طلاق دینے والوں کے نام اہم پیغام
طلاق دینے والے ایک مجلس میں ہرگز تین طلاق اکٹھی نہ دیا کریں نہ ہی عرضی نویس حضرات لکھا کریں
<p></p>
طلاق دینے والے ایک مجلس میں ہرگز تین طلاق اکٹھی نہ دیا کریں نہ ہی عرضی نویس حضرات لکھا کریں
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاعدت کے اندر منگنی کرنا یا صراحۃً نکاح کا پیغام دینا یا رشتہ طے کرنا منع ہے۔ ارشارۃً کہہ سکتا ہے جیسے کہ مجھے نکاح کرنا ہے یا کہے کہ جس عورت میں یہ یہ اوصاف ہوں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ قرآن پاک میں ہے۔وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ۔(پارہ2، سورہ بقرۃ، آیت 235)ترجمہ ضیاٗ القرآن:۔۔ اور کوئی گناہ نہیں تم پر اس بات میں کہ اشارہ سے پیغام نکاح دو اِ ن عورتوں کو یا جو چھپائے ہو تم اپنے دلوں میں جانتا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم ضرور اس کا ذکر کرو گے البتہ نہ وعدہ لینا ان سے خفیہ طور پر بھی مگر یہ کہ کہو (ان سے) شریعت کے مطابق کوئی بات اور نہ پکی کرلو نکاح کی گرہ یہاں تک کہ پہنچ جائے عدت اپنی انتہا کو اور جان لو کہ یقیناً اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے سو اس ڈرتے رہو اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا حلم والا ہے۔بدائع الصنائع میں ہے۔وَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْأَجْنَبِيِّ خِطْبَةُ الْمُعْتَدَّةِ صَرِيحًا سَوَاءٌ كَانَتْ مُطَلَّقَةً أَوْ مُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، أَمَّا الْمُطَلَّقَةُ طَلَاقًا رَجْعِيًّا فَلِأَنَّهَا زَوْجَةُ الْمُطَلِّقِ لِقِيَامِ مِلْكِ النِّكَاحِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ فَلَا يَجُوزُ خِطْبَتُهَا كَمَا لَا يَجُوزُ قَبْلَ الطَّلَاقِ. وَأَمَّا الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا أَوْ بَائِنًا وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَلِأَنَّ النِّكَاحَ حَالَ قِيَامِ الْعِدَّةِ قَائِمٌ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ لِقِيَامِ بَعْضِ آثَارِهِ كَالثَّابِتِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ فِي بَابِ الْحُرْمَةِ وَلِأَنَّ التَّصْرِيحَ بِالْخِطْبَةِ حَالَ قِيَامِ النِّكَاحِ مِنْ وَجْهِ وُقُوفِ مَوْقِفِ التُّهْمَةِ وَرَتَعَ حَوْلَ الْحِمَى؛ وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقِفَنَّ مَوَاقِفَ التُّهَمِ» وَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «مَنْ رَتَعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ» فَلَا يَجُوزُ التَّصْرِيحُ بِالْخِطْبَةِ فِي الْعِدَّةِ أَصْلًا. وَأَمَّا التَّعْرِيضُ فَلَا يَجُوزُ أَيْضًا فِي عِدَّةِ الطَّلَاقِ وَلَا بَأْسَ بِهِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ،۔ (بدائع الصنائع، جلد3، صفحہ 204)فتاوی عالمگیری میں ہے۔ ۔ (الْقِسْمُ السَّادِسُ الْمُحَرَّمَاتُ الَّتِي يَتَعَلَّقُ بِهَا حَقُّ الْغَيْرِ) . لَا يَجُوزُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ زَوْجَةَ غَيْرِهِ وَكَذَلِكَ الْمُعْتَدَّةُ، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ. سَوَاءٌ كَانَتْ الْعِدَّةُ عَنْ طَلَاقٍ أَوْ وَفَاةٍ أَوْ دُخُولٍ فِي نِكَاحٍ فَاسِدٍ أَوْ شُبْهَةِ نِكَاحٍ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ ۔ (فتاوی عالمگیری، جلد1، صفحہ 280)بہار شریعت میں ہے۔ جو عورت عدت میں ہو اُس کے پاس صراحۃً نکاح کا پیغام دینا حرام ہے اگرچہ نکاح فاسد یا عتق کی عدت میں ہوا ور موت کی عدت ہو تو اشارۃًکہہ سکتے ہیں اور طلاق رجعی یا بائن یا فسخ کی عدت میں اشارۃًبھی نہیں کہہ سکتے اور وطی بالشبہہ یا نکاح فاسد کی عدت میں اشارۃً کہہ سکتے ہیں اشارۃً کہنے کی صورت یہ ہے کہ کہے میں نکاح کرنا چاہتاہوں مگر یہ نہ کہے کہ تجھ سے، ورنہ صراحت ہو جائیگی یا کہے میں ایسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں جس میں یہ یہ وصف ہوں اور وہ اوصاف بیان کرے جو اس عورت میں ہیں یا مجھے تجھ جیسی کہاں ملیگی۔(درمختار ، عالمگیری) ۔(بہار شریعت، جلد2، صفحہ 244)ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف ما کتب شیخنا فھو صحیح ضیاء المصطفیٰ نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا ومصلیا اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا طلاق سمجھو تو شوہر کے اس قول سے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ جیسا کہ فتاوی امام قاضی خان میں ہے ۔ امراۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ ۔۔۔۔۔۔۔۔و لو قال الزوج دادہ دادہ انکار،او قال کردہ آنکارلا یقع الطلاق و ان نوی ، کانہ قال بالعربیۃ احسبی انک طالق ، و ان قال ذالک ، لا یقع وان نوی ۔(فتاوی قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ج1ص457،مکتبہ رشیدیہ ) ترجمہ :۔ بیوی نے اپنے شوہر سے کہا ۔’’مجھے طلاق دے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔(یہاں کئی کلمات ذکر کرنے کے بعد امام قاضی خان لکھتے ہیں )شوہر نے جواب میں کہا : تو دی ہوئی یا کی ہوئی خیال کر لے ۔ تو اگرچہ شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ کلمات کہے ہوں ، (تب بھی ان الفاظ سے )طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ یہ کلمات ایسے ہیں ، جیسے کوئی شوہر عربی میں اپنی بیوی سے کہے ،’’سمجھو کہ تجھے طلاق ہے (یایہ کہ تم طلاق سمجھو )، تو اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے بھی یہ کلمات کہے ہوں ، تب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ (اس لئے کہ طلاق انشاء ات میں سے ہے اور یہ انشاء نہیں ، کیونکہ انشاء کا مطلب ہے قصد و یقین کے ساتھ کوئی بات نافذ کرنا )۔(تفھیم المسائل ج5ص388) اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں یوں رقمطراز ہیں ۔ صورت مستفسرۃ میں طلاق نہ ہوئی ۔ کما بیناہ فی فتاوئنا و نص فی الخانیہ ان احسبی انک طالق لیس بطلاق و فی الھندیہ عن الخلاصۃ امراۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال دادہ انگار او کردہ انگار لا یقع و ان نوی ۔ جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے اور خانیہ میں نص موجود ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ تو طلاق سمجھ لے یہ طلاق نہیں ہے اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ مجھے طلاق دے تو خاوند نے جواب میں کہا تو (اس کو )طلاق دی ہوئی یا طلاق کی ہوئی سمجھ لے ‘‘تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ اس سے طلاق کی نیت کی ہو ۔ (فتاوی رضویہ ج13ص243,244)ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب شیر محمد خان مفتی دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ الشریفہ ضلع سرگودھاتاریخ: 2017۔12۔ 28
جمہور آئمہ جن میں آئمہ اربعہ بھی ہیں سب کا مذہب یہی ہےکہ اس طرح تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ لہذا اس مرد کی بیوی اس پر حرام ہو چکی اور حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ کے بغیر اس پر حلال نہیں ہو سکتی۔ اور یہ وہ فیصلہ ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں صادر فرمایا۔ اور کسی صحابی سے انکار منقول نہیں اور صحابہ کرام کا اجماع اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ حکم سنت کے عین مطابق ہے۔ وگرنہ وہ صحابہ جو شریعت کی معمولی خلاف ورزی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ خاموش نہ رہتے۔ نیز صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلَانِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًابِحَضْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم) ترجمہ:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ عویمر عجلانی نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی عورت کو تین طلاقیں(یکبارگی) دیں۔معلوم ہوا اگر تین طلاقیں واقع نہ ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرماتے۔ اگر اس وقت اس کے غصہ میں ہونے کی وجہ سے خاموشی اختیار فرمائی تھی تو بعد میں انہیں سمجھا دیتے لیکن بعد میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموشی اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس طرح طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور کئی ایسے مسائل ہیں جو دلیل ناسخ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں پہلے متنازعہ فیہ رہے اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ان کا ایک بات پر اتفاق ہوا۔ مثلا نماز جنازہ کی تکبیرات سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر مختلف تکبیرات فرمائیں۔ بعض دفعہ تین، بعض دفعہ چار، بعض دفع پانچ۔ خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور خلافت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک مختلف طریقوں سے صحابہ کرام جنازہ پر تکبیریں کہتے رہے۔ لیکن آپ کے زمانہ میں چار تکبیرات پر صحابہ کرام نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق اجماع کر لیا۔ نیز سرکار دوعالم ﷺ کا فرمان ہے لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى الضَلَالَةٍ کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ لہذا صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص یکبارگی تین طلاق دے گا تو تینوں واقع ہو جائیں گی۔ یہی عین شریعت کے مطابق ہے۔ نیز حدیث پاک میں ہے۔ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ؟ فَقَالَ إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا بَانَتْ مِنْهُ بِثَلَاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ وَتِسْعُمِائَةٌ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ۔(سنن دارقطنی)حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میرے ابا میں سے کسی نے اپنی زوجہ کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں اور اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا آنحضرتﷺنے فرمایاکہ تمھارے باپ نے اللہ تعالی سے خوف نہ کیا کہ اللہ تعالی اس کے لیے اس معاملہ کا کوئی حل بنا دیتا، تو اس کی بیوی کو اس کے اس فعل سے تین طلاقیں ہو گئیں اور باقی 997 طلاقیں اس کی گردن پر گناہ ہیں۔ اسی طرح السنن الکبریٰ میں ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص احمق بنتا ہے اور اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے اور پھر ابن عباس پکارتا ہوا آتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے بہتری کا راستہ نکال دیتے ہیں لیکن تم نے خدا سے خوف نہ کھایا لہذا میں تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں پاتا۔اور تم گناہگار ہوئے اور تمہاری زوجہ تم سے اس کے بعد بائنہ ہوچکی ہے۔ اس طرح اس کی بیوی بھی اس پر حرام ہو چکی ہے اور اس طرح طلاق دینے سے وہ گناہ گار ہوا۔ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصوابکتبہ العبد المنیب محمد ایوبمفتی دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ الشریفہ ضلع سرگودھا