عام تلاش:

قبر پر پانی چھڑکنا کیسا

قبر پر پانی چھڑکنا کیسا

Oct 02, 2026 23 views
شیئر کریں:

سوال

قبر پر پانی چھڑکنا کیسا

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

                                     بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا

بعد دفن قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے اور اگر مرورِ زمان سے اس کی خاک منتشر ہوگئی ہوا ور نئی ڈالي گئی یا منتشر ہوجانے کا احتمال ہو تو اب بھی پانی ڈالا جائے کہ نشانی باقی رہے اور قبر کی توہین نہ ہونے پائے بہ علل فی الدر وغیرہ ان لایذھب الاثر فیمتھن  ( درمختا وغیرہ میں یہ علّت بیان فرمائی ہے کہ نشانی مٹ جانے کے سبب بے حرمتی نہ ہو ۔ت) اس کے لئے کوئی دن معین نہیں ہوسکتا ہے جب حاجت ہو اور بے حاجت پانی کا ڈالنا ضائع کرنا ہے اور پانی ضائع کرنا جائز نہیں ، اور عاشورہ کی تخصیص محض بے اصل وبے معنی ہے واﷲ تعالٰی اعلم

(فتاوی رضویہ ج9ص373)

ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب

شیر محمد خان

 مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف

تاریخ: 2016۔11۔4

مجیب: شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی شیر محمد خان صاحب
تاریخ اجراء: 02 October 2026
شیئر کریں:
ماخذ: آف لائن تحریری ریکارڈ