عام تلاش:

ایصال ثواب

<p></p>

فلٹرز

Sep 07, 2026 52

ایصال ثواب کا طریقہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک

الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیااعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو دنیا سے جانے کے بعد جو ثواب قرآن مجید کا تنہا یا کھانے وغیرہ کے ساتھ پہنچاتے ہیں عرف میں اسے فاتحہ کہتے ہیں اس میں سورۃ فاتحہ پڑھی جاتی ہے۔ اولیائے کرام کو جو ایصال ثواب کرتے ہیں اسے تعظیما نذرونیاز کہتے ہیں۔ سورۃ فاتحہ وآیتہ الکرسی اور تین بار یا سات بار یا گیارہ بار سورۃ اخلاص، اول آخر 3-3 یا زائد بار درود شریف پڑھیں ۔ اس کے بعد دونوں ہاتھ اٹھا کر عرض کرے کہ الہی ! میرے اس پڑھنے اور اگر کھانا کپڑا وغیرہ بھی ہوں تو ان کا نام بھی شامل کرے اور اس پڑھنے اور ان چیزوں کے دینے پر ) جو ثواب مجھے عطا ہوا سے میرے عمل کے لائق نہ دے، اپنے کرم کے لائق عطا فرما۔ اور اسے میری طرف سے فلاں ولی اللہ مثلاً حضور پر نورسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں نذر پہنچا، اور ان کے آبائے کرام اور مشائخ عظام واولا د امجاد ومریدین ومحبین اور میرے ماں باپ اور فلاں اور فلاں اور سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے روز قیامت تک جتنے مسلمان ہو گزرے یا موجود ہیں یا قیامت تک ہوں گے سب کو۔( احکام شریعت ، صفحہ 139)مزید برآں تحریر فرمایا:۔ فاتحہ ایصال ثواب کا نام ہے جو کچھ قرآن مجید و درود شریف سے ہو سکے پڑھ کر ثواب نذر کرے اور ہمارے خاندان کا معمول یہ ہے کہ سات بار درود غوثیہ پھر ایک بار الحمد شریف و آیتہ الکرسی پھر سات بار سورہ اخلاص پھر تین بار درود غوثیہ درود غوثیہ یہ ہے:اللهم صل على سيدنا و مولانا محمد معدن الجودو الكرم و على الہ بارک وسلم اور فقیر اتنا زائد کرتا ہے۔وعلى اله الكرام و ابنه الكريم وامته الکریم و بارک وسلم۔( احکام شریعت، صفحہ 248۔ بک کار نر پرنٹرز مین بازار جہلم)ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                                        شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

ایصال ثواب
مکمل فتویٰ