سوال
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
قبروں کی بے حرمتی کرنا، روندنا ، اوپر چلنا جائز نہیں کیونکہ اور بعد موت مسلمان کو تکلیف دینا ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچانا ۔ البتہ قبروں کو روندنے ان پر چلنے اور ان کی بے حرمتی سے ہر ممکن بچا جائے ۔جب تک کسی اور قبرستان میں جگہ موجود ہو اگرچہ دور ہی ہو تو پرانی قبروں کو کھود کر اس میں نئی میت داخل کرنا جائز نہیں۔ اور اسی طرح برادری ایک قبرستان میں دفن ہے اس کی وجہ سے دوسری برادری کے لوگ بھی وہاں دفن ہونا چاہیں تو ایسا کرنا جائز نہیں۔
ایک موقف یہ ہے کہ اگر میت خاک بھی ہو جائے تب بھی دوسری میت کو اسکی قبر میں دفن کرنا جائز نہیں۔
دوسرا موقف یہ ہے کہ جب قبرستان میں جگہ بالکل ختم چکی ہو اور گردو نواح کے قبرستانوں میں بھی جگہ نہ ہو تو پھر پرانی قبریں جن کی میت کے بوسیدہ ہو جانےکا غالب گمان یا یقین ہو جائےتو ان قبروں کو کھود کر ان میں نئی میت دفن کرنا جائز ہے یہ صرف اور صرف ضرورت شدیدہ کے باعث اجازت ہے البتہ قبروں کو روندنے ان پر چلنے اور ان کی بے حرمتی سے ہر ممکن بچا جائے۔ اور اگر قبر کھودتے وقت ہڈیاں نکل آئیں تو ان کو ایک طرف کر کے مٹی کی آڑ یا دیوار دے کر ساتھ مردہ دفن کر سکتے ہیں۔
دلائل ملاحظہ فرمائیں۔
مصنف ابن ابی شیبہ، مرقاۃ المفاتیح میں ہے۔
والالفاظ من مصنف ابن ابی شیبہ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ أَذَى الْمُؤْمِنِ فِي مَوْتِهِ كَأَذَاهُ فِي حَيَاتِهِ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث 11990 باب ما قالوا فی سب الموتی و ماکرہ من ذالک ج3ص46)
حضرت سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی مسلمان کو بعد موت تکلیف دینا ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچانا۔
حضور سید عالم ﷺجن کی نعلین پاک کی خاک اگر مسلمان کی قبر پر پڑ جائے تو تمام قبر جنت کے مشک، عنبر سے مہک اُٹھے، اگر مسلمان کے سینے اورمنہ اور سر اور آنکھوں پر اپنا قدم اکرم رکھیں اس کی لذت و نعمت وراحت وبرکت میں ابدالآ باد تک سرشار وسرفراز رہے۔
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أَمْشِيَ عَلَى جَمْرَةٍ، أَوْ سَيْفٍ، أَوْ أَخْصِفَ نَعْلِي بِرِجْلِي، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْشِيَ عَلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ ۔ (سنن ابن ماجۃ ،رقم الحدیث 1567، باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ، جلد1، صفحہ 499)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بے شک چنگاری یا تلوار پرچلنا یا جوتا پاؤں سے گانٹھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں،
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ، فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ۔)مسلم، رقم الحدیث 971، جلد2، صفحہ 667۔ اسی طرح ابو داود، نسائی میں ہے(
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ بے شک آدمی کو آگ کی چنگاری پر بیٹھا رہنا یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر جلد تک توڑ جائے اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ قبر پر بیٹھے۔ ۔
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ حضور سید عالم ﷺ کی اتباع میں فرماتے ہیں:
لان اطاء علی جمرۃ احب الی من ان اطاء علٰی قبر مسلم۔( الترغیب والترتیب الترھیب من الجلوس علی القبر الخ، مصطفی البابی مصر،ج4،ص372)
بے شک مجھے چنگاری پر پاؤں رکھنا زیادہ پیارا ہے مسلمان کی قبر پرپاؤں رکھنے سے
اور ایک مقام پر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ اس کی وجہ ان الفاظ سے بیان فرمائی ۔کسی نے قبر پر پاؤں رکھنے کا مسئلہ پوچھا ، فرمایا:
کما کرہ اذای المؤمن فی حیاتہ فانی اکرہ اذاہ بعد موتہ اخرجہ سعید بن منصور فی سننہ کما فی شرح الصدور۔
( شرح الصدور،باب تأذیہ سائروجوہ الاذی ،خلافت اکیڈمی، منگورہ سوات، ص 126)
میں جس طرح مسلمان کی ایذا اس کی زندگی میں مکروہ جانتا ہوں یونہی بعد موت اس کی ایذا کو ناپسند کرتاہوں ۔ اسے سعیدبن منصور نے اپنی سنن میں بیان کیا جیسا کہ شرح الصدور میں ہے۔
سیدی عبدالغنی بابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :
قال الوالد رحمہ اﷲ تعالٰی فی شرح علی الدرر ویکرہ ان یوطء القبر لماروی عن ابن مسعود الخ و ذکر اثرالذی رویناہ۔(حدیقہ ندیہ،الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل ،نوریہ رضویہ، فیصل آباد،ج2،ص504)
والد صاحب نے درر کی شرح میں فرمایا کہ قبر کا روندنا مکروہ ہے جیسا کہ ابنِ مسعود رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے الخ، پھر آپ نے وہی اثر ذکر کیا جو ہم روایت کرچکے ہیں ۔
اور محیط سے نقل فرمایا : ۔
یکرہ ان یطاء علی القبر بالرجل ویقعد علیہ ۔(حدیقہ ندیہ،الصنف الثامن من الاصناف التسعۃ فی آفات الرجل ،نوریہ رضویہ، فیصل آباد،ج2،ص504)
قبر کو پیر وں سے روندنا او راس پر بیٹھنا مکروہ ہے
فتاوٰی عالمگیری میں ہے :۔ ویکرہ ان یبنی علی القبر اویقعد اوینام علیہ اویطاء علیہ الخ۔
( فتاوٰی ہندیۃ ،الفصل السادس فی القبرو الدفن، نورانی کتب خانہ،پشاور ،ج1،ص166)
(عین) قبر پر عمارت بنانا، بیٹھنا، سونا یا روندنامکروہ ہے ۔
تحفۃ الفقہاء، بدائع اور محیط وغیرہ میں ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ نےقبر کا روندنا ، بیٹھنا، سونا، اس پرقضائے حاجت کرنا مکروہ کہا ہے، اسی طرح ابنِ امیر الحاج نے حلیہ میں نقل کیا ان اباحنیفۃ کرہ وطء القبر ۔
( بدائع الصنائع،فصل فی سُنۃ الدفن،ایچ ایم سعیدکمپنی،کراچی،ج1،ص320وتحفۃ الفقہاء،باب الدفن وحکم الشہداء، دارالکتب العلمیۃ ،بیروت ، ج2،ص257)
بے شک امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ نے قبر کا روندنا مکروہ قراردیاہے
نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے :۔
ندب زیارتھا من غیر ان یطأ القبور۔ (مراقی الفلاح علی ھامش الطحطاوی،فصل فی زیارۃ القبور،نورمحمد کارخانہ تجارت کتب ،کراچی،ص 340)
زیارت قبور مستحب ہے مگر قبریں نہ روندی جائیں ۔
پھر آگے اس کی وجہ بیان فرمائی :
کرہ وطؤھا بالاقدام لما فیہ من عدم الاحترام۔(مراقی الفلاح علی ھامش الطحطاوی،فصل فی زیارۃ القبور،نورمحمد کارخانہ تجارت کتب ،کراچی،ص 340)
قبروں کو پیروں سے روندنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں بےحرمتی ہے۔
طریقہ محمدیہ میں قبرون کوروندنا پاوں کی آفات میں سے قراردیاگیاہے : من اٰفات الرجل المشی علی المقابر ۔
(طریقہ محمدیہ، الصنف الثامن فی آفات الرجل،مطبع ہندو پریس،دہلی،ج2،ص259)
پَیر کی آفتوں میں سے قبروں کاروندنا ہے ۔
امام علامہ محقق علی الاطلاق ان لوگوں پر اعتراض فرماتے ہیں جن کے اعزّاء واقراباء کے گرد مخلوق دفن ہے،وہ ان قبروں کو روند تے ہوئے اپنے عزیزوں کی قبروں تک جاتے ہیں، انھیں چاہئے قبرستان کے کنارے سےزیارت اور دعا کرلیں اور ان کی قبروں کے قریب نہ جائیں۔
یکرہ الجلوس علی القبرو وطؤہ فما یصنعہ الناس ممن وفنت اقاربہ ثم دفن حوالیھم خلق من وطأتک القبور الی ان یصل الٰی قبر قریبہٖ مکروہ۔( فتح القدیر، فصل فی الدفن،مکتبہ نوریہ رضویہ،سکھر،ج2،ص102)
قبرپر بیٹھنا اور اس کوروندنا مکروہ ہے، تووہ لوگ جن کے رشتہ داروں کے گرد دوسروں کی قبریں ہوں ان کا ان قبروں کو روندنا اپنے قریبی رشتہ دار کی قبر تک پہنچنے کے لیے مکروہ ہے ۔
پہلا موقف :۔
تارتار خانیہ و امدادالفتاح میں ہے : إذَا صَارَ الْمَيِّتُ تُرَابًا فِي الْقَبْرِ يُكْرَهُ دَفْنُ غَيْرِهِ فِي قَبْرِهِ لِأَنَّ الْحُرْمَةَ بَاقِيَةٌ، وَإِنْ جَمَعُوا عِظَامَهُ فِي نَاحِيَةٍ ثُمَّ دُفِنَ غَيْرُهُ فِيهِ تَبَرُّكًا بِالْجِيرَانِ الصَّالِحِينَ، وَيُوجَدُ مَوْضِعٌ فَارِغٌ يُكْرَهُ ذَلِكَ ۔
( فتاوٰی تاتار خانیۃ الجنائز، القبر والدفن ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ۲/ ۱۷۲)
یعنی اگر میّت بالکل خاک ہوجائے تب بھی اس کی قبر میں دوسرے کو دفن کرنا ممنوع ہے کہ حرمت اب بھی باقی ہے، اور اگر مزاراتِ صالحین کے قرب کی برکت حاصل کرنے کی غرض سے میّت کی ہڈیاں ایک کنارے جمع کردیں تو اب بھی ممنوع ہے جبکہ فارغ جگہ دفن کو مل سکتی ہے۔(ت)
دوسرا موقف:۔
فتاوی رضویہ میں ہے۔ میّت بالکل مٹی ہوگئی ہے اور اس کی ہڈی بھی باقی نہیں رہی ہے اس واسطے کہ قبر ابھی تک کھودی نہیں کی گئی ہے او رنہ میّت کے مٹی ہو نے کا قرآن اور حدیث میں کوئی وقت مقرر ہوا ہے کہ اتنی مدت کے بعد میّت کی ہڈیاں بھی مٹی ہوجاتی ہیں، بلکہ تجربے سے بازہا مشاہدہ ہواہے کہ کسی بہت پرانی بستی کے اطراف میں کوئی جگہ کھودی جائے تواس میں قبور نکلیں جن میں ہڈیاں ( بلکہ بعض کے ابدان) اب تک باقی صحیح وسلامت تھیں، کتبوں سے تین تین چار چار صدیوں کی قبور معلوم ہوتی تھیں تو بلا دلیل بلا ضرورت شرعی کے کسی ممنوع امرکا کسی مبہم روایت کی بناپر مرتکب ہونا ہرگز جائز نہیں ہے۔ اگر معترض پھرعود کرے اور کہے کہ بمبئی وغیرہ عظیم شہروں میں قبور کھود کر ان میں دوسرے اموات دفن کئے جاتے ہیں، تو اگر قبور کھودنے سے اموات کی توہین ہوتی ہے توان شہروں میں یہ کام کیوں ہوتا ہے، تو جواب اس کا یہ ہے کہ ان شہروں میں جگہ بہت تنگ ہے، قبرستانوں میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ میّت کے لیے الگ الگ قبرہو، لہذا اس ضرورت شدیدہ سے یہ جائز ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات ( بوقت ضرورت منع کردہ چیزیں بھی جائز ہوجاتی ہیں ۔ت) قاعدہ متفقہ ہے۔
کبیری شرح منیہ میں ہے : ولا یحفر قبرلدفن اخرما لم یبل الاول فلم یبق لہ عظم الاّ عند الضرورۃ بان لم یوجد مکان سواہ الخ۔
دوسرے مردہ کو دفن کرنے کے لیے قبر نہ کھودی جائے جب تک پہلا مردہ بوسیدہ نہ ہوجائے یہاں تک کہ اس کی ہڈیاں باقی نہ رہیں مگر بوقت ضرورت قبر کھودنا جائز ہے جبکہ اس کے بغیر کوئی دوسری جگہ میسر نہ ہو الخ (ت)۔
(۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز سہیل اکیڈمی لاہور ص ۶۰۷) (فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 438) ۔
فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ۔
میت اگرچہ خاک ہوگیا ہو بلا ضرورت شدید اس کی قبر کھود کر دوسرے کا دفن کرنا جائز نہیں جیسا کہ تاتارخانیہ وغیرہا میں فرمایا۔ بہر حال خاک ہو جانے سے پہلے بلا مجبوری کسی کے نزدیک جائز نہیں۔(فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 390)
فتاوی شامی میں ہے۔
وَلَا يُحْفَرُ قَبْرٌ لِدَفْنِ آخَرَ إلَّا إنْ بَلِيَ الْأَوَّلُ فَلَمْ يَبْقَ لَهُ عَظْمٌ إلَّا أَنْ لَا يُوجَدَ فَتُضَمُّ عِظَامُ الْأَوَّلِ وَيُجْعَلُ بَيْنَهُمَا حَاجِزٌ مِنْ تُرَابٍ ۔(فتاوی شامی، جلد2، صفحہ 233) اسی طرح فتح القدیر میں ہے)
دوسری دفعہ دفن کرنے کے لئے قبر کو نہ کھودا جائے مگر جب پہلی میت بوسیدہ ہو جائے اور اس کی ہڈیاں باقی نہ رہی ہوں مگر یہ کہ کوئی اور جگہ نہ پائی جائے پس پہلے کی ہڈیاں ساتھ ملا دی جائیں گی اور درمیان میں مٹی کی آڑ بنا دی جائے گی۔
فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
لایدفن ا ثنان فی قبرواحد الا لضرورۃ ولایحفر قبر لدفن اٰخر الا ان بلی الاول فلم یبق لہ عظم الا ان لایوجد بد فیضم عظام الاول ویجعل بینھما حاجز من تراب۔(۱؎ فتح القدیر فصل فی الدفن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۰۲) ۔
یعنی بلامجبوری ایک قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، نہ بلامجبوری دوسرے کے دفن کے لئے قبر کھودنے کی اجازت، مگر جبکہ پہلا بالکل خاک ہوگیا ہو کہ اس کی ہڈی تک نہ رہی، ہاں مجبوری ہو تو ہڈیاں ایک طرف جمع کرکے انھیں اور اس میّت میں مٹی کی آڑ قائم کردیں ۔(ت)
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج رحمہ اﷲ تعالٰی حلیہ میں فرماتے ہیں : یکرہ ان یدفن فی القبر الواحد اثنان الالضرورۃ وبھذا تعرف کراھۃ الدفن فی الفساقی، خصوصا ان کان فیھا میّت لم یبل، واما ما یفعلہ جھلۃ اغبیاء من الحفارین وغیرہ فی المقابر المسبلۃ العامۃ وغیرھا من نبش القبور التی لم یبل اربابھا وادخال اجانب علیھم، فھو من المنکر الظاھر الذی ینبغی لکل واقف علیہ انکار ذلک علی متعاطیہ بحسب الاستطاعۃ فان کف والا دفع الٰی اولیاء الامور وفقھم اﷲ تعالٰی لیقا بلوہ بالتادیب، ومن المعلوم ان لیس من الضرورۃ المبیحۃ جمع میّتین ابتداء فی قبر واحد لقصد دفن الرجل مع قریبہ او ضیق محل الدفن فی تلک المقبرۃ مع وجود غیرہا وان کانت تلک المقبرۃ مما یتبرک بالدفن فیھا البعض من بھا من الموتٰی فضلا عن کون ھذہ الامور و ما جری مجرھا مبیحۃ للنبش وادخال البعض علی البعض قبل البلی مع مایحصل فی ضمن ذلک من ھتک حرمۃ المیّت الاول وتفریق اجزائہ فالحذر من ذلک ۔
یعنی بلا مجبوری ایک قبر میں دو کا دفن جائز نہیں، اور یہیں سے ظاہر ہو ا کہ تَہ خانوں میں دفن منع ہے خصوصاً جبکہ وہاں کوئی میّت موجود ہو جو ابھی خاک نہ ہوا او ر وہ جو بعض گورکن وغیرہ جاہلان بد عقل کرتے ہیں کہ وقفی یا غیر وقفی قبرستان میں وہ قبر جس کا مردہ ہنوز خاک نہ ہوا کھود کر دوسرا دفن کردیتے ہیں، یہ صریح معصیت ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ حتی الامکان انھیں ایسا کرنے سے خود روکے، او راس کے روکے نہ رُکیں تو حکام کو اطلاع دیں کہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں، اور شریعت سے معلوم ہے کہ کسی کو اس کے عزیز یا تبرک کے لئے کسی مزار کے پاس دفن کرنے کی غرض سے ابتداء دو جنازے ایک قبر میں رکھنا حلال نہیں جبکہ وہاں دوسرا مقبرہ موجود ہو، نہ کہ ان وجوہ کے لیے اگلی قبر کھود نا، او ر ایک کے خاک ہونے سے پہلے دوسرے کا اس میں داخل کرنا، یہ کیسے حلال ہوسکتا ہے حالانکہ اس میں پہلے میّت کی ہتک حرمت اور اس کے اجزاء کا متفرق کرنا ہے تو خبردار اس حرکت سے بچو ۔(فتاوی رضویہ، جلد9، صفحہ 378، 388)
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ضیاء المصطفیٰ نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ:2023۔07۔20