عام تلاش:

میلاد النبی ﷺ

<p></p>

فلٹرز

Aug 23, 2026 44

میلاد النبیﷺ افکار ضیاء الامت علیہ الرحمہ کی روشنی میں

میلاد النبیﷺ افکار ضیاء الامت علیہ الرحمہ کی روشنی میںمصنف:۔ نباض عصر مفکر اسلام حضرت ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ                                         حسب ارشاد:۔ مفتی شیر محمد خان صاحبدارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفبانی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ فاضل ضلع بھکر                                                                        مرتب:۔         محمد شعیب                                                                                          رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف ضلع سرگودھا محفل میلا د مصطفی علیہ اطیب التحیہ واجمل الثناءاللہ تعالی کے محبوبﷺ کی ولادت باسعادت سب امتیوں کے لئے اللہ تعالی کا عظیم الشان احسان ہے۔ آئیے اس روز مل کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں سجدہ شکر ادا کیا کریں۔ سب مل کر اس کی تسبیح و تہلیل کے نغمے الاپا کریں۔ اظہار مسرت کے ہرجائز طریقہ کو شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے بروئے کار لائیں۔ ایسی محفلوں کا انعقاد کریں جن میں امت مصطفویہ کے افراد جمع ہوں اور ان کے علماء اور حکماء سیرت محمدیہ سے انہیں آگاہ کریں۔ اس کے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ جمال و کمال میں عقیدت و محبت سے صلاۃوسلام کے رنگین پھول پیش کیا کریں۔ اور یہ اہتمام بہرحال ملحوظ خاطر رہے کہ کوئی ایسی حرکت نہ ہونے پائے جس میں کسی فرمان الہی کی نافرمانی ہو یا سنت نبویہ کی خلاف ورزی ہو۔ اس سلسلہ میں ہم سب متفق ہیں اور ہمارا غیر مشروط تعاون ان مصلحین امت کو میسر رہے گا  جو اس نیک مقصد کے لیے کوشاں ہیں۔ ولادت مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء ابدی مسرتوں اور سچی خوشیوں کی پیغامبر بن کر آئی تھی۔ جس سے کائنات کی ہر چیز شاداں وفرحاں تھی فرشتے شکر ایزدی بجا رہے تھے۔ عرش اور فرش میں بہار کا سماں تھا۔دلائل ملاحظہ ہوں۔اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فضل اور رحمت پر خوشی منانے کا حکم دیا۔ ارشاد خداوندی ہے۔قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ۔                                          (پارہ 11 یونس آیت 58)ترجمہ:۔آپ فرمائیے اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت سے پس چاہئے کہ اس پر خوشی منائیں یہ بہتر ہے ان تمام چیزوں سے جن کو وہ جمع کرتے ہیں۔اسی آیت کے تحت ضیاء القرآن میں حضرت ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں۔     سرور دوعالم کی ولادت نعمت عظمیٰ ہے۔ اس پر جتنی خوشی کی جائے کم ہے۔             (ضیاء القرآن ج2 ص309)قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ حکم دیا گیا کہ اللہ تعالی کے انعامات اور احسانات پر اس کا شکر ادا کیا کرو کرو۔ ارشاد خداوندی ہے۔فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ۔ (پارہ 14النحل آیت 114) بس کھاؤ اس سے جو رزق دیا تمہیں اللہ تعالی نے جو حلال اور طیب ہے اور شکر کرو اللہ تعالی کی نعمت کا اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔فَابْتَغُوا عِنْدَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔ (العنکبوت آیت 17) پس طلب کیا کرو اللہ تعالی سے رزق کو اور اس کی عبادت کیا کرو اور اس کا شکر ادا کیا کرو اس کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ اللہ تعالی نے اس مضمون کو بھی مختلف دلنشین اسالیب سے بیان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالی ان میں اور اضافہ کر دے گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو اس کے شدید عذاب میں مبتلا کر دیئے جاؤ گے۔ ارشاد خداوندی ہے۔وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ۔ (ابراہیم آیت 7) اور یاد کرو جب تمہیں مطلع فرمایا تمہارے رب نے اس حقیقت سے اگر تم پہلے احسانات پر شکر ادا کرو گے تو میں مزید اضافہ کر دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو جان لو یقینا میرا عذاب شدید ہے۔ المختصر بے شمار آیات ہیں جن میں انعامات الہی پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور کثیر التعداد آیات ہیں جن میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو بار بار جھنجھوڑ کر یہ بتایا ہے کہ اگر تم ان نعمتوں پر شکر ادا کرو گے تو ان میں مزید اضافہ کردیا جائے گا اور جو کفران نعمت کے مرتکب ہوں گے ان کو ان نعمتوں سے محروم کر دیا جائے گا اور عذاب الیم کی بھٹی میں جھونک دیا جائے گا۔ پانی، ہوا اور روشنی، کان، آنکھیں اور دل ،صحت ،شباب اور خوشحالی یہ سب خداوند ذوالجلال کی نعمتیں ہیں اور ان پر شکر کرنا واجب ہے۔  جب ان فنا ہونے والی نعمتوں پر شکر ادا کرنا لازمی ہے، تو خود بتائے اس رحمت مجسم، محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور بعثت پر شکر ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں۔ کیا اس  احسان سے کوئی اور  احسان بڑا ہے اس نعمت سے کوئی اور نعمت عظیم ہے۔ جس ذات والا صفات نے بندے کا ٹوٹا ہوا رشتہ اپنے خالق حقیقی کے ساتھ استوار کر دیا۔ جس نے انسانیت کے بخت خوابیدہ کو بیدار کر دیا ۔جس نے اولاد آدم کے بگڑے ہوئے مقدر سنوار دیا ۔ جو کسی خاندان قبیلے، قوم اور ملک اور زمانے کے لیے رحمت بن کر نہیں آیا ،بلکہ اللہ تعالی کی ساری مخلوق کے لئے ابر رحمت بن کر برسا۔ جس کی فیض رسانی زمان ومکان کی قیود سے آشنا نہیں۔ جو ہر تشنہ لب کو معرفت الہی کے آب زلال(صاف پانی) سے سیراب کرنے کے لئے تشریف لایا ۔ ہر گم کردہ راہ کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لیے آیا۔ ہرکہ و مہ کے لیے جس نے حریم قرب الہی کے دروازے کھول دیئے۔کیا اس نعمت عظمی اور ابدی احسان پر شکر ادا کرنا ہم پر فرض نہیں؟۔ کیا خداوندکریم کے اس لطف  بےپایاں پر اس کا شکر ادا کرکے اس کے وعدے کے مطابق ہم اس کی مزید نعمتوں کے مستحق قرار نہیں پائیں گے اور جو اس جلیل القدر انعام پر سپاس گزار نہ ہوگا ۔وہ غضب و عتاب الٰہی کی وحید کا ہدف نہیں بنے گا؟۔ سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی آمد وہ عظیم المرتبت انعام ہے جس کو منعم حقیقی نے اپنی قدرت کی زبان سے خصوصی طور پر علیحدہ ذکر کیا ہے۔لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ۔ (آل عمران آیت164) یقینا بڑا احسان فرمایا! اللہ تعالی نے مومنوں پر جب اس نے بھیجا ان میں ایک رسول انہی میں سے پڑھتا ہے ان پر اللہ تعالی کی آیتیں اور پاک کرتا ہے انہیں اور سکھاتا ہے انہیں کتاب و حکمت اگر وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔ اس انعام کی خصوصی شان یہ ہے کہ دیگر انعامات اپنوں اور بیگانوں، خاص اور عام مومن اور کافر سب کے لیے ہیں اور اس لطف و کرم سےصرف اہل ایمان کو سرفراز فرمایا ۔غلامان مصطفی علیہ اجمل التحیہ واطیب الثناء ہر زمانہ میں اپنے رب کریم کی اس نعمت کبری کا شکر ادا کرتے آئے ہیں۔ زمانے کے تقاضے کے اعتبار سے شکر کے انداز گو مختلف تھے لیکن جذبہ تشکر ہر عمل کا روح رواں رہا۔ اور جو خوش بخت اس نعمت کی قدر و قیمت سے آگاہ ہیں۔ وہ تاابد اپنی فہم اور استعداد کے مطابق اپنے رحیم و کریم پروردگار کا شکر ادا کرتے رہیں گے۔ یہ ایک بدیہی امر ہے کہ جب کسی کو کسی انعام سے بہراور کیا جاتا ہے تو اس کا دل مسرت وانبساط کے جذبات سے معمور ہو جاتا ہے۔ اس کی نگاہ میں اس نعمت کی جتنی قدر و قیمت اور اہمیت ہوگی۔ اسی نسبت سے اس کی مسرت و انبساط کی کیفیت ہوگی۔لیکن جس چیز کے ملنے پر خوشی کے جذبات میں تلاطم پیدا نہیں ہوتا تو اس کا واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کی اس شخص کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔  اگر یہ چیز اسے نہ ملتی تو تب بھی اسے افسوس نہ ہوتا ۔مل گئی ہے تو اسے کوئی خوشی نہیں۔ شمع جمال مصطفی کے پروانے ایسے قدر نا شناس نہیں ۔ نبوت کا ماہ تمام طلوع ہوا تو ان کی زندگی کے آنگن میں مسرتوں اور شادمانیوں کی چاندنی چٹکنے لگی ان کے دلوں کے غنچے کھل کر شگفتہ پھول بن گئے  وہ یہ جانتے ہوئے اور تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ اس احسان عظیم پر شکر کا حق ادا نہیں کر سکتے پھر بھی وہ اپنی سمجھ کے مطابق بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر میں گرگئے۔اس کی حمدو ثنا کے گیت گانے لگے اور اس کے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سرمدی پر پر اپنے دل و جان کو نثار کرنے لگے۔ بعض مدعیان علم ودانش فرزندان اسلام کے ان مظاہر تشکر و مسرت کودیکھ کر غصہ سے بے قابو ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالی کے ان شکر گزار بندوں پر طعن و تشنیع کے تیروں کی موسلادھار بارش شروع کر دیتے ہیں کیا ان حضرات نے کبھی اس فرمان الہی کا بدقت نظر مطالعہ فرمایا ہے ۔قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ۔                                          (پارہ 11 یونس آیت 58)ترجمہ:۔آپ فرمائیے اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت سے پس چاہئے کہ اس پر خوشی منائیں یہ بہتر ہے ان تمام چیزوں سے جن کو وہ جمع کرتے ہیں۔             اس آیہ کریمہ میں حکم دیا جا رہا ہے کہ جب اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت ہو تو منہ بسور کر نہ بیٹھ جایا کرو۔ اپنی ہانڈیوں کو اوندھا نہ کر دیا کرو ۔جو چراغ جل رہا ہے اس کو بھی نہ بجھا دیا کرو کیونکہ یہ اظہار تشکر نہیں بلکہ کفران نعمت ہے ۔ایسا نہ کرو۔ بلکہ فَلْيَفْرَحُوا خوشی اور مسرت کا مظاہرہ کیا کرو۔ اور یہ بتانے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ اظہار مسرت کا کیا طریقہ ہوتا ہے، جب دل میں سچی خوشی کے جذبات امڈ کر آتے ہیں، تو اپنے ظہور کے لئے وہ خود راستہ پیدا کر لیا کرتے ہیں۔ امت اسلامیہ صدیوں سے اللہ تعالی کی اس نعمت عظمی پر اپنے جذبات تشکر  وامتنان کا اظہار کرتی رہی ہے۔ ہر سال ہر اسلامی ملک کے ہر چھوٹے بڑے گاؤں اور شہر میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ان راتوں اور ان دنوں میں ذکر وفکر کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ،جن میں اللہ تعالی کی شان کبریائی اور اس کے محبوب مکرم شفیع المذنبین کی شان رفعت و دلربائی کے تذکرے کیے جاتے ہیں ۔سامعین کو اس دین قیم کے احکامات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ علماء تقریریں کرتے ہیں۔ ادباء مقالے پڑھتے ہیں۔  شعراء  اپنے منظوم کلام سے اظہار عقیدت و محبت کرتے ہیں ۔  صلاۃ و سلام کی روح پرور صداؤں سے ساری فضا معطر اور منور ہو جاتی ہے۔ اہل خیر کھانے پکا کر غرباء میں تقسیم کرتے ہیں۔  صدقات و خیرات سے ضرورت مندوں کی جھولیاں بھر دیتے ہیں۔  یوں محسوس ہوتا ہے کہ گلشن اسلام میں ازسرنو بہار آگئی ہے۔ امام ابو شامہ جو امام نووی شارح صحیح مسلم کے استاذ الحدیث ہیں فرماتے ہیں ۔ ومن أحسن ما ابتدع في زماننا ما يفعل كل عام في اليوم الموافق ليوم مولده صلى الله عليه وسلم من الصدقات والمعروف وإظهار الزينة والسرور، فإن ذلك مع ما فيه من الإحسان للفقراء مشعر بمحبته صلى الله عليه وسلم وتعظيمه في قلب فاعل ذلك، وشكر الله على ما منّ به من إيجاد رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي أرسله رحمة للعالمين۔                                                                     (السیرۃ الحلبیۃ ج1ص80)ہمارے زمانے میں جو بہترین نیا کام کیا جاتا ہے۔ لوگ ہر سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وسلم کے میلاد کے دن صدقات اور خیرات کرتے ہیں اور اظہار مسرت کے لیے اپنے گھروں اور کوچوں کو آراستہ کرتے ہیں کیونکہ اس میں کئی فائدے ہیں۔ فقراء و مساکین کے ساتھ احسان اور مروت کا برتاؤ ہوتا ہے ۔نیز جو شخص یہ کام کرتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ تعالی کے محبوب کی محبت اور عظمت کا چراغ ضیا ءبار ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرما کر اور حضور ﷺکو رحمۃ للعالمینی کے خلعت فاخرہ پہناکرمبعوث فرمایا ہے ۔ اور اللہ تعالی کا اپنے بندوں پر بہت بڑا احسان ہے۔ جس کا شکر یہ ادا کرنے کے لئے اس بہجت و مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ایک دوسرے محدث امام سخاوی کا ارشاد بھی ملاحظہ فرمائیں۔ أن عمل المولد حدث بعد القرون الثلاثة، ثم لا زال أهل الإسلام من سائر الأقطار في المدن الكبار يعملون المولد ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات، ويعتنون بقراءة مولده الكريم، ويظهر عليهم من بركاته كل فضل عميم۔کہ موجودہ صورت میں محفل میلاد کا انعقاد قرون ثلاثہ کے بعد شروع ہوا۔ پھر اس وقت سے تمام ملکوں میں اور تمام بڑے شہروں میں اہل اسلام میلادشریف کی محفلوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں۔ اس کی راتوں میں صدقات و خیرات سے فقراء و مساکین کی دلداری کرتے ہیں۔ حضورﷺ کی ولادت باسعادت کا واقعہ پڑھ کر حاضرین کو بڑے اہتمام سے سنایا جاتا ہے۔ اور اس عمل کی برکت سے اللہ تعالی اپنے فضل امین کی ان پر بارش کرتا ہے۔ایک تیسرے محدث جو ضعیف احادیث پر تنقید کرنے میں بے رحمی کی حد تک بے باک ہے۔ یعنی علامہ ابن جوزی (علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن جوزی) کی رائے بھی اس سلسلہ میں ملاحظہ فرمائیں۔قال ابن الجوزی من خواصہ انہ امان فی ذالک العام و بشرٰی عاجلۃ بنیل البغیۃ والمرام۔ابن جوزی فرماتے ہیں کہ محفل میلاد کی خصوصی برکتوں سے یہ ہے کہ جو اس کو منعقد کرتا ہے اس کی برکت سے سارا سال اللہ تعالی کے حفظ و امان میں رہتا ہے اور اپنے مقصد اور مطلوب کے جلدی حصول کے لیے یہ ایک بشارت ہے۔ علمائے کرام نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ محفل میلاد کے انعقاد کا آغاز کب ہوا اور کس نے کیا۔ امام ابن جوزی ہی لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے اربل کے بادشاہ الملک المظفر ابو سعید نے اس کا آغاز کیا۔ اور اس زمانہ کے محدث شہیر حافظ ابن دحیۃ نے اس مقصد کے لیے ایک کتاب تصنیف کی اور اس کا نام  التنویر فی مولد البشیر النذیر تجویزکیا۔ ملک مظفر کے سامنے جب یہ تصنیف پیش کی گئی تو اس نے ابن دحیہ کو ایک ہزار اشرفی بطورانعام پیش کی۔ وہ ربیع الاول شریف میں ہر سال محفل میلاد کے انعقاد کا اہتمام کرتا تھا۔ زیرک، دانا، بہادر اور مرد میدان تھا۔  دانشور اور عدل گستر تھا۔اس کا عہد حکومت کافی طویل ہوا۔ یہاں تک کہ اس نے 630 ہجری میں اس حالت میں وفات پائی کہ اس نے  عکہ کے شہر میں جہاں صلیبیوں نے قبضہ کر رکھا تھا اس کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اس کا ظاہر اور باطن بہت ہی پسندیدہ تھا۔ ابن جوزی کے الفاظ میں اس مرد مومن کی سیرت کا مطالعہ فرمائیں۔کان شھما شجاعا بطلا عاقلا عادلا و طالت مدتہ فی الملک الی ان مات و ھو محاصر الفرنج بمدینۃ عکا سنۃ ثلاثین و ستماتۃ محمودا السیرۃ والسریرۃ۔سبط ابن جوزی اپنی تصنیف مرآءۃ الزمان میں اس ضیافت کا ذکر کرتے ہیں، جو ملک مظفر  میلاد شریف کے موقع پر کیا کرتا تھا۔ اور جس میں اس زمانہ کے اکابر علماء اور اعاظم صوفیاء  شرکت فرمایا کرتے تھے۔ اس ضیافت کا یہ حال اس آدمی کی زبانی بیان کیا گیا یے جو خود اس دعوت میں شریک تھا۔ وہ کہتا ہے میں نے بھیڑ بکریوں کے پانچ ہزار سر، دس ہزار مرغیاں اور فیرنی کے ایک لاکھ سکورے اور حلوے کے تیس ہزار طشت خود دیکھے۔ جو علماء و صوفیاء اس ضیافت میں شرکت کرتے ملک مظفر انہیں خلعتیں پہناتا اور میلاد شریف کی اس تقریب پر تین لاکھ دینار خرچ کرتا۔علامہ محمد رضا نے اپنی سیرت کی کتاب (محمد رسول اللہ)  میں مندرجہ بالا حوالہ جات ذکر کرنے کے بعد ان پر مندرجہ ذیل اضافہ کیا ہے جس کا خلاصہ، ترجمہ ہدیہ قارئین ہے۔جزائر کے سلطان ابوحموموسی بڑے اہتمام اور اجلال کے ساتھ شب میلاد منایا کرتے تھے۔ جس طرح مغرب کے سلاطین اور اندلس کےخلفاء اس زمانہ میں یا اس سے پہلے اس تقریب سعید کا اہتمام کیا کرتے تھے۔سلطان تلمسان کی ایک تقریب میں آنکھوں دیکھا حال الحافظ سیدی ابوعبداللہ التنسی نے، (راح الارواح) میں تحریر کیا ہے۔لکھتے ہیں۔ابو حمو شب میلاد مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام کواپنے دارالحکومت تلمسان میں بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ جس میں خاص و عام سب لوگ مدعو ہوتے تھے۔ جلسہ گاہ میں ہر طرف قیمتی قالین بچھے ہوئے۔ ان پر گاؤ تکیہ لگے ہوئے اور بڑی بڑی شمعیں جو دور سے ستون کی طرح نظر آتی تھیں اور دسترخوان، انگیٹھیاں جن میں خوشبو سلگ رہی ہوتی تھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ خالص پگلا ہوا سونا انڈیلا جا رہا ہے۔ تمام حاضرین کو رنگ برنگے لذیذ کھانے پیش کئے جاتے تھے معلوم ہوتا ہے کہ موسم بہار کے رنگین پھولوں کے گلدستے ہر مہمان کے سامنے سجا کر رکھ دیئے گئے ہیں۔ ان کی رنگت کو دیکھ کر ان کے کھانےکی خواہش دوبالا ہوجاتی تھی۔ آنکھیں ان کی رنگینی کو دیکھ کر روشن ہوتی تھیں اور بھینی بھینی مہک مشام جان کو معطر کر رہی ہوتی تھا۔تمام لوگوں کو درجہ بدرجہ بٹھایا جاتا تھا۔ سب حاضرین کے چہروں پر وقار اور احترام کی چمک روشنی چمک رہی ہوتی تھی۔ اس کے بعد بارگاہ رسالت میں ہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لیے مدحیہ قصائد پڑھے جاتے تھے۔ اور ایسے مواعظ اور نصائح کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ جو لوگوں کو گناہوں سے برگشتہ کرکے عبادت و اطاعت کی طرف راغب کرتے تھے۔ یہ سارے کام اس ترتیب سے ہوتے کہ حاضرین کو قطعا تھکاوٹ یا اکتاہٹ کا احساس نہ ہوتا۔ اس روح پرور تقریب کے مختلف پروگراموں کو سن کر دل کو راحت ہوتی اور نفوس کو مسرت حاصل ہوتی۔ سلطان رضوان اللہ علیہ کے قریب شاہی خزانہ رکھا ہوتا جس کو ایک رنگ برنگی یمنی چادر سے ڈھانپا ہوا ہوتا۔ رات کے گھنٹوں کے برابر اس میں دروازے ہوتے۔ جب ایک گھنٹہ گزرتا تو اس دروازے پر اتنی چوٹیں لگتیں جتنے  بجے ہوتے۔ دروازہ کھلتا اور خادمہ نکلتی جس کے ہاتھ میں انعامات لینے والوں کی فہرست ہوتی۔ سلطان اس کے مطابق انعام تقسیم کرتا۔ اور یہ سلسلہ صبح کی اذان تک جاری رہتا۔ ہمارے سیرت نگار اپنے زمانہ کے حالات بھی لکھتے ہیں کہ مصر میں کس اہتمام سے عید میلاد کا جشن منایا جاتا ہے۔  لیکن محفل میلاد کے انعقاد میں نہ کسی سنت ثابتہ کی خلاف ورزی ہے اور نہ کسی فعل حرام کا ارتکاب ہے بلکہ یہ نعمت خداوندی پر اس کا شکر ہے اور شکر کا ادا کرنا کثیر آیات سے ثابت ہے۔ اسی طرح آیت فَلْيَفْرَحُوا  سے اس فضل و نعمت خداوندی پر اظہار مسرت کرنا حکم الہی ہے۔ علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے معترضین کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ محفل میلاد کا انعقاد بے اصل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے سنت نبوی میں اصل موجود ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے یہ حدیث تحریر فرمائی ہے۔ جو صحیحین میں موجود ہے۔ ان النبیﷺ قدم المدینۃ فوجد الیھود یصومون یوم عاشوراء فسالھم فقالواھو یوم اغرق فیہ فرعون و نجا موسی و نحن نصومہ شکرا فقال نحن اولی بموسی۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ میں تشریف فرما ہوئے تو یہودیوں کو پایا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھا کرتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔ تو انہوں نے کہا یہ وہ دن ہے جس دن فرعون غرق ہوا۔ اور موسی علیہ السلام نے نجات پائی۔ہم اللہ تعالی کی اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے روزہ رکھتے ہیں۔ رحمت عالم نے فرمایا تم سے زیادہ ہم اس بات کے حقدار ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کی نجات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اپنی امت کو بھی ایک دن کی بجائے دو دن روزہ رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ صحیح بخاری میں یہ روایت موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خبر جب ابولہب کی لونڈی ثوبیہ نے اسے دی تو اپنے بھتیجے کی ولادت کی خوشخبری سن کر اس نے اپنی لونڈی کو آزاد کر دیا۔ اگرچہ اس کی موت کفر پر ہوئی اور اس کی مذمت میں پوری سورت نازل ہوئی۔ لیکن میلاد مصطفی پر اظہار مسرت کی برکت سے ہر سوموار کو اسے پانی کا گھونٹ پلایا جاتا ہے اور اس کے عذاب میں بھی اس روز تخفیف کی جاتی ہے۔حافظ الشام شمس الدین محمد بن ناصر نے کیا خوب کہا ہے۔اذا کان ھذا کافر جاء ذمہ                                                                                                                                        و تبت یداہ فی الجحیم مخلدااتی انہ فی یوم الاثنین دائما                                                                                                                               یخفف عنہ للسرور باحمداوما الظن بالعبد الذی کان عمرہ                                                                                                                                                        باحمد مسرورا و مات موحداجب ایک کافر جس کی مذمت میں پوری سورۃ تبت یداہ  نازل ہوئی اور جو تا ابد جہنم میں رہے گا۔ اس کے بارے میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر اظہار مسرت کی برکت سے ہر سوموار کو اس کے عذاب میں تخفیف کی جاتی ہے تو تمہارا کیا خیال ہے اس بندے کے بارے میں جو زندگی بھر احمد مجتبیﷺ کی ولادت باسعادت پر خوشی مناتا رہا۔ اور کلمہ توحید پڑھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوا۔ اس لئے ہم بصد ادب اوراز راہ جذبہ خیر اندیشی ان حضرات کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ وہ اس تشدد کو ترک کر دیں۔ایک ذات ایسی تھی جو فریاد کناں تھی جو مصروف آہ و فغاں تھی، جو چیخ چلا رہی تھی اور اپنی بدبختی اور حرام نصیبی پر اشک فشاں تھی اور وہ ملعون ابلیس ذات تھی۔ علامہ ابو القاسم السہیلی لکھتے ہیں۔ أَنّ إبْلِيسَ لَعَنَهُ اللهُ رَنّ أَرْبَعَ رَنّاتٍ رَنّةً حِينَ لُعِنَ وَرَنّةً حِينَ أُهْبِطَ وَرَنّةً حِينَ وُلِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَنّةً حِينَ أُنْزِلَتْ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ۔ ابلیس ملعون زندگی میں چار مرتبہ چیخ مار کر رویا۔ پہلی مرتبہ جب اس کو ملعون قرار دیاگیا۔ دوسری مرتبہ جب اسے بلندی سے پستی کی طرف دھکیلا گیا۔ تیسری مرتبہ جب سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ چوتھی مرتبہ جب سورۃ فاتحہ نازل ہوئی۔علامہ ابن کثیر نے بھی علامہ سہیلی کی اس عمارت کو السیرۃالنبویہ صفحہ212 جلد1 میں جوں کا توں نقل کیا۔ اور ابن سید الناس نے عیون الاثر صفحہ27 جلد1 میں بھی اس روایت کو بعینہٖ درج کیا۔ علامہ احمد بن زینی دحلان السیرۃ النبویہ میں رقمطراز ہیں۔وعن عكرمة أن إبليس لما ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم ورأى تساقط النجوم قال أي لجنوده؟ لقد ولد الليلة ولد يفسد علينا أمرنا، فقال له جنوده: لو ذهبت إليه فخبلته، فلما دنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث الله جبريل عليه الصلاة والسلام فركضه برجله ركضة وقع بعدن۔ عکرمہ سے مروی ہیں کہ جس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ابلیس نے دیکھا کہ آسمان سے تارے گررہے ہیں اس نے اپنے لشکریوں کو کہا رات وہ پیدا ہوا ہے جو ہمارے نظام کو درہم برہم کر دے گا۔ اس کے لشکریوں نے اس سے کہا کہ تم اس کے نزدیک جاؤ۔ اسے چھوڑ کر جنون میں مبتلا کر دو۔ جب وہ اس نیت سے حضورﷺ کے قریب جانے لگا۔ تو حضرت جبرائیل نے اسے پاؤں سے ٹھوکر لگائی اور اسے دورعدن پھینک دیا (ضیاء النبی ج2 ص43 تا 57 )اب پھر بہار آ رہی ہے عندلیبیں اور قمریاں پھر نوا سنج ہونے والی ہیں۔ ربیع الاول کا چاند طلوع ہو رہا ہے۔ کئی حسین یادوں کو تازہ کرے گا۔ ان مبارک لمحوں کا ذکر چھڑے گا۔ جب انسانیت کا بخت خفتہ بیدار ہوا تھا۔ جب مظلوموں کا غمگسار تشریف فرما ہوا تھا۔ جب آمنہ کے کچے کوٹھے میں اللہ تعالی کی رحمتوں کے خزانے سمٹ آئے تھے اور ان خزانوں کو باذن الہی بانٹنے والا، بلکہ لوٹانے والا بڑی آن بان سے رونق افروز ہوا تھا۔ آو! ساز محبت کو مضراب شوق سے چھڑیں۔ اس مہ کامل کی تابانیوں کا ذکر کریں۔ آؤ اس جہان بہار کے گیت گائیں۔ اور روح کائنات کی لطافتوں کو آشکارہ کریں۔  خالق ذوالجلال کی اس نعمت عظمی کوپہچانے اور اس کی قدر کریں۔ اگر اس کا عرفان نصیب ہو گیا تو دل و دماغ اور زبان سب مل کر اپنے پروردگار کا شکر ادا کریں اور جب حتی  المقدور حق شکر ادا ہوگا۔ اللہ تعالی راضی ہوگا۔ اس کی رحمت مائل باکرم ہوگی۔ دل کی اجڑی ہوئی بستی آباد ہوجائے گی خود فراموشی اور خودشناسی خداشناسی میں بدل جائے گی۔ نفت  فیہ من روحی کی جلوہ سامانیاں بے نقاب ہو جائیں گی۔(خطبات ضیاء الامت ص71)مزید برآں لکھتے ہیں۔ آج کی صحبت میں مجھے صرف یہ بتانا ہے کہ معاشیات کے سنگلاخ میدانوں اور اداس وادیوں میں جب اس رحمتوں اور برکتوں والے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم رنجہ فرمایا تو وہاں کس طرح عزت نفس کے چراغ روشن ہوگئے۔ کس طرح حریت فکر و عمل کے پرچم لہرانے لگے۔ کس طرح احسان کے پھول کھلنے لگے۔ اور انسان کی محرومیوں کا کس خوبی اور خوبصورتی سے درمان کردیاگیا۔                                                                                                                   (خطبات ضیاء الامت ص 72)نوٹ:۔ ترتیب ہم نے اپنی لگائی ہے۔ بعینہ ضیاء النبی کی ترتیب نہیں ہے۔حضرت ضیاء الامت علیہ الرحمہ نے ہمیں میلاد مصطفیٰ منانے کا درس کچھ اس طرح عنائت فرمایا وہ بھی ملاحظہ ہو۔حضورﷺ کے یوم میلاد کو اس عزم کے ساتھ منائیں کہ ہم دین حق کی جو شمع اس سہانی گھڑی میں فروزاں کی گئی تھی اس سے تاریک دنیا کو بھی منور کریں گے۔ ظلم، جہالت اورگمراہی کا اندھیرا جہاں جہاں خیمہ زن ہے، اس کا قلع قمع کر دیں گے۔چند سال سے عید میلاد منانے کے لئے جو جلوس نکالے جاتے ہیں، ان میں رفتہ رفتہ وہ تقدس، وہ احترام ناپید ہوتا جارہا ہے۔ میلاد کے جلوسوں میں بھنگڑا اور لڈی، فلمی گانے، مردوں اور عورتوں کا اختلاط، یہ چیزیں قطعا اسلام گورہ نہیں کرسکتا۔ اہل حل و عقد اور ارباب اثر و نفوذ کا فرض اولین ہے کہ وہ اس تقریب کے تقدس کو ہرگز ہرگز آلودہ نہ ہونے دیں۔ اور بدتمیزی کی اٹھتی ہوئی ان موجوں کو اسی وقت ختم کردیں۔                                                                                                                            (خطبات ضیاء الامت ص83)محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف۔2ربیع الاول بمطابق 31 اکتوبر 2019 بروز جمعرات

میلاد النبی ﷺ
مکمل فتویٰ
Aug 20, 2026 30

میلاد مصطفیٰﷺ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کی نظر میں

میلاد مصطفیٰﷺ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کی نظر میںمصنف:۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہحسب ارشاد:۔ مفتی شیر محمد خان صاحبدارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفبانی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ فاضل ضلع بھکرمرتب:۔         محمد شعیبرکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفاعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے فتاوی رضویہ میں یوں نقل فرمایا۔اﷲ تعالی  فرماتا ہے۔ قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا۔                          (پارہ 11 سورہ یونس آیت 58)ترجمہ:۔ تم فرمادو کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر لازم ہے کہ خوشیاں مناؤ۔اور فرماتا ہے۔وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ۔                                                                      (پارہ13 سورہ ابراھیم آیت 5)ترجمہ:۔ انہیں اﷲ کے دن یاد دلاؤ۔اور فرماتا ہے۔ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۔                                                                 (پارہ 30 سور الضحیٰ آیت 11)ترجمہ:۔ اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ان تینوں آیتوں میں حکم فرماتا ہے کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پرشادیاں مناؤ، لوگوں کو اﷲ کے دن یاد دلاؤ، اﷲ کی نعمت کا خُوب چرچا کرو۔ اﷲ کا کون سا فضل و رحمت، کون سی نعمت اس حبیب کریم علیہ وعلٰی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی ولادت سے زائد ہے کہ تمام نعمتیں تمام رحمتیں تمام برکتیں اسی کے صدقے میں عطا ہوئیں۔اﷲ کا کون سا دن اس نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ظہور پر نور کے دن سے بڑا ہے، تو بلاشبہہ قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ ولادتِ اقدس پر خوشی کرو۔ مسلمانوں کے سامنے اُسی کا چرچا خوب زور شور سے کرو، اسی کا نام مجلس میلاد ہے۔(فتاوی رضویہ ج29 ص249،250)اعلی حضرت علیہ الرحمہ ایک جگہ یوں نقل کرتے ہیں۔مجلس میلاد مبارک کہ روایات صحیحہ سے ہو اور اشعار کہ پڑھے جائیں مطابق شرع مطہر ہوں اور الحان سے پڑھنے والے مرد  غیر  امرد  ہوں، مسجد میں بھی جائز ہے کہ مساجد  ذکر الہٰی کے لئے بنیں اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر بھی ذکر الہٰی ہے، حدیث میں ہے رب عز وجل نے کریمہ ورفعنا لک ذکرک كے نزول کے بعد کہ ہم نے بلند کیا تمھارے لئے تمھارا ذکر ، جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں بھیج کر ارشاد فرمایا اتدری کیف رفعت لک ذکرک جانتے  ہو  میں نے تمھارا  ذکر  تمھارے  لئے کیونکر بلند فرمایا؟حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عرض کی  تو خوب جانتاہے ۔ فرمایا  جعلتک ذکر امن ذکری فمن ذکرک فقد ذکرنیمیں تمھیں اپنے ذکر میں سے ایک ذکر بنایا تو جو نے تمھارا ذکر کیا اس نے میرا ذکر کیا۔                             (فتاوی رضویہ ج8ص123)فتاوی رضویہ میں ہے۔لاجرم مجلس میلاد مبارک میں تلاوت قرآن مجید ہمشہ سے معمول علمائے کرام و بلاد اسلام ہے۔ امام جلال الملۃ والدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالٰی نے اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں  اصل المولد الذی ھو اجتماع الناس و قرأۃ ماتیسر من القراٰن وروایۃ الاخبار الواردۃ فی مبدأ امر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماوقع فیہ من الاٰیات الخ۔میلاد شریف کی اصل لوگوں کا مجمع ہونا، قرآن مجید کا تلاوت کیا جانا، اور ان آیات واحادیث و روایات کو بیان کرنا ہے جو آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں وارد ہوئی ہیں الخ۔امام حافظ ابن حجر عسقلانی استخراج اصل عمل مولد مبارک میں فرماتے ہیں  والشکر ﷲ تعالٰی یحصل بانواع العبادۃ کالسجود والصیام والصدقۃ والتلاوۃ وای نعمۃ اعظم من النعمۃ ببروز ھذا النبی الکریم نبی الرحمۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ذٰلک الیوم۔اللہ تعالٰی کا شکر کئی قسم کی عبادات مثلا صیام ، سجود ، تلاوت، صدقہ خیرات وغیرہ کے ذریعے ادا ہوجاتاہے اور نبی کریم جو رحمت والے نبی ہیں ان کے ظہور سے بڑی نعمت اور کون سی ہوسکتی ہے۔سیرت علامہ شامی میں ہے۔ عمل المولد الذی استحسناہ فانہ لیس فیہ شیئ سوی قرأۃ القراٰن واطعام الطعام وذٰلک خیر وبروقربۃ۔میلاد شریف منانا کہ جس کو ہم نے مستحسن قرار دیا ہے اس میں قرآن مجید کی تلاوت (ذکر خدا وذکر رسول) اور کھانا کھلانے کے اہتمام کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہ کام تو کار خیر ہے اورنیکی وقربت الٰہی کا ذیعہ ہے۔ (فتاوی رضویہ ج23 ص119)فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ یوں رقمطراز ہیں۔مجلس میلاد مبارک ذکر شریف سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور حضور کا ذکر اللہ عزوجل کا ذکر، اور ذکر الہٰی سے بلاوجہ شرعی منع کرنا شیطان کا کام ہے اور ذکر شریف سے معاذاللہ حضور کا ہتک حرمت ہونا قائل کا محض کذب وافتراء ہے، ہاں بعض روایات موضوعہ واشعار نامشروعہ سے ایساہو تو اس سے مجلس شریف بری نہ ہوجائے گی،جیسے بہت لوگ نماز میں تعدیل ارکان نہیں کرتے اور یہ حرام ہے۔مگر اس سے خود نمازی بُری نہ ہوجائے گی، تشریف آوری حضور کے اختیارہے اور قیام تعظیمی ذکر قدوم شریف کے لئے ہے اور اللہ عزوجل فرماتاہے:وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔                                                                                                    (فتاوی رضویہ ج14 ص668،669)فتاوی رضویہ کا یہ صفحہ بھی ملاحظہ ہو۔درمجالس مولد شریف کہ از سورۂ والضحی تا آخر می خوانند البتہ بعد ختم ہر سورۃ تکبیر می گویند راقم شریک مجالس متبرک بودہ ایں امررامشاہدہ کردم ہم درمکہ معظمہ وہم درمدینہ منورہ وہم درجدہ۔میلاد شریف کی محفلوں میں سورۂ والضحی سے آخر قرآن تک پڑھتے ہیں ہر سورۃ ختم کرنے کے بعد تکبیر کہتے ہیں، راقم نے ان متبرک محفلوں میں شریک ہوکر اس امر کامشاہدہ کیا ہے  مکہ معظمہ میں بھی، مدینہ منورہ میں بھی اور جدہ میں بھی۔(فتاوی رضویہ ج8 ص621)اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے 12 ربیع الاول کو میلاد کی مجلس پڑھی۔جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے۔ فقیر ۱۲ربیع الاول شریف کی مجلس مبارک پڑھ کر شام سے سخت علیل ہو اکہ ایسا مرض کبھی نہ ہوا تھا، میں نے وصیت نامہ لکھوادیا، بارے بحمدہٖ تعالٰی مولٰی عزوجل نے شفا بخشی ولہ الحمد۔ (فتاوی رضویہ ج15ص513)محمد شعیبرکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیر شریفDate.17.11.2018۔

میلاد النبی ﷺ
مکمل فتویٰ
Aug 15, 2026 22

میلاد النبی ﷺ منانے کا طریقہ / میلاد شریف منانا

الجواب بعون الملک الوھاب                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا(1)۔ جشن آمد مصطفیﷺ منانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس موقع پر اجتماعات منعقد کرکے ان میں علمائے حق اہلسنت و جماعت کا بیان ہو اور لوگوں میں سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، سیرت طیبہ اور عشق و محبت کو عام کیا جائے اور فری دینی تربیتی لٹریچر تقسیم کیا جائے تاکہ مسلمان عشق مصطفیﷺ سینوں میں سجاکر سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہوجائیں اور دارین کی سعادتوں سے ہمکنار ہوں اور اقوام عالم پر اپنی برتری ظاہر کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔(2)۔  ہر روپیہ خرچ کرتے وقت یہ ضرور سوچا جائے کہ یہ رب تعالی کی امانت ہے وہاں خرچ کیا جائے جہاں زیادہ سے زیادہ دین کا فائدہ ہو، نئی نسل کی دینی حوالے سے تربیت ہو، عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، ناموس رسالت کے تحفظ اور سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے کے جذبات پیدا ہوں۔(3)۔ سرکاردوعالمﷺ کی ذات  پر کثرت سے درود شریف پڑھنے کا بندوبست کیا جائے۔(4)۔اس موقع پر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غرباء و مساکین کو یاد رکھا جائے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھ کر آمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کو فروغ دیا جائے۔(5)۔ سجاوٹ میں اسلام کے بنیادی اصول میانہ روی کو اپنایا جائے البتہ مناسب انداز میں سجاوٹ کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ باعث اجروثواب ہے۔ البتہ صدقہ خیرات اور کھانا کھلانے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔(6)۔ سجاوٹ اور آرائش میں مشغول ہوکر فریضہ نماز کو ترک نہ کیا جائے بلکہ اسلام کے اس اہم ستون کے قیام کی طرف زیادہ توجہ کی کی ضرورت ہے۔(7)۔  جشن میلاد میں سجاوٹ و آرائش پر خرچ کی جانے والی رقم میں سے کچھ پس انداز کرکے مدارس اہل سنت و جماعت کی ترقی میں حصہ ڈالا جائے۔(8)۔ آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔  اچھے علماء، شعراء مثلا اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور دیگر مستندعشاق  کا کلام پیش کیا جائے اور گانے کی طرز پر نعت خوانی سے اجتناب کیا جائے، تاکہ خیالات میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔(9)۔عورتیں غیر محرم مردوں کا جلوس دیکھنے اور ان سے خلط ملط ہونے سے اجتناب کریں  بلکہ عورتیں الگ محافل میلاد منعقد کریں اور اپنی آواز کو پست رکھیں تاکہ نامحرم مردوں تک ان کی آواز نہ پہنچے کیونکہ المراۃ عورۃ کہ عورت پوشیدہ رکھنے کی چیز ہے۔  لہذا ہر حال میں پردے کا اہتمام کریں۔(10)۔ نیت صالحہ سے جشن میلاد کا جلوس نکالنے میں کوئی حرج نہیں البتہ غیر شرعی حرکات سے پاک رکھنے کی کوشش کی جائے تاکہ اس کا تقدس پامال نہ ہو۔(11)۔جلوس کے شرکاء ایسے نعروں سے پرہیز کریں جس سے شر اور فساد پھیلنے کا خدشہ ہو۔(12)۔شرکاء جلوس عام راستوں کو بند نہ کریں تاکہ راہ گیروں کے لئے رکاوٹ نہ ہو، تاکہ نفرت کی بجائے زیادہ سے زیادہ لوگوں کا اس طرف میلان ہو۔(13)۔ موجودہ حالات کے تناظر میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر چھوٹی گلی کوچوں کی بجائے مرکزی جلوس میں شرکت کی جائے اور مرکزی جلسہ گاہ میں شرکت کی جائے تاکہ مناسب سکورٹی کا بندوبست ہوسکے اور ہر قسم کے خطرات سے عشاقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہیں۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                       شیر محمد خانمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفضلع سرگودھا

میلاد النبی ﷺ
مکمل فتویٰ