طلاق دینے والوں کے نام اہم پیغام
طلاق دینے والے ایک مجلس میں ہرگز تین طلاق اکٹھی نہ دیا کریں نہ ہی عرضی نویس حضرات لکھا کریں
<p>طلاق کے مسائل کے بارے میں آگاہی اور طلاق دینے کا طریقہ</p>
طلاق دینے والے ایک مجلس میں ہرگز تین طلاق اکٹھی نہ دیا کریں نہ ہی عرضی نویس حضرات لکھا کریں
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیامذکورہ بالا مسئولہ صورت کے مطابق اس عورت کا پھر پہلے مرد سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، جب کہ قرآن مجید میں ہے فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔ (پارہ2سورہ بقرہ آیت229)یعنی اگر مرداپنی عورت کو تیسری طلاق دے دے تو وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے ( اور وہ اس سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کرے جیسا کہ حدیث امراة رفاعہ سے ثابت ہے)اگر نکاح کے وقت میں تحلیل کی شرط نہ لگائی جائے اگر چہ دوسرے خاوند کے ذہن میں ہو کہ وہ اس کو طلاق دے دے گا تو اس میں کسی قسم کی کراہت نہیں جیسادر مختار میں ہے أَضْمَرَ ذَلِكَ لَا) يُكْرَهُ (وَكَانَ) الرَّجُلُ (مَأْجُورًا) لِقَصْدِ الْإِصْلَاحِ۔(درمختار، جلد3، صفحہ415)لیکن جب مرد کے دل میں ہوکہ وہ اسے طلاق دے دے گا تو مکروہ نہیں اور ارادہ اصلاح کی وجہ سے وہ آدمی ماجور ہوگا۔ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصوابکتبہ العبد المنیب محمد ایوبمفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا ومصلیا اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا طلاق سمجھو تو شوہر کے اس قول سے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ جیسا کہ فتاوی امام قاضی خان میں ہے ۔ امراۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ ۔۔۔۔۔۔۔۔و لو قال الزوج دادہ دادہ انکار،او قال کردہ آنکارلا یقع الطلاق و ان نوی ، کانہ قال بالعربیۃ احسبی انک طالق ، و ان قال ذالک ، لا یقع وان نوی ۔(فتاوی قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ج1ص457،مکتبہ رشیدیہ ) ترجمہ :۔ بیوی نے اپنے شوہر سے کہا ۔’’مجھے طلاق دے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔(یہاں کئی کلمات ذکر کرنے کے بعد امام قاضی خان لکھتے ہیں )شوہر نے جواب میں کہا : تو دی ہوئی یا کی ہوئی خیال کر لے ۔ تو اگرچہ شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ کلمات کہے ہوں ، (تب بھی ان الفاظ سے )طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ یہ کلمات ایسے ہیں ، جیسے کوئی شوہر عربی میں اپنی بیوی سے کہے ،’’سمجھو کہ تجھے طلاق ہے (یایہ کہ تم طلاق سمجھو )، تو اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے بھی یہ کلمات کہے ہوں ، تب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ (اس لئے کہ طلاق انشاء ات میں سے ہے اور یہ انشاء نہیں ، کیونکہ انشاء کا مطلب ہے قصد و یقین کے ساتھ کوئی بات نافذ کرنا )۔(تفھیم المسائل ج5ص388) اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں یوں رقمطراز ہیں ۔ صورت مستفسرۃ میں طلاق نہ ہوئی ۔ کما بیناہ فی فتاوئنا و نص فی الخانیہ ان احسبی انک طالق لیس بطلاق و فی الھندیہ عن الخلاصۃ امراۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال دادہ انگار او کردہ انگار لا یقع و ان نوی ۔ جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے اور خانیہ میں نص موجود ہے کہ خاوند کا بیوی کو کہنا کہ تو طلاق سمجھ لے یہ طلاق نہیں ہے اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ کسی عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ مجھے طلاق دے تو خاوند نے جواب میں کہا تو (اس کو )طلاق دی ہوئی یا طلاق کی ہوئی سمجھ لے ‘‘تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ اس سے طلاق کی نیت کی ہو ۔ (فتاوی رضویہ ج13ص243,244)ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب شیر محمد خان مفتی دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ الشریفہ ضلع سرگودھاتاریخ: 2017۔12۔ 28
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیافتاوی رضویہ میں ہے۔ مرد کی قسم کا اعتبار ہے اور عورت جانتی ہے کہ وہ تین طلاق دے چکا ہے تو جس طرح ممکن ہو اس سے بھاگے نجات حاصل کر۔ اپنا مہر وغیرہ چھوڑنے کے بدلے اس سے طلاق مل جائے تو یوں لے اگر نہ ممکن ہو تو عذاب اس پر ہوگا جب تک یہ خود اس کے پاس جانے کی رغبت نہ کرے گی۔ (فتاوی رضویہ قدیم ایڈیشن ج5 ص466)( فتاوی رضویہ جدید ایڈیشن ج 12 ص443)۔المحیط البرھانی میں ہے۔ إن سمعته أنه طلقها، وجحد الزوج ذلك وحلف، فردها القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه ۔المحیط البرھانی ، جلد5، صفحہ 301۔ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:۔ 2016۔11۔04
الجواب بعون الملک الوھاب بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیابنیادی طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ طلاق دیتے ہوئے انسان انتہائی احتیاط سے کام لے کہ یہ کام اللہ تعالی کو بہت ناپسند ہے۔ اگر کوئی دینا بھی چاہے تو ایک طلاق دے دے۔ عدت کے خاتمہ پر عورت آگے شادی کر سکتی ہے اور اگر پہلے خاوند سے شادی کرنا چاہے تب بھی جائز ہے بغیر حلالہ کیے نکاح ہو جائے گا۔ خواہ عدت کے اندر ہو یا عدت کے بعد لیکن اگر کسی نے شیطان کے دھوکے میں آکر تین طلاقیں دے دیں اور طلاق مغلظہ واقع ہو گئی تو پھر شرعی حکم یہ ہے کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسری جگہ عدت ختم ہونے پر کر دو اور اس میں ایجاب و قبول کے وقت شرط نہ لگائی جائے کہ تو طلاق دے دے گا۔اگر یہ شرط لگائی گئی تو مکروہِ تحریمی ہے۔ پھر دوسرا خاوند اس عورت سے ہمبستری کرلے اور دخول ہو جائے تو اب اس کی مرضی ہے کہ عورت کو بسا لے اور یہ میاں بیوی کی طرح زندگی گزارتے رہیں اور اگر دوسرا خاوند اس کو طلاق دے دیتا ہے یا مر جاتا ہے تو وہ عورت عدت ثانیہ کے پورا ہونے کے بعد اگر چاہے تو پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور اگر چاہے تو کسی اور آدمی سے نکاح کر سکتی ہے۔ قرآن مجید میں آتا ہے۔الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔۔۔۔۔ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔(پارہ2سورہ بقرہ آیت229) ترجمہ:۔ کہ طلاقیں دو ہیں اس کے بعد یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یااچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اگر تیسری طلاق دے دی تو عورت پہلے کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کرلے اور ہمبستری کرلے۔ واضح رہے کہ تین طلاقیں بیک وقت دینا بدعت اور گناہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے لہذا اگر مجبورا طلاق دینا پڑے تو صرف ایک طلاق دینی چاہیے تو عدت کے ختم ہونے پر نکاح ختم ہو جائے گا اور پھر دوبارہ بھی صرف نکاح کرنے سے میاں بیوی بن سکتے ہیں۔ تین طلاق اکٹھی ہرگز نہ دیا کریں اگر دے دیں تو تینوں وقوع پذیر ہوجائیں گی۔ ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
جمہور آئمہ جن میں آئمہ اربعہ بھی ہیں سب کا مذہب یہی ہےکہ اس طرح تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ لہذا اس مرد کی بیوی اس پر حرام ہو چکی اور حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ کے بغیر اس پر حلال نہیں ہو سکتی۔ اور یہ وہ فیصلہ ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں صادر فرمایا۔ اور کسی صحابی سے انکار منقول نہیں اور صحابہ کرام کا اجماع اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ حکم سنت کے عین مطابق ہے۔ وگرنہ وہ صحابہ جو شریعت کی معمولی خلاف ورزی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ خاموش نہ رہتے۔ نیز صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلَانِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًابِحَضْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم) ترجمہ:۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ عویمر عجلانی نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی عورت کو تین طلاقیں(یکبارگی) دیں۔معلوم ہوا اگر تین طلاقیں واقع نہ ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرماتے۔ اگر اس وقت اس کے غصہ میں ہونے کی وجہ سے خاموشی اختیار فرمائی تھی تو بعد میں انہیں سمجھا دیتے لیکن بعد میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموشی اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس طرح طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور کئی ایسے مسائل ہیں جو دلیل ناسخ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں پہلے متنازعہ فیہ رہے اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ان کا ایک بات پر اتفاق ہوا۔ مثلا نماز جنازہ کی تکبیرات سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر مختلف تکبیرات فرمائیں۔ بعض دفعہ تین، بعض دفعہ چار، بعض دفع پانچ۔ خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور خلافت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک مختلف طریقوں سے صحابہ کرام جنازہ پر تکبیریں کہتے رہے۔ لیکن آپ کے زمانہ میں چار تکبیرات پر صحابہ کرام نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق اجماع کر لیا۔ نیز سرکار دوعالم ﷺ کا فرمان ہے لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى الضَلَالَةٍ کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ لہذا صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص یکبارگی تین طلاق دے گا تو تینوں واقع ہو جائیں گی۔ یہی عین شریعت کے مطابق ہے۔ نیز حدیث پاک میں ہے۔ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ؟ فَقَالَ إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا بَانَتْ مِنْهُ بِثَلَاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ وَتِسْعُمِائَةٌ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ۔(سنن دارقطنی)حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میرے ابا میں سے کسی نے اپنی زوجہ کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں اور اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا آنحضرتﷺنے فرمایاکہ تمھارے باپ نے اللہ تعالی سے خوف نہ کیا کہ اللہ تعالی اس کے لیے اس معاملہ کا کوئی حل بنا دیتا، تو اس کی بیوی کو اس کے اس فعل سے تین طلاقیں ہو گئیں اور باقی 997 طلاقیں اس کی گردن پر گناہ ہیں۔ اسی طرح السنن الکبریٰ میں ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص احمق بنتا ہے اور اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے اور پھر ابن عباس پکارتا ہوا آتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے بہتری کا راستہ نکال دیتے ہیں لیکن تم نے خدا سے خوف نہ کھایا لہذا میں تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں پاتا۔اور تم گناہگار ہوئے اور تمہاری زوجہ تم سے اس کے بعد بائنہ ہوچکی ہے۔ اس طرح اس کی بیوی بھی اس پر حرام ہو چکی ہے اور اس طرح طلاق دینے سے وہ گناہ گار ہوا۔ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصوابکتبہ العبد المنیب محمد ایوبمفتی دارالافتاء المحمدیہ الغوثیہ بھیرہ الشریفہ ضلع سرگودھا
الجواب بعون الملک الوھاببسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیاطلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہ شرعی منع ہے اور وجہ شرعی ہوتومباح(جائز) بلکہ بعض صورتوں میں مستحب ہے۔ لفظ صریح کے ساتھ ایک طہر میں ایک طلاق دینا ہی احسن طریقہ ہے اور الگ الگ تین طہر میں ایک ایک طلاق دینا حسن اور ایک طہر میں تین طلاق اکٹھی دینا بدعت اور گناہ ہے۔ اکٹھی تین طلاقیں دینے والا گناہ گار ہوگا۔ لہذا تین طلاقیں نہ دیا کریں بلکہ جب کبھی طلاق دینے کی ضرورت پڑے تو ایک طلاق پر ہی اکتفا کریں۔ حالت طہر میں صرف ایک طلاق دینا ہی احسن طریقہ ہے لہذا عرضی نویس حضرات بھی ضرور احتیاط سے کام لیا کریں۔اکٹھی تین طلاق دینے سے تینوں شرعا واقع ہوجاتی ہیں اور رجوع کا حق باقی نہیں رہتا اور میں میاں بیوی کے لیے مشکلات پیدا ہوجاتی۔طلاق دینے کا صحیح طریقہ :۔حضرت ضیاءالامت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں یوں نقل کرتے ہیں۔اگر قطع تعلق کے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہے تو مرد اپنی بیوی کو جب وہ حیض سے فارغ ہوجائے صحبت کرنے پہلے ایک طلاق دے۔ پھر دوسرے ماہ جب وہ حیض سے پاک ہو تو صحبت سے پہلے دوسری بار طلاق دے۔ ابھی تک وہ رجوع کرسکتا ہے۔ پھر تیسرے ماہ جب عورت حیض سے پاک ہو تو صحبت سے پہلے تیسری طلاق دے۔ اب نکاح کا تعلق ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا ہے۔ مرد کو اتنی مہلت جو دی گئی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد اپنے اس فیصلہ پر ایک بار نہیں بار بار غور کرے۔ اور اگر اپنے اس فیصلے کو وہ واپس لینا چاہے تو دو بار تک واپس لے سکتا ہے۔ لیکن اگر اس نے تیسری بار بھی طلاق دے دی تو گویا اس نے یہ اعلان کردیا کہ وہ اس عورت کو کسی قیمت پر اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا۔ اس کے بعد اسے یہ حق نہیں کہ پھر رجوع کرتا پھرے اور عورت کو اپنی خواہشات کا کھلونا بنائے رکھے۔ یہ اسلام کا قانون طلاق ہے۔ (ضیاء القرآن ج1ص157)ارشاد باری تعالی ہے۔الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔۔۔۔۔۔۔۔فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔(پارہ 2سورہ بقرہ آیت نمبر 230،229)ترجمہ ضیاء القرآن:۔ طلاق دو بار ہے پھر یا روک لینا ہے بھلائی کے ساتھ یا چھوڑدینا ہے احسان کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔(دو بار طلاق دینے کے بعد)پھر اگر وہ طلاق دے اپنی بیوی کو تو وہ حلال نہ ہوگی اس پر اس کے بعد یہاں تک کہ نکاح کرے کسی اور خاوند کے ساتھ۔حدیث پاک میں ہے۔أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ۔حلال چیزوں میں سے طلاق دینا اللہ تعالی کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔(سنن ابی داود رقم الحدیث 2178 باب کراھیۃ الطلاق ج2ص255، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 2018 ج1ص650)تفسیر ضیاء القرآن میں مرقوم ہے:۔ خاوند کے حق طلاق کو تین بار تک محدود کردیا۔ ایک بار طلاق دینے کے بعد اسی طرح دوسری بار طلاق دینے کے بعد وہ اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے اور اگر اس نے تیسری بار بھی طلاق دے دی تو اب اس کا تعلق اس عورت سے بالکل منقطع ہوگیا۔اب اسے رجوع کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ (ضیاء القرآن ج1ص157)جیساکہ قدروی شریف میں ہے۔طَلَاقُ الْبِدْعَةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ ثَلَاثًا فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ وَقَعَ الطَّلَاقُ وَبَانَتْ مِنْهُ وَكَانَ عَاصِيًا۔(قدروی شریف کتاب الطلاق ص145)اور طلاق بدعت یہ ہے کہ طلاق دے عورت کو تین ایک کلمہ سے یا تین دے ایک طہر میں جب وہ یہ کرچکے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور عورت بائنہ ہوجائے گی اور وہ گناہگار ہوگا۔فتاوی عالمگیری ج1ص349 پر بھی یہی مفہوم درج ہے۔نیز اکٹھی تین طلاقیں دینے پر حضورﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔جیسا کہ حدیث نبوی ہے۔عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟۔(سنن نسائی رقم الحدیث 3401 باب الثلاث المجموعۃ و ما فیہ من التغلیظ ج6ص142، السنن الکبری رقم الحدیث 5564، فتح الباری لابن حجر قال اخرجہ النسائی و رجالہ ثقات، باب قولہ من جوز الطلاق الثلاث ج9ص362،نیل الاوطار، قال ابن کثیر اسنادہ جید و قال الحافظ فی بلوغ المرام رواتہ موثقون، باب من جاء فی طلاق البتتہ و جمع الثلاث ج6ص269)ترجمہ:۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں ایک ساتھ دے دیں اس کو سُن کر غصہ میں کھڑے ہو گئے اور یہ فرمايا کہ کتاب اﷲ سے کھیل کرتا ہے حالانکہ میں تمہارے اندر ابھی موجود ہوں۔نیز حدیث پاک میں ہے۔ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ؟ فَقَالَ إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا بَانَتْ مِنْهُ بِثَلَاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ وَتِسْعُمِائَةٌ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ۔(سنن دارقطنی رقم الحدیث 3943باب کتاب الطلاق و الخلع والایلاء وغیرہ جز 5ص36، جامع المسانید والسنن رقم الحدیث 5677ج4ص512، مجمع الزوائد ومنبع الفرائد رقم الحدیث 7783 باب تعلیق الطلاق ج4ص 338)حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میرے ابا میں سے کسی نے اپنی زوجہ کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں اور اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا آنحضرتﷺنے فرمایاکہ تمھارا باپ اللہ سے خوفزدہ نہ ہوا، اللہ تعالی اس کے لیے اس معاملہ کا کوئی حل بنا دے گا، تو اس کی بیوی کو اس کے اس فعل سے تین طلاقیں ہو گئی اور باقی 997 طلاقیں اس کی گردن پر گناہ ہیں۔حدیث پاک میں ہے۔ أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ القُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي وَإِنِّي نَكَحْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ القُرَظِيَّ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ الهُدْبَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ۔(بخاری رقم الحدیث 5260 باب من اجاز طلاق الثلاث ج7ص42، مسلم رقم الحدیث 1433، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1932)حضرت عمر رضی اللہ عنہ اکٹھی تین طلاقیں دینے والے کو تعزیر لگایا کرتے تھے۔ جیسا کہ فتح الباری شرح البخاری میں ہے۔عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا أَوْجَعَ ظَهْرَهُ وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ۔(فتح الباری شرح البخاری ج12ص453 دارالکتب بیروت )حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہوتیں تو آپ اس کی پیٹھ پر ضرب لگاتے (یعنی کوڑے لگاتے)۔ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصوابشیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریفتاریخ:۔ 2018۔10۔17