حرمت مصاہرت
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا مذکورہ مسؤلہ صورت کی مطابق حرمت مصاہرت ثابت نہ ہو گی اور نہ ہی اس لڑکی کی والدہ اس شخص پر حرام ہو گی کیونکہ اگر کوئی شخص غلطی سے اپنی بیٹی کو مس کر لے لیکن مس کرتے ہوئے شہوت پیدا نہ ہو یا پہلے سے شہوت ہونے کی صورت میں مزید اضافہ نہ ہو تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہو تی اور نہ اس لڑکی کی ماں اس پر حرام ہوتی ہے ۔البتہ اگر کوئی شخص اپنی نو سال قمری سے زیادہ والی مشتھاۃ (قابل شہوت)بیٹی کو یا کسی لڑکی کو مس اس طرح مس کر لے کہ مس ہونے کی صورت میں شہوت پیدا ہو جائے جدا ہونے سے پہلے پہلے ۔یا اگر مس کرنے سے پہلے شہوت تھی تو مس کرنے سے شہوت میں اضافہ ہو جائے ایسی حالت میں حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی اور اس بیٹی یا کوئی بھی لڑکی ہو اس کی ماں مس کرنے والے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی بشرطیکہ مس کرتے ہوئے انزال نہ ہو گیا ہو اور لڑکی کے جسم کی گرمی بھی محسوس ہوئی ہو اور جدا ہونے سے پہلے پہلے شہوت کا وجود پایا جائے اور لڑکی مشتھاۃ بھی ہو تو اسطرح دونوں کے اصول وفروع ایک دوسرے پر حرام ہو جائینگے ۔شہوت پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر جوان مرد ہے کہ جس کے آلہ تناسل میں انتشار و حرکت پیدا ہو سکتی ہے تو مس کرنے کی صورت میں آلہ تناسل میں حرکت ہوئی ہے یا پہلے سے منتشر ہونے کی صورت میں مس کرنے سے حرکت میں اضافہ ہو تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی ۔اور اگر ایسا شخص ہے جس کے آلہ تناسل میں حرکت و انتشار پیدا نہیں ہوتی یا کوئی عورت ہے تو ان دونوں کے حق میں شہوت کی حد یہ ہے کہ دل میں میلان اور لذت پیدا ہو اور اگر مس کرنے سے پہلے لذت موجود تھی تو مس کرنے کی حالت میں جدا ہونے سے پہلے پہلے لذت قلبی میں اضافہ ہو جائے تو ایسی صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی اور اگر مس کرتے ہی شہوت میں کمی واقع ہو جائے تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہو گی ۔فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے زنا کرتا ہے اس کی ماں ہمیشہ کے لئے اس زانی پر حرام ہو جاتی ہے ۔اور شہوت کے ساتھ نو سال سے زائد عمر کی مشتہاۃ لڑکی کا بوسہ لینا یا مس کرنا زنا کے قائم مقام ہے ( ھکذا النظر الی الفرج الداخل بشہوہ )مزید برآں یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح مرد کے مس کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے اسی طرح کسی عورت کا شہوت کی ساتھ ایسے لڑکے کو مس کرنا جس کی عمر بارہ سال قمری سے زائد ہو اس سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے اور اس لڑکے کے والد پر وہ عورت حرام ہو جاتی ہے بشرطیکہ مس ہونے کی حالت میں شہوت پیدا ہوئی یا پہلے سے موجود شہوت میںاضافہ ہوا ۔البتہ مرد ہو یا عورت دونوں صورتوں میں اگر مس کرتے وقت درمیان میں کوئی موٹا کپڑا وغیرہ حائل ہو اس طرح کہ جسم کی گرمی محسوس نہ ہوئی ہو تو پھر حرمت مصاہرت ثابت نہ ہو گی اور دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوں گے ۔نیز حرمت مصاہرت کے ثابت ہونے میں عمد ،نسیان، خطاء ،اکراہ م، سب برابر ہیں ۔اور شہوت کا صرف ایک طرف سے پایا جانا کافی ہے دونوں کی طرف سے شہوت کا وجود ضروری نہیں خواہ مرد ہو یا عورت یعنی مس کرنے والے کو شہوت تھی جبکہ دوسرا فریق سویا ہوا تھا کہ شہوت اسے محسوس نہ ہوئی ہو ئی تب بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی ۔جیسا کہ درمختار اور تنویر الابصار میں ہے ۔حرم ایضا بالصھریۃ اصل مزنیتہ و اصل ممسوستہ بشہوۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔و فروعھن مطلقا والعبرۃ للشہوۃ عند المس والنظر لا بعد ھما وحدھا فیھما تحرک آلتہ او زیادتہ و بہ یفتی (درمختار ج ۳ ص ۳۲،۳۳)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلو ایقظ زوجتہ او ایقظتہ ھی لجماعھا فمست یدہ بنتھا المشتھاۃ او یدھا ابنہ حرمت الام ابدا. (درمختار علی ھامش ج ۳ ص ۳۵ )و تکفی الشہوۃ من احد ھما. (درمختار ج ۳ ص ۳۶)ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خانمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:2016۔12۔29