حلالہ اصلاح کی غرض سے کرنا کیسا؟
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیامذکورہ بالا مسئولہ صورت کے مطابق اس عورت کا پھر پہلے مرد سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، جب کہ قرآن مجید میں ہے فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔ (پارہ2سورہ بقرہ آیت229)یعنی اگر مرداپنی عورت کو تیسری طلاق دے دے تو وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے ( اور وہ اس سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کرے جیسا کہ حدیث امراة رفاعہ سے ثابت ہے)اگر نکاح کے وقت میں تحلیل کی شرط نہ لگائی جائے اگر چہ دوسرے خاوند کے ذہن میں ہو کہ وہ اس کو طلاق دے دے گا تو اس میں کسی قسم کی کراہت نہیں جیسادر مختار میں ہے أَضْمَرَ ذَلِكَ لَا) يُكْرَهُ (وَكَانَ) الرَّجُلُ (مَأْجُورًا) لِقَصْدِ الْإِصْلَاحِ۔(درمختار، جلد3، صفحہ415)لیکن جب مرد کے دل میں ہوکہ وہ اسے طلاق دے دے گا تو مکروہ نہیں اور ارادہ اصلاح کی وجہ سے وہ آدمی ماجور ہوگا۔ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصوابکتبہ العبد المنیب محمد ایوبمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف