عام تلاش:

نکاح

<p></p>

فلٹرز

ذیلی ابواب
Oct 25, 2026 11

حرمت مصاہرت

الجواب بعون الملک الوھاب                                      بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا     مذکورہ مسؤلہ صورت کی مطابق حرمت مصاہرت ثابت نہ ہو گی اور نہ ہی اس لڑکی کی والدہ اس شخص پر حرام ہو گی کیونکہ اگر کوئی شخص غلطی سے اپنی بیٹی کو مس کر لے لیکن مس کرتے ہوئے شہوت پیدا نہ ہو یا پہلے سے شہوت ہونے کی صورت میں مزید اضافہ نہ ہو تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہو تی اور نہ اس لڑکی کی ماں اس پر حرام ہوتی ہے ۔البتہ اگر کوئی شخص اپنی نو سال قمری سے زیادہ والی مشتھاۃ (قابل شہوت)بیٹی کو یا کسی لڑکی کو مس اس طرح مس کر لے کہ مس ہونے کی صورت میں شہوت پیدا ہو جائے جدا ہونے سے پہلے پہلے ۔یا اگر مس کرنے سے پہلے شہوت تھی تو مس کرنے سے شہوت میں اضافہ ہو جائے ایسی حالت میں حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی اور اس بیٹی یا کوئی بھی لڑکی ہو اس کی ماں مس کرنے والے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی بشرطیکہ مس کرتے ہوئے انزال نہ ہو گیا ہو اور لڑکی کے جسم کی گرمی بھی محسوس ہوئی ہو اور جدا ہونے سے پہلے پہلے شہوت کا وجود پایا جائے اور لڑکی مشتھاۃ بھی ہو تو اسطرح دونوں کے اصول وفروع ایک دوسرے پر حرام ہو جائینگے ۔شہوت پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر جوان مرد ہے کہ جس کے آلہ تناسل میں انتشار و حرکت پیدا ہو سکتی ہے تو مس کرنے کی صورت میں آلہ تناسل میں حرکت ہوئی ہے یا پہلے سے منتشر ہونے کی صورت میں مس کرنے سے حرکت میں اضافہ ہو تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی ۔اور اگر ایسا شخص ہے جس کے آلہ تناسل میں حرکت و انتشار پیدا نہیں ہوتی یا کوئی عورت ہے تو ان دونوں کے حق میں شہوت کی حد یہ ہے کہ دل میں میلان اور لذت پیدا ہو اور اگر مس کرنے سے پہلے لذت موجود تھی تو مس کرنے کی حالت میں جدا ہونے سے پہلے پہلے لذت قلبی میں اضافہ ہو جائے تو ایسی صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی اور اگر مس کرتے ہی شہوت میں کمی واقع ہو جائے تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہو گی ۔فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے زنا کرتا ہے اس کی ماں ہمیشہ کے لئے اس زانی پر حرام ہو جاتی ہے ۔اور شہوت کے ساتھ نو سال سے زائد عمر کی مشتہاۃ لڑکی کا بوسہ لینا یا مس کرنا زنا کے قائم مقام ہے ( ھکذا النظر الی الفرج الداخل بشہوہ )مزید برآں یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح مرد کے مس کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے اسی طرح کسی عورت کا شہوت کی ساتھ ایسے لڑکے کو مس کرنا جس کی عمر بارہ سال قمری سے زائد ہو اس سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے اور اس لڑکے کے والد پر وہ عورت حرام ہو جاتی ہے بشرطیکہ مس ہونے کی حالت میں شہوت پیدا ہوئی یا پہلے سے موجود شہوت میںاضافہ ہوا ۔البتہ مرد ہو یا عورت دونوں صورتوں میں اگر مس کرتے وقت درمیان میں کوئی موٹا کپڑا وغیرہ حائل ہو اس طرح کہ جسم کی گرمی محسوس نہ ہوئی ہو تو پھر حرمت مصاہرت ثابت نہ ہو گی اور دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوں گے ۔نیز حرمت مصاہرت کے ثابت ہونے میں عمد ،نسیان، خطاء ،اکراہ م، سب برابر ہیں ۔اور شہوت کا صرف ایک طرف سے پایا جانا کافی ہے دونوں کی طرف سے شہوت کا وجود ضروری نہیں خواہ مرد ہو یا عورت یعنی مس کرنے والے کو شہوت تھی جبکہ دوسرا فریق سویا ہوا تھا کہ شہوت اسے محسوس نہ ہوئی ہو ئی تب بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی ۔جیسا کہ درمختار اور تنویر الابصار میں ہے ۔حرم ایضا بالصھریۃ اصل مزنیتہ و اصل ممسوستہ بشہوۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔و فروعھن مطلقا والعبرۃ للشہوۃ عند المس والنظر لا بعد ھما وحدھا فیھما تحرک آلتہ  او زیادتہ و بہ یفتی              (درمختار ج ۳ ص ۳۲،۳۳)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلو ایقظ زوجتہ او ایقظتہ ھی لجماعھا فمست یدہ بنتھا المشتھاۃ او یدھا ابنہ حرمت الام ابدا.   (درمختار علی ھامش ج ۳ ص ۳۵ )و تکفی الشہوۃ من احد ھما.     (درمختار ج ۳ ص ۳۶)ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خانمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2016۔12۔29

Oct 08, 2026 489

ولیمہ شادی کے بعد کس دن ہو

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاولیمہ شب زفاف کی اگلی صبح کو سنت ہے۔ بخاری شریف  میں ہے:۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: «كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا؟» قَالَ: زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ۔(بخاری، رقم الحدیث 5153، جلد7، صفحہ 21)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئےاس حال میں کہ ان پر زعفران کا  رنگ لگا ہوا تھا تو  رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے (وجہ )پوچھی ،تو انہوں نے عرض کی  کہ انصار میں سے ایک عورت سے انہوں نے شادی کر لی ہے، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پوچھا:اسے کتنا مہر دیا؟عرض کیا:گٹھلی برابر(چھے مثقال) سونا،رسول اللہ صلی اللہ تعالی  علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کے ساتھ۔حدیث  مبارک میں ہے۔ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ۔ (بخاری،  رقم الحدیث 4794، جلد6، صفحہ 119)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے  ولیمہ اس وقت کیا جب زینب بنت جحش سے شب زفاف کر لیا۔الاختیار لتعلیل المختار میں میں ہے:۔وھی اذا بنی الرجل  بامراتہ  ان ید عو الجیران والاقربا والاصدقاء ویذبح لھم  ویصنع لھم طعاما۔(الاختیار  لتعلیل المختار،جلد 4،صفحہ176)ولیمہ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرلے ،تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے۔   خانیہ  میں ہے۔رجل بنی  بامراۃ قالوا:ینبغی  ان یتخذ ولیمۃ و یدعو الجیران والاقربا ء والاصدقاء ویصنع  لھم طعاما ویذبح  لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام اولم ولو بشاۃ۔                         (خانیہ ،جلد3،صفحہ306)ایسا آدمی جس نے (شادی کے بعد)عورت سے دخول کر لیا،(اس کے متعلق )علماء نے فرمایا:مناسب ہے کہ ولیمہ کرے اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے اور جانور ذبح کرے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سےکہ (آپ ﷺ نے ایک صحابی کو فرمایا)ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہو۔فتاوی عالمگیری میں ہے ۔ وتسمیۃ العرس سنۃ وفیھا مثوبۃ  عظیمۃ وھی اذا  بنی الرجل بامراتہ  انہ ینبغی   ان ید عو الجیران والاقربا  ء والاصدقاء ویذبح لھم  ویصنع لھم طعاما۔                                                                                                                                (عالمگیری ،جلد5،صفحہ343)اور دعوت ولیمہ سنت ہے اور اس میں بڑا ثواب ہے اور ولیمہ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرے ،تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے۔البنایہ میں ہے۔ ولو بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يولم، والوليمة حسنة، ويدعو الجيران والأصدقاء، ويصنع لهم طعاما ويذبح لهم ۔                                                              (البنایہ، جلد12، صفحہ 89)فتاوی رضویہ میں ہے: شبِ زفاف کی صبح کو احبا ب کی دعوت کرناولیمہ ہے ،رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں،یونہی بعد رخصت قبل زفاف(ہمبستری سے پہلے) ۔                                                          (فتاوی رضویہ ،جلد11،صفحہ256)اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  ایک سوال کہ ولیمہ  نکاح  کی سنت ہے یازفاف  کی اور نابالغ کانکاح ہو،تو ولیمہ کب اور کس دن کرے‘‘اس کے جواب میں فرماتےہیں کہ : ولیمہ زفاف کی سنت ہے اور نابالغ بھی بعد زفاف کے ولیمہ کرے اور ولیمہ شب زفاف  کی صبح کو کرے ۔(احکام شریعت ،صفحہ229،مطبوعہ اکبر بک سیلرز اردو بازار)بہار شریعت میں ہے۔دعوت ولیمہ سنت ہے ۔ولیمہ یہ ہے کہ شب زفاف کی صبح کو اپنے دوست احباب عزیز واقارب اور محلہ کے لوگوں کی حسب استطاعت ضیافت کرے اور اس کےلیے جانور ذبح کرنا اور کھاناتیار کرانا ، جائز ہے اور جولوگ بلائے جائیں ان کوجانا چاہیے کہ ان کاجانا اس کےلیے مسرت کاباعث ہوگا۔(بہارشریعت ،جلد3،صفحہ391،392 )ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ: 2026۔06۔30

Sep 21, 2026 414

مہر کی کم سے کم مقدار

الجواب بعون الملک الوھاب                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیانکاح کے وقت مہر کی کم ازکم  مقدار دس درہم  ہے اور چاندی کے حساب سے ساڑھے اکتیس ماشے چاندی یا  دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی ہے اگر چاندی  کے علاوہ کوئی اور چیز دینا چاہے تو ساڑھے اکتیس ماشے چاندی یا  دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی کی اس دن کی  قیمت اعتبار ہوگا  جس دن نکاح ہو رہا ہے۔نوٹ:۔ چاندی کی قیمت بدلتی رہتی ہے اس لئے نکاح کے دن ساڑھے اکتیس ماشے یا  دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی کی قیمت معلوم کر لی جائے۔در مختار میں ہے۔ (أَقَلُّهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ) لِحَدِيثِ الْبَيْهَقِيّ وَغَيْرِهِ «لَا مَهْرَ أَقَلُّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ» وَرِوَايَةُ الْأَقَلِّ تُحْمَلُ عَلَى الْمُعَجَّلِ (فِضَّةً وَزْنُ سَبْعَةٍ) مَثَاقِيلَ كَمَا فِي الزَّكَاةِ (مَضْرُوبَةً كَانَتْ أَوْ لَا) وَلَوْ دَيْنًا أَوْ عَرْضًا قِيمَتُهُ عَشَرَةٌ وَقْتَ الْعَقْدِ۔( درمختار، جلد3، صفحہ 101)اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔کم سے کم مہر دس۱۰ ہی درہم ہے یعنی دو۲تولے ساڑھے سات ماشے چاندی اُس تولے سے جس کے حساب میں انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے کا ہے، نہ روپیہ بھر کا تولہ جو بعض بلاد میں معروف ہے، مہر خوداس قدر چاندی ہو یا چاندی کے سوا اور کوئی شے اتنی ہی چاندی کی قیمت کی۔(فتاوی رضویہ، جلد12، صفحہ 162)فتاوی رضویہ میں ہے۔ چاندی کے علاوہ اور کوئی چیز دے تو دو۲تولے ساڑھے سات ماشہ چاندی کی قیمت معتبر ہوگی۔(فتاوی رضویہ، جلد12، صفحہ 162)ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                                             شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

Sep 05, 2026 67

عدالتی خلع کے بعد اسی شوہر سے نکاح کرنا

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیامذکورہ مسؤلہ صورت میں عدالتی خلع کے بعد دوبارہ اسی مرد سے نکاح ہو سکتا ہے۔ حلالہ کی ضرورت نہیں۔ شرعی مسئلہ کی وضاحت کر دی گئی ہے قانونی وضاحت کے لئے قانون دان سے رجوع کریں۔ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب                                                           شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفضلع سرگودھا                تاریخ:۔ 2014۔10۔15

عدالتی خلع | تنسیخ نکاح
مکمل فتویٰ
Sep 05, 2026 58

عدالتی تنسیخ نکاح کے بعد نکاح

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیامذکورہ مسولہ صورت کے مطابق حکم شرع یہ ہے کہ تنسیخ نکاح کی ڈگری حاصل کر لینے کے بعد دوبارہ اسی شوہر سے نکاح کرنا جائز ہے۔ حلالہ کی ضرورت نہ ہے قانونی تقاضے پورے کر لئے جائیں۔ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب                                                         شیر محمد خانمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف ضلع سرگودھاتاریخ:۔ 2023۔09۔26

عدالتی خلع | تنسیخ نکاح
مکمل فتویٰ
Aug 25, 2026 48

نکاح کی شرعی حیثیت، حق مہر اور نکاح کا طریقہ

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیانکاح اللہ کریم کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اور نکاح معاشرے میں  ایک  ایسا عظیم رشتہ اور بندھن  ہے جس میں  دو خاندان ہی نہیں دو قبیلوں ان کی آپس میں  محبت ہوجاتی ہے ،  تعلق قائم ہوتا ہےایک دوسرے کا لحاظ قائم ہوتا ہے اس میں ایک سبب نکاح ہے   کہ ایک غیر قبیلہ اپنا شمار ہونے لگ جاتا ہےاور اسی لئے  اس کو نعمتوں میں شمار کیا  گیا ہے۔ ایک آدمی جو اس قبیلہ کا نہیں۔ وہ جب کسی قبیلہ میں آ کر نکاح کر لیتا ہےتو اس قبیلے کا فرد بن جاتا ہےسارا قبیلہ اس کی پشت پناہی کرتا ہے پھر ان رشتوں کو نبھانے کے لئے جو اسلام نے اصول و ضوابط عطا فرمائےاگر انسان ان کی پابندی کریں تو ایک بہترین نسل تیارہو گی اور امت مسلمہ  ایک ایسی مثالی قوم کے طور پہ دنیا کے سامنے نمودار ہو گی  جس کی مثال نہیں پیش کی جا سکتی۔ یہ ایک دائمی رشتہ ہے عارضی نہیں ہوتا لیکن جہالت کی وجہ سے بسا اوقات لوگ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔اللہ کریم نے ارشاد فرمایا وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ۔                                                                                                                          (پارہ18، سورہ النور، آیت 32)اور نکاح کردیا کرو ان کے جو بےنکاح ہیں تم میں سے  اور جو نیک ہیں  تمہارے غلاموں اور کنیزوں میں سے اگر وہ تنگ دست ہوں (تو فکر نہ کرو) غنی کر دے گا اللہ تعالیٰ انھیں اپنے فضل سے  اور اللہ تعالیٰ وسعت والا ہمہ دان ہے ۔کہ تم میں سے جن لوگوں کا نکاح نہیں ہوا حکمِ خداوندی ہے وہ نکاح کرلیں۔نکاح کا فائدہ اس بارے میں دوسرے نمبر پر جن لوگوں کا ذکر ہوا  وہ یہ ہے وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ اور جو نیک ہیں  تمہارے غلاموں اور کنیزوں میں سے اگر وہ تنگ دست ہوں (تو فکر نہ کرو) غنی کر دے گا اللہ تعالیٰ انھیں اپنے فضل سے ۔قرآنِ مجید نے جس طرف توجہ دلائی  وہ یہ ہے کہ اگر غلاموں اور لونڈیوں کی بھی تم شادی کر دو گے تو اللہ رب العزت اُنہیں غنی فرما دے گا اللہ وسعت والا ہے، علم والا ہے۔حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے۔ قال: أطيعوا الله فيما أمركم من النكاح ينجز لكم ما وعدكم من الغناء۔’’اللہ تعالی نے جو نکاح کرنے کا حکم دیا ہے تم اس کی اطاعت کرو ۔ اس نے جو تمھیں غنی کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ اسے پورا کرے گا ۔(ضیاء القرآن، پارہ18، سورہ النور، زیر آیت 32)تو ضروریات وہ پوری فرما دے گا  اُس کی نعمتیں بے شمار ہیں اللہ کریم کو ئی نہ  کوئی بندوبست ضرور فرما دیتا ہے۔جو نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا    یا۔    يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ البَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ۔(بخاری، رقم الحدیث 5056، جلد7، صفحہ 3)ترجمہ:۔اے جوانوں کے گروہ جو تم میں سے طاقت رکھتا ہو وہ ضرور شادی کرے کیونکہ شادی کرنا اس کی نظر کو پاک کر دے گا اور اس کو گناہ سے بچا لے گا ۔ اور جو شادی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ روزہ رکھے ۔ بے شک یہ اس کے لئے ڈھال ہے۔ روزے شیطانی خیالات سے اسے محفوظ کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے۔ انسان کی طبعی ضروریات کے لئے اسلام نے جو طریقہ عطا فرمایا اس پر عمل پیرا ہونے میں ہی  انسان کی سلامتی ہے اللہ کریم نے اس انسان کو پیدا فرمایا اس کی جو مشینری ہے اس کے استعمال اور  اس کو رواں دواں رکھنے کا طریقہ بھی بیان فرما دیا۔نکاح کی شرعی حیثیتنکاح کرنا سنت ہے۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ۔                                        (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث 1846، جلد 1، صفحہ 592)نکاح میری  سنت ہے جواس پہ عمل پیرا نہ ہوا  تو وہ میرے راستے پہ نہیں ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف اپنی امت کی توجہ مبذول کرائی۔ابن  ماجہ میں ہے۔ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، وَتَزَوَّجُوا، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ ۔ (ابن ماجہ، رقم الحدیث 1846، جلد1، صفحہ 592)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ نکاح کرنا میری سنت ہے تو جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں اور نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی  وجہ سے امتوں پر فخر کروں گا اور جس میں قدرت ہو وہ ضرور نکاح کرے لیکن جو شادی کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ شہوت کے لئے ڈھال ہے ۔حق مہرنکاح کے وقت مہر کی کم ازکم  مقدار دس درہم  ہے اور چاندی کے حساب سے ساڑھے اکتیس ماشے چاندی یا  دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی ہے اگر چاندی  کے علاوہ کوئی اور چیز دینا چاہے تو ساڑھے اکتیس ماشے چاندی یا  دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی کی اس دن کی  قیمت اعتبار ہوگا  جس دن نکاح ہو رہا ہے۔نوٹ:۔ چاندی کی قیمت بدلتی رہتی ہے اس لئے نکاح کے دن ساڑھے اکتیس ماشے یا  دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی کی قیمت معلوم کر لی جائے۔ البتہ آج مورخہ 30جون 2026 کو موجودہ حالات کے تناظر میں کم سے کم 25 سے 30ہزار کے درمیان حق مہر ہونا چاہئے۔در مختار میں ہے۔ (أَقَلُّهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ) لِحَدِيثِ الْبَيْهَقِيّ وَغَيْرِهِ «لَا مَهْرَ أَقَلُّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ» وَرِوَايَةُ الْأَقَلِّ تُحْمَلُ عَلَى الْمُعَجَّلِ (فِضَّةً وَزْنُ سَبْعَةٍ) مَثَاقِيلَ كَمَا فِي الزَّكَاةِ (مَضْرُوبَةً كَانَتْ أَوْ لَا) وَلَوْ دَيْنًا أَوْ عَرْضًا قِيمَتُهُ عَشَرَةٌ وَقْتَ الْعَقْدِ۔)درمختار، جلد3، صفحہ 101(اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔کم سے کم مہر دس۱۰ ہی درہم ہے یعنی دو۲تولے ساڑھے سات ماشے چاندی اُس تولے سے جس کے حساب میں انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے کا ہے، نہ روپیہ بھر کا تولہ جو بعض بلاد میں معروف ہے، مہر خوداس قدر چاندی ہو یا چاندی کے سوا اور کوئی شے اتنی ہی چاندی کی قیمت کی۔(فتاوی رضویہ، جلد12، صفحہ 162)فتاوی رضویہ میں ہے۔ چاندی کے علاوہ اور کوئی چیز دے تو دو۲تولے ساڑھے سات ماشہ چاندی کی قیمت معتبر ہوگی۔(فتاوی رضویہ، جلد12، صفحہ 162)نکاح اعلانیہ ہونا چاہیئےنکاح اعلانیہ کرو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي المَسَاجِدِ ۔(ترمذی، رقم الحدیث 1089، جلد3، صفحہ 390)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:  نکاح  اعلانیہ کرو، اسے(نکاح کو) مساجدمیں منعقد کرو۔ مرقاۃ المفاتیح میں ہے۔ (وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ) أَيْ: بِالْبَيِّنَةِ فَالْأَمْرُ لِلْوُجُوبِ أَوْ بِالْإِظْهَارِ وَالِاشْتِهَارِ فَالْأَمْرُ لِلِاسْتِحْبَابِ كَمَا فِي قَوْلِهِ (وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ) وَهُوَ إِمَّا لِأَنَّهُ أَدْعَى إِلَى الْإِعْلَانِ أَوْ لِحُصُولِ بِرْكَةِ الْمَكَانِ وَيَنْبَغِي أَنْ يُرَاعَى فِيهِ أَيْضًا فَضِيلَةُ الزَّمَانِ لِيَكُونَ نُورًا عَلَى نُورٍ وَسُرُورًا عَلَى سُرُورٍ، قَالَ ابْنُ الْهُمَامِ: " يُسْتَحَبُّ مُبَاشَرَةَ عَقْدِ النِّكَاحِ فِي الْمَسْجِدِ لِكَوْنِهِ عِبَادَةً وَكَوْنِهِ فِي يَوْمَ الْجُمْعَةِ " اه، وَهُوَ إِمَّا تَفَاؤُلًا لِلِاجْتِمَاعِ أَوْ تَوَقُّعَ زِيَادَةِ الثَّوَابِ أَوْ لِأَنَّهُ يَحْصُلُ بِهِ كَمَالُ الْإِعْلَانِ ۔                    (مرقاۃ المفاتیح، جلد5، صفحہ 2072)حضرت مفتی احمدیار خان علیہ  الرحمہ فرماتے  ہیں۔ فقہا فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ نکاح جمعہ کے دن بعد نمازِ جمعہ جامع مسجد میں تمام نمازیوں کے سامنے ہو تاکہ نکاح کا اعلان بھی ہوجائے اور ساتھ ہی جگہ اور وقت کی برکت بھی حاصل ہوجائے نیز نکاح عبادت ہے اور عبادت کے لئے عبادت خانہ یعنی مسجد موزوں ہے۔                                                       (مراٰۃالمناجیح،جلد 5،صفحہ39)نکاح میں کم از کم دو گواہوں کا  ہونا ضروری ہیںہدایہ میں ہے۔قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف۔                                                                                                                                (ھدایہ، جلد1، صفحہ 185)فتاوی شامی میں ہے۔(قَوْلُهُ: وَشُرِطَ حُضُورُ شَاهِدَيْنِ) أَيْ يَشْهَدَانِ عَلَى الْعَقْدِ۔                      (فتاوی شامی، جلد3، صفحہ 21)بہار شریعت میں ہے:۔ گواہ ہونا۔ یعنی ایجاب و قبول دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے ہوں۔ گواہ آزاد، عاقل، بالغ ہوں اور سب نے ایک ساتھ نکاح کے الفاظ سُنے۔                                                     (بہار شریعت، جلد2، صفحہ 11)فتاوی ہندیہ میں ہے۔ وَيُشْتَرَطُ الْعَدَدُ فَلَا يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ بِشَاهِدٍ وَاحِدٍ هَكَذَا فِي الْبَدَائِعِ وَلَا يُشْتَرَطُ وَصْفُ الذُّكُورَةِ حَتَّى يَنْعَقِدُ بِحُضُورِ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ، كَذَا فِي الْهِدَايَةِ وَلَا يَنْعَقِدُ بِشَهَادَةِ الْمَرْأَتَيْنِ بِغَيْرِ رَجُلٍ وَكَذَا الْخُنْثَيَيْنِ إذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمَا رَجُلٌ هَكَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ ۔ (فتاوی عالمگیری،کتاب النکاح،جلد 1،صفحہ267،  268)ترجمہ اور عدد شرط ہے تو ایک آدمی کی گواہی سے نکاح منعقد نہیں ہوگا اسی طرح بدائع میں ہے نکاح میں گواہوں کا مرد ہونا شرط نہیں بلکہ ایک مرد اور دوعورتوں کی موجودگی میں بھی نکاح منعقد ہو جاتا ہے ،جیسا کہ ہدایہ میں ہے مرد کے بغیر صرف دو عورتوں کی موجودگی سے نکاح منعقد نہیں ہوگا اسی طرح دو خنثوں کا حکم ہے جب تک عورتوں اور خنثوں کے ساتھ کوئی مرد نہ ہواسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے۔مجمع الانہر میں ہے”(و)شرط ایضا(حضور)شاھدین (حر ین او حر و حرتین مکلفین ) ولا يصح عند صبيين ومجنونين ولا عند مراهقين كما في الينابيع۔(مجمع الانہر،کتاب النکاح،جلد 1،صفحہ 321) ترجمہ:نکاح کے وقت گواہ کے طور پر ،دو مکلف  آزاد مرد یا ایک  مکلف آزاد مرد اور دو آزاد  مکلف عورتوں کا موجود ہونا بھی شرط ہے اور صرف بچوں،پاگلوں اور مراہقوں کی موجودگی میں نکاح صحیح نہیں ہوگا جیسا کہ ینابیع میں ہے۔فتاوی رضویہ میں ہے:۔ نکاح کے لیے دومردوں یا ایک مرد دو عورتیں گواہ ہونالازم ہے،صرف ایک مرد کے سامنے ایجاب و قبول کرلینے سے(بھی) نکاح نہیں ہوسکتا۔(فتاویٰ رضویہ،کتاب النکاح،جلد11،صفحہ294) ۔نکاح  کے لئے ایک ہی  مجلس کا ہونا شرط ہےدر مختار میں ہے۔ وَمِنْ شَرَائِطِ الْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ: اتِّحَادُ الْمَجْلِسِ لَوْ حَاضِرَيْنِ۔ (درمختار، جلد3، صفحہ 14)ایجاب و قبول کی شرائط میں سے  ہے کہ حاضرین کی مجلس ایک ہو۔اسی کے تحت فتاوی شامی میں ہے۔(قَوْلُهُ: اتِّحَادُ الْمَجْلِسِ) قَالَ فِي الْبَحْرِ: فَلَوْ اخْتَلَفَ الْمَجْلِسُ لَمْ يَنْعَقِدْ۔(فتاوی شامی، جلد3، صفحہ 14)مجلس کا ایک ہونا اور بحر میں فرمایا کہ اگر مجلس الگ الگ ہو گئی تو نکاح منعقد نہیں ہوگا۔فتاوی عالمگیری میں ہے۔(وَمِنْهَا) أَنْ يَكُونَ الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ حَتَّى لَوْ اخْتَلَفَ الْمَجْلِسُ بِأَنْ كَانَا حَاضِرَيْنِ فَأَوْجَبَ أَحَدُهُمَا فَقَامَ الْآخَرُ عَنْ الْمَجْلِسِ قَبْلَ الْقَبُولِ أَوْ اشْتَغَلَ بِعَمَلٍ يُوجِبُ اخْتِلَافَ الْمَجْلِسِ لَا يَنْعَقِدُ۔(فتاوی عالمگیری، جلد1، صفحہ 269)بہار شریعت میں ہے۔ ایجاب و قبول دونوں کا ایک مجلس میں ہونا۔ تو اگر دونوں ایک مجلس میں موجود تھے ایک نے ایجاب کیا، دوسرا قبول سے پہلے اُٹھ کھڑا ہو یا کوئی ایسا کام شروع کر دیا، جس سے مجلس بدل جاتی ہےتو ایجاب باطل ہوگيا، اب قبول کرنا بےکار ہے پھر سے ہونا چاہيے۔ (بہار شریعت، جلد2، صفحہ 17)نکاح پڑھانے سے پہلے کلمہ طیبہ اور ایمان مفصل اور مجمل پڑھانا بہتر ہےنکاح سے پہلے لڑکی اور لڑکا کو کلمہ طیبہ اور ایمان مجمل و مفصل پڑھانا جیسا کہ رائج ہے بہتر ہے۔                     ( انور الحدیث ، صفحہ 330)خطبہ نکاح ایجاب و قبول سے پہلے پڑھنا مستحب ہےنکاح کا خطبہ پہلے پڑھنا مستحب ہے۔ بہار شریعت میں نکاح کے مستحبات بیان کرتے ہوئے مولانا امجد علی اعظمی صاحب لکھتے ہیں۔  نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا، کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا۔                                                                                                                                        (بہارشریعت ، جلد 1 ، صفحہ5)فتاوی شامی میں ہے۔(قَوْلُهُ: وَتَقْدِيمُ خُطْبَةٍ) بِضَمِّ الْخَاءِ مَا يُذْكَرُ قَبْلَ إجْرَاءِ الْعَقْدِ مِنْ الْحَمْدِ وَالتَّشَهُّدِ، وَأَمَّا بِكَسْرِهَا فَهِيَ طَلَبُ التَّزَوُّجِ وَأَطْلَقَ الْخُطْبَةَ فَأَفَادَ أَنَّهَا لَا تَتَعَيَّنُ بِأَلْفَاظٍ مَخْصُوصَةٍ، وَإِنْ خَطَبَ بِمَا وَرَدَ فَهُوَ أَحْسَنُ، وَمِنْهُ مَا ذَكَرَهُ ط عَنْ صَاحِبِ الْحِصْنِ الْحَصِينِ مِنْ لَفْظِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - وَهُوَ «الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُ بِهِ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاَللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} [النساء: 1] إلَى {رَقِيبًا} [النساء: 1] {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا} [الأحزاب: 70] إلَى قَوْلِهِ {عَظِيمًا} [الأحزاب: 71] ۔                                                                                                                          (فتاوی شامی، جلد3، صفحہ 8)خطبہاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہ، وَنَسْتَغْفِرُہ، وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِاَنْفُسِنَاوَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّہْدِہِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُولُہٗ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّنِسَآءً ۚ وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَالۡاَرْحَامَ ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیۡکُمْ رَقِیۡبًا ﴿۱﴾)(پ۴،النساء :۱) (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ  اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾)(پ۴،آل عمران: ۱۰۲).(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوْلًا سَدِیۡدًا  ﴿ۙ۷۰﴾ یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوۡبَکُمْ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ  وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیۡمًا ﴿۷۱﴾) ( پ۲۲،الأحزاب:۷۰۔۷۱)۔بعض لوگ ایجاب و قبول کے الفاظ بہت آہستہ بولتے ہیں اگر اس قدر آہستہ بولے کہ حاضرین میں سے دو آدمیوں نےبھی ایجاب و قبول کے الفاظ نہ سنے تو نکاح نہ ہوا۔ ( انور الحدیث ، صفحہ 330)لڑکی سے نکاح کی اجازت لینے کی صورتیںفتاوی رضویہ میں ہے۔ اولاً سب سے بہتر یہ ہے کہ جس سے نکاح  پڑھوانا منظور ہے عورت سے خاص اسی کے نام اذن طلب کریں اور ہمیشہ ہر طریقہ میں ملحوظ خاطر رہے کہ اذن لینے والا یا تو ولی اقرب یا اس کا وکیل یا قاصد ہو یا عورت سے صراحۃً ''ہوں'' کہلوالیں، مجرد سکوت پر قناعت نہ کریں، اور بعض احمق جاہلوں میں جو بدستور سنا گیا ہے کہ دلہن کے سر سے بلاٹالنے کوپاس بیٹھنے والیوں میں سے کوئی ''ہوں'' کہہ دیتی ہے اس کا انسداد کریں۔ثانیًا وکالت دوسرے ہی کے نام کرنا چاہیں تویوں سہی کہ جس طرح دلھن سے اس کی وکالت کا اذن مانگیں یونہی اسے اختیار توکیل دینا بھی طلب کریں یعنی کہیں تو نے فلاں بن فلاں بن فلاں کو فلاں بن فلاں بن فلاں کے ساتھ اس قدر مہر پر اپنے نکاح کا وکیل کیا اور اسے اختیار دیا کہ چاہے خود پڑھائے یا دوسرے کو اپنا نائب بنائے، دلھن کہے ''ہوں''۔                                                                                                                               (فتاوی رضویہ، جلد11، صفحہ 153)عرفانکاح کی اجازت  امام مسجد کو ہوتی ہےفتاوی رضویہ میں ہے۔یہ طریقہ نکاح ہمارے بلاد میں عام طورپر رائج اور معلوم ہے کہ وکیل خود نہ پڑھا ئے گا بلکہ دوسرے سے پڑھوائے گا تو کہہ سکتے ہیں کہ ضمن اذن میں دوسرے کو اذن دینے کا بھی عرفاً اذن مل گیا فان المعروف کا لمشروط کما ھو من القواعد المقررۃ والفقھیۃ (جیسا کہ فقہی قواعد میں ہے کہ معروف مشروط کی طرح ہے (یعنی عرف میں مقررہ امور بغیر ذکر بھی معتبر ہوں گے۔ ت) اور وکیل کو جب اذن تو کیل ہوتو بیشک اسے اختیار ہے کہ خود پڑھائے یا دوسرے کو اجازت دے فی الاشباہ لایوکل الوکیل الاباذن اوتعمیم   (اشباہ میں ہے کہ کوئی وکیل اپنا نائب وکیل مؤکل کی اجازت یا عمومی اختیار کے بغیر نہیں بنا سکتا ہے۔ ت)اس تقدیر پر یہ نکاح سرے سے نافذ ولازم واقع ہوا جس کی تنقیذ میں ان تدقیقات کی اصلاً حاجت نہ رہی مگریہ جب ہی کہہ سکیں گے کہ اس طریقہ نکاح کی شہرت ایسی عام ہو کہ کنواری لڑکیاں بھی اس سے واقف ہوں اورجانتی ہوں کہ وکیل خو د نہ پڑھائے گا دوسرے سے پڑھوائے گا۔                                                         (فتاوی رضویہ، جلد11، صفحہ 148)۔نکاح پڑھانے کا طریقہلڑکی سے  دو  کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کی اجازت لیں ۔ سب سے بہتر یہ ہے لڑکی  سے پوچھا جائے تیرے نکاح کا مختار کون ہے  وہ جس  کا نام لے وہ  آدمی خود بطور وکیل  یا عرفاً امام مسجد کی اجازت ہونے کی وجہ سے امام مسجد لڑکے کے پاس جا کر خطبہ نکاح پڑھ کر اور لڑکے کو کلمہ طیبہ پڑھا کر  یوں کہے کہ "میں نے اپنی موکلہ فلانۃ بنت فلاں کا نکاح فلاں بن فلاں سے 30 ہزار حق مہر کے ساتھ ان گواہوں کی موجودگی میں کیا ""لڑکا کہے میں نے قبول کیا"۔در مختار میں ہے۔ (وَيَنْعَقِدُ) مُتَلَبِّسًا (بِإِيجَابٍ) مِنْ أَحَدِهِمَا (وَقَبُولٍ) مِنْ الْآخِرِ (وَضْعًا لِلْمُضِيِّ) لِأَنَّ الْمَاضِيَ أَدَلُّ عَلَى التَّحْقِيقِ (كَزَوَّجْتُ) نَفْسِي أَوْ بِنْتِي أَوْ مُوَكِّلَتِي مِنْك (وَ) يَقُولُ الْآخَرُ (تَزَوَّجْت، وَ) يَنْعَقِدُ أَيْضًا (بِمَا) أَيْ بِلَفْظَيْنِ (وُضِعَ أَحَدُهُمَا لَهُ) لِلْمُضِيِّ (وَالْآخَرُ لِلِاسْتِقْبَالِ) أَوْ لِلْحَالِ ۔                                                                                                                       (در مختار، جلد3، صفحہ 9، 10)ایجاب و قبول کی صورتیںفتاوی عالمگیری میں ہے۔يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ وُضِعَا لِلْمُضِيِّ أَوْ وُضِعَ أَحَدُهُمَا لِلْمُضِيِّ وَالْآخَرُ لِغَيْرِهِ مُسْتَقْبَلًا كَانَ كَالْأَمْرِ أَوْ حَالًّا كَالْمُضَارِعِ، كَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ فَإِذَا قَالَ لَهَا أَتَزَوَّجُكِ بِكَذَا فَقَالَتْ قَدْ قَبِلْتُ يَتِمُّ النِّكَاحُ وَإِنْ لَمْ يَقُلْ الزَّوْجُ قَبِلْتُ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ وَلَوْ قَالَ: تُزَوِّجِينِي نَفْسَكِ فَقَبِلَتْ؛ انْعَقَدَ إنْ لَمْ يَقْصِدْ بِهِ الِاسْتِقْبَالَ هَكَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ. وَكَمَا يَنْعَقِدُ بِالْعِبَارَةِ يَنْعَقِدُ بِالْإِشَارَةِ مِنْ الْأَخْرَسِ إنْ كَانَتْ إشَارَتُهُ مَعْلُومَةً، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ. وَلَا يَنْعَقِدُ بِالتَّعَاطِي، كَذَا فِي النِّهَايَة وَلَا يَنْعَقِدُ بِالْكِتَابَةِ مِنْ الْحَاضِرَيْنِ فَلَوْ كَتَبَ تَزَوَّجْتُكِ فَكَتَبَتْ قَبِلْتُ؛ لَمْ يَنْعَقِدْ هَكَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ. (وَمَا يَنْعَقِدُ بِهِ النِّكَاحُ فَهُوَ نَوْعَانِ) صَرِيحٌ وَكِنَايَةٌ فَالصَّرِيحُ لَفْظُ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ، وَمَا عَدَاهُمَا وَهُوَ مَا يُفِيدُ مِلْكَ الْعَيْنِ فِي الْحَالِ كِنَايَةٌ، كَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ نَاقِلًا عَنْ الْمَبْسُوطِ فَيَنْعَقِدُ بِلَفْظِ الْهِبَةِ هَكَذَا فِي الْهِدَايَةِ وَلَوْ قَالَتْ: وَهَبْتُ نَفْسِي مِنْكَ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَخَذْتُ قَالُوا: لَا يَكُونُ نِكَاحًا، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ. وَلَوْ قَالَ: وَهَبْتُ بِنْتِي لِخِدْمَتِكَ وَقَبِلَ الْآخَرُ؛ لَا يَكُونُ نِكَاحًا، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ۔    (فتاوی عالمگیری، جلد1، صفحہ 270)فتاوی رضویہ میں ہے۔ یا تو شخص متوسط پہلے خاطب(شخص) سے اذن و وکالت حاصل کرکے جائے اور وہاں جو کلام مخطوبہ سے کہتا ہے اس سے تحقیق عقد مقصود رکھے کہ مخطوبہ سے اسی قدر گفتگو پر نکاح تام ونافذ ہوجائے، یا مخطوبہ سے یہ الفاظ نہ کہے بلکہ اپنے لیے اذن و وکالت لے کہ تونے فلاں ابن فلاں ابن فلاں کے ساتھ اتنے مہر پر اپنا نکاح کرنے کے لیے مجھے وکیل کیا۔ مخطوبہ کہے ہاں، پھر وہاں سے آکر خود یہی شخص خاطب(شخص) سے کہے میں نے فلانہ بنت فلاں بن فلاں کو اتنے مہر پر تیرے نکاح میں دیا تو نے قبول کیا، خاطب کہے ہاں، یا یہی الفاظ رکھنا چاہیں تواول ہی مخطوبہ سے جو گفتگو کی جاتی ہے اسے مجلس توکیل وطلب رضا نہ سمجھیں بلکہ اسی کو مجلس عقد سمجھیں، اور شخص مذکور وہ الفاظ بقصد تحقیق عقد ہی مخطوبہ سے کہے کہ نکاح وہیں منعقد ہوجائے پھر خاطب کا قبول اس کی تنفیذ قرار پائے۔ یہ سب تفصیل کہ مذکور ہوئی اس صورت میں ہے کہ مخطوبہ جلسہ خاطب سے اتنی دور بیٹھی ہو کہ اس کا کلام یہاں والے نہ سنیں یا وہ قبول کیا کہہ کر اٹھ جائے اس کے بعد خاطب سے گفتگو آئے یاجب مخطوبہ نے قبول کیا کہہ لیا اس کے بعد خاطب اٹھ کھڑا ہو پھر اس سے کہا گیا کہ ان صورتوں میں مجلس متبدل ہوگی یا شہود ان دونوں کا کلا م معاً نہ سنیں گے اور اگر وہ اس قدر بیٹھی ہے کہ اہل جلسہ خاطب نے اس کا قبول کیا، کہنا سنا اور ابھی خاطب ومخطوبہ ویسے ہی بیٹھے ہیں کہ خاطب سے آکر بیان کیا گیا اورا س نے قبول کیا کہا کہ مجلس واحد میں دونوں کا کہنا حاضرین میں کم ازکم دو مردوں یا ایک مرد دوعورتوں نے معاًسنا اور سمجھا تو نکاح کی صحت وتمامی میں اصلاً کلام نہیں، اب یہ بیچ کا شخص محض لغو وفضولی ہوگا اور خاطب ومخطوبہ ہی کاکلام ایجاب وقبول ہوگا ۔ (فتاوی رضویہ، جلد11، صفحہ 169)بہار شریعت میں ہے:۔ ایجاب و قبول یعنی مثلاً ایک کہے میں نے اپنے کو تیری زوجیت میں دیا۔ دوسرا کہے میں نے قبول کیا۔ یہ نکاح کے رکن ہیں۔ پہلے جو کہے وہ ایجاب ہے اور اُس کے جواب میں دوسرے کے الفاظ کو قبول کہتے ہیں۔ یہ کچھ ضرور نہیں کہ عورت کی طرف سے ایجاب ہو اور مرد کی طرف سے قبول بلکہ اِس کا اُلٹا بھی ہوسکتا ہے۔  ایجاب و قبول میں ماضی کا لفظ ہونا ضروری ہے، مثلاً یوں کہے کہ میں نے اپنا یا اپنی لڑکی یا اپنی موکلہ کا تجھ سے نکاح کیا یا اِن کو تیرے نکاح میں دیا، وہ کہے میں نے اپنے ليے یا اپنے بیٹے یا مؤکل کے ليے قبول کیا یا ایک طرف سے امر کا صیغہ ہو دوسری طرف سے ماضی کا، مثلاً یوں کہ تو مجھ سے اپنا نکاح کر دے یا تو میری عورت ہو جا، اُس نے کہا میں نے قبول کیا یا زوجیت میں دیا ہو جائے گا یا ایک طرف سے حال کا صیغہ ہودوسری طرف سے ماضی کا، مثلاً کہے تُو مجھ سے اپنا نکاح کرتی ہے اُس نے کہا کیا تو ہوگيا یا یوں کہ میں تجھ سے نکاح کرتا ہوں اُس نے کہا میں نے قبول کیا تو ہو جائے گا، اِن دونوں صورتوں میں پہلے شخص کو اس کی ضرورت نہیں کہ کہے میں نے قبول کیا۔ اور اگر کہا تُو نے اپنی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دیا اُس نے کہا کر دیا یا کہا ہاں تو جب تک پہلا شخص یہ نہ کہے کہ میں نے قبول کیا نکاح نہ ہوگا اور ان لفظوں سے کہ نکاح کروں گا یا قبول کروں گا نکاح نہیں ہوسکتا۔                                                                 (بہار شریعت، جلد2، صفحہ 6، 7)ولیمہ شب زفاف کے اگلے دن سنت ہےولیمہ شب زفاف کی اگلی صبح کو سنت ہے۔ بخاری شریف  میں ہے:۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: «كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا؟» قَالَ: زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ۔(بخاری، رقم الحدیث 5153، جلد7، صفحہ 21)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئےاس حال میں کہ ان پر زعفران کا  رنگ لگا ہوا تھا تو  رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے (وجہ )پوچھی ،تو انہوں نے عرض کی  کہ انصار میں سے ایک عورت سے انہوں نے شادی کر لی ہے، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پوچھا:اسے کتنا مہر دیا؟عرض کیا:گٹھلی برابر(چھے مثقال) سونا،رسول اللہ صلی اللہ تعالی  علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کے ساتھ۔حدیث  مبارک میں ہے۔ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ۔ (بخاری،  رقم الحدیث 4794، جلد6، صفحہ 119)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے  ولیمہ اس وقت کیا جب زینب بنت جحش سے شب زفاف کر لیا۔الاختیار لتعلیل المختار میں میں ہے:۔  وھی اذا بنی الرجل  بامراتہ  ان ید عو الجیران والاقربا والاصدقاء ویذبح لھم  ویصنع لھم طعاما۔ (الاختیار  لتعلیل المختار،جلد 4،صفحہ176)ولیمہ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرلے ،تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے۔   خانیہ  میں ہے۔ رجل بنی  بامراۃ قالوا:ینبغی  ان یتخذ ولیمۃ و یدعو الجیران والاقربا ء والاصدقاء ویصنع  لھم طعاما ویذبح  لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام اولم ولو بشاۃ۔ (خانیہ ،جلد3،صفحہ306)ایسا آدمی جس نے (شادی کے بعد)عورت سے دخول کر لیا،(اس کے متعلق )علماء نے فرمایا:مناسب ہے کہ ولیمہ کرے اور پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے اور جانور ذبح کرے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سےکہ (آپ ﷺ نے ایک صحابی کو فرمایا)ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری ہو۔فتاوی عالمگیری میں ہے ۔ وتسمیۃ العرس سنۃ وفیھا مثوبۃ  عظیمۃ وھی اذا  بنی الرجل بامراتہ  انہ ینبغی   ان ید عو الجیران والاقربا  ء والاصدقاء ویذبح لھم  ویصنع لھم طعاما۔                                                                                                                                (عالمگیری ،جلد5،صفحہ343)اور دعوت ولیمہ سنت ہے اور اس میں بڑا ثواب ہے اور ولیمہ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرے ،تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے۔البنایہ میں ہے۔ ولو بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يولم، والوليمة حسنة، ويدعو الجيران والأصدقاء، ويصنع لهم طعاما ويذبح لهم ۔                                                         (البنایہ، جلد12، صفحہ 89)فتاوی رضویہ میں ہے: شبِ زفاف کی صبح کو احبا ب کی دعوت کرناولیمہ ہے ،رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں،یونہی بعد رخصت قبل زفاف(ہمبستری سے پہلے) ۔                                                          (فتاوی رضویہ ،جلد11،صفحہ256)اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  ایک سوال’’ولیمہ  نکاح  کی سنت ہے یازفاف  کی اور نابالغ کانکاح ہو،تو ولیمہ کب اور کس دن کرے ‘‘کے جواب میں فرماتےہیں کہ :’’ولیمہ زفاف کی سنت ہے اور نابالغ بھی بعد زفاف کے ولیمہ کرے اور ولیمہ شب زفاف  کی صبح کو کرے ۔(احکام شریعت ،صفحہ229،مطبوعہ اکبر بک سیلرز اردو بازار)   بہار شریعت میں ہے۔ دعوت ولیمہ سنت ہے ۔ولیمہ یہ ہے کہ شب زفاف کی صبح کو اپنے دوست احباب عزیز واقارب اور محلہ کے لوگوں کی حسب استطاعت ضیافت کرے اور اس کےلیے جانور ذبح کرنا اور کھاناتیار کرانا ، جائز ہے اور جولوگ بلائے جائیں ان کوجانا چاہیے کہ ان کاجانا اس کےلیے مسرت کاباعث ہوگا۔                        (بہارشریعت ،جلد3،صفحہ391،392 )ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

نکاح کی شرعی حیثیت و طریقہ
مکمل فتویٰ
Jul 29, 2026 15

مرد طلاق دے عورت نہ سنے تو طلاق کا حکم ؟ کیا طلاق کے الفاظ عورت کو سننا ضروری ہے؟ عورت نہ سنے تو طلاق کا حکم؟

الجواب بعون الملک الوھاب  بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیامرد جب  طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو جائے گی عورت وہاں موجود ہو یا نہ ہو ۔ عورت کا سننا یا  پاس ہونا شرط نہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے۔ طلاق کے لئے عورت کا وہاں حاضر ہونا کچھ شرط نہیںفان ازالۃ لاعقد کما لایخفی )کیونکہ یہ ازالہ نکاح ہے نکاح نہیں ہے تاکہ حاضری ضروری ہوتی جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)(۔(فتاوی رضویہ، جلد12، صفحہ361)ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب                           شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف  محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

Jul 24, 2026 31

کیا بیوی شوہر کو نام سے پکار سکتی ہے؟ شوہر کا بیوی کو نام لے کر پکارنا کیا بیوی شوہر کو نام سے پکار سکتی ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاعورت کے لئے مکروہ (ناپسندیدہ) ہے کہ وہ شوہر کا نام لے کر پکارے کیونکہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار، عالمگیری میں ہے۔والالفاظ من تنویر الابصار مع الدر المختار وَيُكْرَهُ أَنْ يَدْعُوَ الرَّجُلُ أَبَاهُ وَأَنْ تَدْعُوَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا بِاسْمِهِ۔درمختار جلد11،  صفحہ 599،  بیروتیہ مکروہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے باپ کو اس کے نام سے اور کوئی عورت اپنے خاوند کو اس کے نام سے پکارے۔بہار شریعت میں ہے۔باپ کو اس کا نام لے کر پکارنا مکروہ ہے ،کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ اسی طرح عورت کو یہ مکروہ ہے، کہ شوہر کو نام لے کر پکارے۔بعض جاہلوں میں یہ مشہور ہے کہ عورت اگر شوہر کا نام لے لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ غلط ہے۔بہار شریعت جلد2، حصہ16، صفحہ658اگرچہ نام لے کر پکارنا جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بیوی اپنے خاوند کو نام لے کر نہ پکارے۔ بیوی کو چاہئے کہ خاوند کو پیار سے بلائے اسی طرح بدلے میں خاوند بھی اپنی بیوی کو پیار سے پکارے۔اسی طرح دونوں کے مابین محبت بڑھے گی اور ان کا رشتہ مضبوط تر ہوگا۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف                                                                                            محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف