کیا بیوی شوہر کو نام سے پکار سکتی ہے؟ شوہر کا بیوی کو نام لے کر پکارنا کیا بیوی شوہر کو نام سے پکار سکتی ہے؟
سوال
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
عورت کے لئے مکروہ (ناپسندیدہ) ہے کہ وہ شوہر کا نام لے کر پکارے کیونکہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار، عالمگیری میں ہے۔والالفاظ من تنویر الابصار مع الدر المختار
وَيُكْرَهُ أَنْ يَدْعُوَ الرَّجُلُ أَبَاهُ وَأَنْ تَدْعُوَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا بِاسْمِهِ۔
درمختار جلد11، صفحہ 599، بیروت
یہ مکروہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے باپ کو اس کے نام سے اور کوئی عورت اپنے خاوند کو اس کے نام سے پکارے۔
بہار شریعت میں ہے۔باپ کو اس کا نام لے کر پکارنا مکروہ ہے ،کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ اسی طرح عورت کو یہ مکروہ ہے، کہ شوہر کو نام لے کر پکارے۔بعض جاہلوں میں یہ مشہور ہے کہ عورت اگر شوہر کا نام لے لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ غلط ہے۔
بہار شریعت جلد2، حصہ16، صفحہ658
اگرچہ نام لے کر پکارنا جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بیوی اپنے خاوند کو نام لے کر نہ پکارے۔ بیوی کو چاہئے کہ خاوند کو پیار سے بلائے اسی طرح بدلے میں خاوند بھی اپنی بیوی کو پیار سے پکارے۔
اسی طرح دونوں کے مابین محبت بڑھے گی اور ان کا رشتہ مضبوط تر ہوگا۔
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف