سوال
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
جب کسی شخص کے فوت ہو جانے کا یقین ہو جائے، توشرعاًحکم ہے کہ اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کی جائے،بلا ضرورت تاخیر کرنا مکروہ اور ممنوع ہے۔ میت کی تجہیز و تکفین و دفن کرنے میں جلدی کرنا افضل ہے دلائل ملاحظہ فرمائیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ، فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ ۔ (بخاری، رقم الحدیث 1315، جلد2، صفحہ 86، مسلم، ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ، نسائی وغیرہ)
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، اکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
جنازہ کو دفن کرنے میں جلدی کرو، کہ اگر وہ نیک ہے، تو ایک اچھی چیز ہے، جس کی طرف تم اس کو لے کر جا رہے ہو اور اگر وہ نیک نہیں ہے، تو ایک بری چیز ہے، جسے تم اپنی گردن سے اتار رہے ہو۔
عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ، وَأَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ۔(المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث 13613، جلد12، صفحہ 444، شعب الایمان، ۔(أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ))
ترجمہ: عطاء بن رباح فرماتے ہیں میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ جب تم میں سے کوئی مرے ،تو اسے نہ روکو،بلکہ جلد دفن کےلئے لے جاؤ۔
اسی حدیث کے تحت ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا۔
لَا تُؤَخِّرُوا دَفْنَهُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ. قَالَ ابْنُ الْهُمَامِ: يُسْتَحْسَنُ الْإِسْرَاعُ بِتَجْهِيزِهِ كُلِّهِ مِنْ حِينِ يَمُوتُ. (وَأَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ) وَهُوَ تَأْكِيدٌ وَإِشَارَةٌ إِلَى سُنَّةِ الْإِسْرَاعِ فِي الْجَنَازَةِ۔ (مرقاۃ، جلد3، صفحہ 1228)
مراۃ المناجیح میں ہے۔یعنی بلاضرورت اس کے دفن میں دیر نہ لگاؤ کہ اس سے تمہیں بھی تکلیف ہے اورمیت کے پھولنے پھٹنے کا بھی اندیشہ۔(مراۃ المناجیح، جلد2، صفحہ 939)
عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ، مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ: «إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ، لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ ۔ (سنن ابی داود، رقم الحدیث 3159، جلد3، صفحہ 200)۔
ترجمہ: حضرت حصین بن وحوح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں۔ حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے ، پھر ارشاد فرمایا: کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ طلحہ کی موت کا وقت قریب آ گیا ہے، موت کے بعد مجھے اس کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین وغیرہ میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی میت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے درمیان دیر تک رہے۔
بدائع الصنائع میں ہے۔ وَالْإِسْرَاعُ بِالْجِنَازَةِ أَفْضَلُ مِنْ الْإِبْطَاءِ لِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:عَجِّلُوا بِمَوْتَاكُمْ فَإِنْ يَكُ خَيْرًا قَدَّمْتُمُوهُ إلَيْهِ وَإِنْ يَكُ شَرًّا أَلْقَيْتُمُوهُ عَنْ رِقَابِكُمْ» وَفِي رِوَايَةٍ «فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ ۔ (بدائع الصنائع، جلد1، صفحہ 309)
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے: وَيُبَادَرُ إلَى تَجْهِيزِهِ وَلَا يُؤَخَّرُ لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «عَجِّلُوا بِمَوْتَاكُمْ فَإِنْ يَكُ خَيْرًا قَدَّمْتُمُوهُ إلَيْهِ وَإِنْ يَكُ شَرًّا فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ» فَإِنْ مَاتَ فُجَاءَةً تُرِكَ حَتَّى يُتَيَقَّنَ مَوْتُهُ ۔ ( الجوہرہ النیرہ، جلد1، صفحہ 102)
ترجمہ:میت کی تجہیز میں جلدی کی جائے، اس میں تاخیر نہ کی جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا قول ہے کہ اپنے مردوں کی تجہیز میں جلدی کرو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے، تو اس کو تم جلدی پیش کرو اور اگر وہ برا ہے تو اہل ناریعنی جہنمی کے لیے دوری ہے۔
زیادہ لوگوں کو شامل کرنے کی غرض سے جنازہ کو لیٹ کرنا یا نمازِ جمعہ کے بعد تک جنازہ میں تاخیر کرنا کہ جنازہ بڑا ہو جائے مکروہ ہے۔
چنانچہ حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: وَلَوْ جُهِّزَ الْمَيِّتُ صَبِيحَةَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ يُكْرَهُ تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ وَدَفْنُهُ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْجَمْعُ الْعَظِيمُ بَعْدَ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ۔( حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، جلد1، صفحہ 604) اسی طرح البحر الرائق میں ہے۔
ترجمہ:اگر جمعہ کے دن صبح میت کی تجہیز و تکفین کر دی،تو نماز جنازہ اورتدفین کو اس وجہ سے مؤخر کرنا ،تاکہ نمازِ جمعہ کے بعد زیادہ لوگ جنازہ پڑھیں گے ،تو یہ مکروہ ہے۔
اوراعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’ نماز جنازہ میں تعجیل شرعاً نہایت درجہ مطلوب۔
امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ و حاکم و ابن حبان وغیرہم امیری المؤمنین مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا آنَتْ، وَالجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفْئًا ‘‘ترجمہ:تین چیزوں میں دیر نہ کرو، نمازمیں جب اس کا وقت آ جائے اور جنازہ میں جس وقت حاضر ہو، اورغیر شادی شدہ لڑکی کے(نکاح کے) بارے میں جب اس کا کفو ملے۔۔
ولہٰذا علماء فرماتے ہیں:’’اگر روز جمعہ پیش از جمعہ جنازہ تیار ہو گیا، جماعتِ کثیرہ کے انتظار میں دیر نہ کریں، پہلے ہی دفن کر دیں، اس مسئلہ کا بہت لحاظ رکھنا چاہیے کہ آج کل عوام میں اس کے خلاف رائج ہے۔“(فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 309، 310)
بہار شریعت میں ہے۔ غسل و کفن و دفن میں جلدی چاہئے کہ حدیث میں اس کی بہت تاکید آئی ہے۔ ( بہار شریعت، جلد1، صفحہ809)
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ:2023۔06۔11