سوال
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
بنیادی طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ طلاق دیتے ہوئے انسان انتہائی احتیاط سے کام لے کہ یہ کام اللہ تعالی کو بہت ناپسند ہے۔ اگر کوئی دینا بھی چاہے تو ایک طلاق دے دے۔ عدت کے خاتمہ پر عورت آگے شادی کر سکتی ہے اور اگر پہلے خاوند سے شادی کرنا چاہے تب بھی جائز ہے بغیر حلالہ کیے نکاح ہو جائے گا۔ خواہ عدت کے اندر ہو یا عدت کے بعد لیکن اگر کسی نے شیطان کے دھوکے میں آکر تین طلاقیں دے دیں اور طلاق مغلظہ واقع ہو گئی تو پھر شرعی حکم یہ ہے کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسری جگہ عدت ختم ہونے پر کر دو اور اس میں ایجاب و قبول کے وقت شرط نہ لگائی جائے کہ تو طلاق دے دے گا۔اگر یہ شرط لگائی گئی تو مکروہِ تحریمی ہے۔ پھر دوسرا خاوند اس عورت سے ہمبستری کرلے اور دخول ہو جائے تو اب اس کی مرضی ہے کہ عورت کو بسا لے اور یہ میاں بیوی کی طرح زندگی گزارتے رہیں اور اگر دوسرا خاوند اس کو طلاق دے دیتا ہے یا مر جاتا ہے تو وہ عورت عدت ثانیہ کے پورا ہونے کے بعد اگر چاہے تو پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور اگر چاہے تو کسی اور آدمی سے نکاح کر سکتی ہے۔ قرآن مجید میں آتا ہے۔
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔۔۔۔۔ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔(پارہ2سورہ بقرہ آیت229)
ترجمہ:۔ کہ طلاقیں دو ہیں اس کے بعد یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یااچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اگر تیسری طلاق دے دی تو عورت پہلے کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کرلے اور ہمبستری کرلے۔
واضح رہے کہ تین طلاقیں بیک وقت دینا بدعت اور گناہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے لہذا اگر مجبورا طلاق دینا پڑے تو صرف ایک طلاق دینی چاہیے تو عدت کے ختم ہونے پر نکاح ختم ہو جائے گا اور پھر دوبارہ بھی صرف نکاح کرنے سے میاں بیوی بن سکتے ہیں۔
تین طلاق اکٹھی ہرگز نہ دیا کریں اگر دے دیں تو تینوں وقوع پذیر ہوجائیں گی۔ ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان
مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف