھی باقی ہے، اور اگر مزاراتِ صالحین کے قرب کی برکت حاصل کرنے کی غرض سے میّت کی ہڈیاں ایک کنارے جمع کردیں تو  اب بھی ممنوع ہے جبکہ فارغ جگہ دفن کو مل سکتی ہے۔(ت)دوسرا موقف:۔فتاوی رضویہ میں ہے۔  میّت بالکل مٹی ہوگئی ہے اور اس کی ہڈی بھی باقی نہیں رہی ہے اس واسطے کہ قبر ابھی تک کھودی نہیں کی گئی ہے او رنہ میّت کے مٹی ہو نے کا قرآن اور حدیث میں کوئی وقت مقرر ہوا ہے کہ اتنی مدت کے بعد میّت کی ہڈیاں  بھی مٹی ہوجاتی ہیں، بلکہ تجربے سے بازہا مشاہدہ ہواہے کہ کسی بہت پرانی بستی کے اطراف میں کوئی جگہ کھودی جائے تواس میں قبور نکلیں جن میں ہڈیاں ( بلکہ بعض کے ابدان) اب تک باقی صحیح وسلامت تھیں، کتبوں سے تین تین چار چار صدیوں کی قبور معلوم ہوتی تھیں تو بلا دلیل بلا ضرورت شرعی کے کسی ممنوع امرکا کسی مبہم روایت کی بناپر مرتکب ہونا ہرگز جائز نہیں ہے۔ اگر معترض پھرعود کرے اور کہے کہ بمبئی وغیرہ عظیم  شہروں میں قبور کھود کر ان میں دوسرے اموات دفن کئے جاتے ہیں، تو اگر قبور کھودنے سے اموات کی توہین ہوتی ہے توان شہروں میں یہ کام کیوں ہوتا ہے، تو جواب اس کا یہ ہے کہ ان شہروں میں جگہ بہت تنگ ہے، قبرستانوں  میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ میّت کے لیے الگ الگ قبرہو، لہذا اس ضرورت شدیدہ سے یہ جائز ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات  ( بوقت ضرورت منع کردہ چیزیں بھی جائز ہوجاتی ہیں ۔ت) قاعدہ متفقہ ہے۔کبیری شرح منیہ میں ہے : ولا یحفر قبرلدفن اخرما لم یبل الاول فلم یبق لہ عظم الاّ عند الضرورۃ بان لم یوجد مکان سواہ  الخ۔دوسرے مردہ کو دفن کرنے کے لیے قبر نہ کھودی جائے جب تک پہلا مردہ بوسیدہ نہ ہوجائے یہاں تک کہ اس کی ہڈیاں باقی نہ رہیں مگر بوقت ضرورت قبر کھودنا جائز ہے جبکہ اس کے بغیر کوئی دوسری جگہ میسر نہ ہو الخ (ت)۔ (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الجنائز    سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۶۰۷) (فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 438) ۔فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر  فرماتے ہیں ۔میت اگرچہ خاک ہوگیا ہو بلا ضرورت شدید اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا جائز نہیں جیسا کہ تاتارخانیہ وغیرہا میں فرمایا۔ بہر حال خاک ہو جانے سے پہلے بلا مجبوری کسی کے نزدیک جائز نہیں۔(فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 390)فتاوی شامی میں ہے۔وَلَا يُحْفَرُ قَبْرٌ لِدَفْنِ آخَرَ إلَّا إنْ بَلِيَ الْأَوَّلُ فَلَمْ يَبْقَ لَهُ عَظْمٌ إلَّا أَنْ لَا يُوجَدَ فَتُضَمُّ عِظَامُ الْأَوَّلِ وَيُجْعَلُ بَيْنَهُمَا حَاجِزٌ مِنْ تُرَابٍ ۔(فتاوی شامی، جلد2، صفحہ 233) اسی طرح فتح القدیر میں ہے)دوسری دفعہ دفن کرنے کے لئے قبر کو نہ کھودا جائے مگر جب پہلی میت بوسیدہ ہو جائے اور اس  کی ہڈیاں باقی نہ رہی ہوں مگر یہ کہ کوئی اور جگہ نہ پائی جائے پس پہلے کی ہڈیاں ساتھ ملا دی جائیں گی اور درمیان میں مٹی کی آڑ  بنا دی جائے گی۔فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :لایدفن ا ثنان فی قبرواحد الا لضرورۃ ولایحفر قبر لدفن اٰخر الا ان بلی الاول فلم یبق لہ عظم الا ان لایوجد بد فیضم عظام الاول ویجعل بینھما حاجز من تراب۔(۱؎ فتح القدیر   فصل فی الدفن    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲/ ۱۰۲) ۔یعنی بلامجبوری ایک قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، نہ بلامجبوری دوسرے کے دفن کے لئے قبر کھودنے کی اجازت، مگر جبکہ پہلا بالکل خاک ہوگیا ہو کہ اس کی ہڈی تک نہ رہی، ہاں مجبوری ہو تو ہڈیاں ایک طرف جمع کرکے انھیں اور اس میّت میں مٹی کی آڑ قائم کردیں ۔(ت)امام محمد محمد   محمد  ابن امیر الحاج رحمہ اﷲ تعالٰی حلیہ میں فرماتے ہیں : یکرہ ان یدفن فی القبر الواحد اثنان الالضرورۃ  وبھذا تعرف کراھۃ الدفن فی الفساقی، خصوصا ان کان فیھا میّت لم یبل، واما ما یفعلہ جھلۃ اغبیاء من الحفارین وغیرہ فی المقابر المسبلۃ العامۃ وغیرھا من نبش القبور  التی لم یبل اربابھا وادخال اجانب علیھم، فھو من المنکر الظاھر الذی ینبغی لکل واقف علیہ انکار ذلک علی متعاطیہ بحسب الاستطاعۃ فان کف  والا دفع الٰی اولیاء الامور  وفقھم اﷲ تعالٰی لیقا بلوہ بالتادیب،  ومن المعلوم ان لیس من الضرورۃ المبیحۃ جمع میّتین ابتداء فی قبر واحد لقصد دفن الرجل مع قریبہ او ضیق محل الدفن فی تلک المقبرۃ مع  وجود غیرہا وان کانت تلک المقبرۃ مما یتبرک بالدفن فیھا البعض من بھا من الموتٰی فضلا عن کون ھذہ الامور  و ما جری مجرھا مبیحۃ للنبش وادخال البعض علی البعض قبل البلی مع  مایحصل فی ضمن ذلک من ھتک حرمۃ المیّت الاول وتفریق اجزائہ فالحذر من ذلک ۔یعنی بلا مجبوری ایک قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، اور یہیں سے ظاہر ہو ا کہ تَہ خانوں میں دفن منع ہے خصوصاً جبکہ وہاں کوئی میّت موجود ہو جو  ابھی خاک نہ ہوا  او ر وہ جو بعض گورکن وغیرہ جاہلان بد عقل کرتے ہیں کہ وقفی  یا غیر  وقفی قبرستان میں وہ قبر جس کا مردہ ہنوز خاک نہ ہوا کھود کر دوسرا دفن کردیتے ہیں، یہ صریح معصیت ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ حتی الامکان انھیں ایسا کرنے سے خود روکے، او راس کے روکے نہ رُکیں تو حکام کو اطلاع دیں کہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں، اور شریعت سے معلوم ہے کہ کسی کو اس کے عزیز  یا تبرک کے لئے کسی مزار کے  پاس  دفن کرنے کی غرض سے ابتداء دو جنازے ایک قبر میں رکھنا حلال نہیں جبکہ وہاں دوسرا مقبرہ موجود ہو، نہ کہ ان وجوہ کے لیے اگلی قبر کھود نا، او ر ایک کے خاک ہونے سے  پہلے دوسرے کا اس میں داخل کرنا، یہ کیسے حلال ہوسکتا ہے حالانکہ اس میں پہلے میّت کی ہتک حرمت اور اس کے اجزاء کا متفرق کرنا ہے تو خبردار اس حرکت سے  بچو       ۔(فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 378، 388)ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                                        شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفضیاء المصطفیٰ نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2023۔07۔20

Oct 10, 2026 17

میت کو تلقین کرنے کا طریقہ

الجواب بعون الملک الوھاب                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیادفن کرنے کے بعد تلقین کرنا مستحب و مستحسن ہے۔ تلقینہ بعد الدفن حسن۔(طحطاوی علی المراقی ص302)یستحب تلقین میت بعد الدفن۔                       (احیاء العلوم ج4ص353) جوہرہ نیرہ میں ہے۔ اما تلقین المیت فی القبر فمشروع عند اھل السنۃ۔(جوہرہ نیرہ ج 1ص122 )درمختار میں ہے۔ فی الجوھرہ انہ مشروع عند اھل السنۃ۔                     (درمختار ج 3ص81 بیروت)فتاوی رضویہ میں مردوں اور عورتوں کی تلقین کا طریقہ اکٹھا لکھا ہوا ہے جس کو ہم نے عوام کی سہولت کے لئے الگ الگ تفصیل سے لکھ دیا ہے۔ مَرْدُوں کی تلقین کا طریقہ:۔حدیث میں ہے حضور سید عالمﷺ فرماتے ہیں جب تمھارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی قبر پر مٹی برابر کر چکو تو تم میں سے ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر کہے۔ یَا فُلاَنَ ابْنَ فُلاَنَۃَ کہ وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا پھر کہے  یَا فُلاَنَ ابْنَ فُلاَنَۃَ  وہ کہے گا ہمیں ارشاد کر اللہ تعالی تجھ پر رحم فرمائے مگر تمھیں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی پھر کہے اُذْکُرْمَاخَرَجْتَ عَلَیہِ مِنْ الدُّنْیَا شَھَادَۃَ اَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ‘ وَ رَسُوْلُہ‘ﷺ وَ اَنَّکَ رَضِیْتَ بِاللَّہِ رَبًّا وَ بِالِاسْلَامِ دِیْنًا وَ بِمُحَمَّدٍﷺ نَبِیاً وَ بِالْقُرْآنِ اِمَامًا۔ترجمہ:۔ تو اس کو یاد کر جس پر تو دنیا سے نکلا یعنی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ تو اللہ کے رب اور اسلام کے دین اور محمد ﷺ کے نبی اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔نکرین ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے چلو ہم اس کے پاس کیا بیٹھیں گے جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے اس پر کسی نے عرض کی! یا رسول اللہﷺ اگر اس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو فرمایا تو حوا کی طرف نسبت کرے۔راشد بن سعد و ضمرہ بن حبیب و حکیم بن عمیر کہ تینوں صاحب اجلہ آئمہ تابعین سے ہیں فرماتے ہیں۔ جب قبر پر مٹی برابر کر چکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا ہے کہ میت سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا جائے۔ یَا فُلَانُ قُلْ لَا اِلَہَاِلّااللّٰہُ تین بار، پھر کہا جائے قُلْ  رَبِّیَ اللّٰہ وَ دِیْنِیَ الاِسْلَامُ وَ نَبِیِّی مُحَمَّدٌﷺ۔     (معجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث 7979ج8ص249، فتاوی رضویہ ج9ص221تا 223)ترجمہ:۔ اے فلاں بن فلاں تو کہہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر کہا جائے گا۔ تو کہہ میرا رب اللہ  ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔عورتوں کی تلقین کا طریقہ:۔حدیث میں ہے حضور سید عالمﷺ فرماتے ہیں جب تمھارا کوئی مسلمان بھائی(بہن) مرے اور اس کی قبر پر مٹی برابر کر چکو تو تم میں سے ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر کہے۔ یَا فُلاَنَۃَ بِنْتَ  فُلاَنَۃکہ وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا پھر کہے یَا فُلاَنَۃَ بِنْتَ  فُلاَنَۃَ وہ کہے گا ہمیں ارشاد کر اللہ تعالی تجھ پر رحم فرمائے مگر تمھیں اس کے کہنے کی خبر نہیں ہوتی پھر کہے اُذْکُرِی مَا خَرَجْتِ عَلَیہِ مِنْ الدُّنْیَا شَھَادَۃَ اَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ‘ وَ رَسُوْلُہ‘ﷺ وَ اَنَّکِ رَضَیْتِ بِاللَّہِ رَبًّا وَ بِالِاسْلَامِ دِیْنًا وَ بِمُحَمَّدٍﷺ نَبِیاً وَ بِالْقُرْآنِ اِمَامًا۔ترجمہ:۔ تو اس کو یاد کر جس پر تو دنیا سے نکلی یعنی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ تو اللہ کے رب اور اسلام کے دین اور محمد ﷺ کے نبی اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھی۔نکرین ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے چلو ہم اس کے پاس کیا بیٹھیں گے جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے اس پر کسی نے عرض کی! یا رسول اللہﷺ اگر اس کی ماں کا نام معلوم نہ ہو فرمایا تو حوا کی طرف نسبت کرے۔راشد بن سعد و ضمرہ بن حبیب و حکیم بن عمیر کہ تینوں صاحب اجلہ آئمہ تابعین سے ہیں فرماتے ہیں۔ جب قبر پر مٹی برابر کر چکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا ہے کہ میت سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا جائے۔ یَا فُلَانَۃُ قُوْلِی لَا اِلَہَ اِلّااللّٰہُ   تین بار، پھر کہا جائے قُوْلِی رَبِّیَ اللّٰہ وَ دِیْنِیَ الاِسْلَامُ وَ نَبِیِّی مُحَمَّدٌﷺ۔(معجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث 7979ج8ص249، فتاوی رضویہ ج9ص221تا 223)ترجمہ:۔ اے فلانہ تو کہہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر کہا جائے گا۔ تو کہہ میرا رب اللہ ہے اور میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔علامہ شامی علیہ الرحمہ مطلب فی التلقین بعد الموت میں خوب تحریر فرمایا۔          (دیکھئے ردالمحتار ج2ص191ایچ ایم سعید کمپنی )ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب                                     شیر محمد خانمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ: 2015۔09۔20

Oct 10, 2026 116

قبر کا طواف

الجواب بعون الملک الوھاب                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاراجح قول یہ ہے کہ قبر کا طواف ممنوع ہے کیونکہ طواف کرنا کعبۃ اللہ کے ساتھ خاص ہےاس لئے کسی اور جگہ ،مزار یا قبر کا طواف کرنا بھی ممنوع ہے ۔ لہذا ایسے امور سے ہر صورت میں اجتناب کرنا چاہئے۔ملا علی قاری علیہ الرحمہ اپنی کتاب المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط میں تحریر فرماتے ہیں۔ولا یطوف ای لایدور حول البقعۃ الشریفۃ لان الطواف من مختصات الکعبۃ المنیفۃ فیحرم حول قبور الانبیاء والاولیاء و لا عبرۃ بما یفعلہ العامۃ الجھلۃ و لو کانوا فی صورۃ المشائخ والعلماء۔( المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط فصل ولیغتنم ایام مقامہ بالمدینۃ االمشرفۃ صفحہ293)اعلی حضرت علیہ الرحمہ طواف کی اقسام اور ان کے تفصیلی احکام تحریر کرنے کے بعد فتوی کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں کہ  ہاں یہاں یہ امر ضرور قابل لحاظ ہے کہ یہاں نیت جائز و نیت حرام ایسی متقارب ہیں جیسے آنکھ کی سیاہی سے سپیدی، تو عوام کے لئے اس میں ہرگز خیر نہیں ۔۔۔۔۔۔یہ بحمد اللہ تحقیق حکم ہے۔ اور احتراز و احتیاط ہر طرح اسلم ہے و باللہ التوفیق و اللہ تعالی اعلم ۔ ۔(  فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 400)فتاوی رضویہ میں قبر کے طواف کے بارے میں سوال ہوا ہو تو اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ راجح یہ ہے کہ ممنوع ہے۔مزید برآں تحریر فرمایا کہ مزار کا طواف محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانہ کعبہ ہے۔  (فتاوی رضویہ جلد9،  صفحہ528)بہار شریعت میں ہے۔ قبر کا طوافِ تعظیمی منع ہے۔    (بہار شریعت، جلد1، صفحہ850، حصہ چہارم)ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب          شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                     ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ: 2021۔02۔03

Oct 02, 2026 22

قبر پر پانی چھڑکنا کیسا

الجواب بعون الملک الوھاب                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیابعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے اور اگر مرورِ زمان سے اس کی خاک منتشر ہوگئی ہوا ور نئی ڈالي گئی یا منتشر ہوجانے کا احتمال ہو تو اب بھی پانی ڈالا جائے کہ نشانی باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے بہ علل فی الدر وغیرہ ان لایذھب الاثر فیمتھن  ( درمختا وغیرہ میں یہ علّت بیان فرمائی ہے کہ نشانی مٹ جانے کے سبب بے حرمتی نہ ہو ۔ت) اس کے لئے کوئی دن معین نہیں ہوسکتا ہے جب حاجت ہو اور بے حاجت پانی کا ڈالنا ضائع کرنا ہے اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں ، اور عاشورہ کی تخصیص محض بے اصل وبے معنی ہے واﷲ تعالٰی اعلم(فتاوی رضویہ ج9ص373)ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ: 2016۔11۔4