سوال
جواب
الجواب بعون الملک الوھاب
بسم اللہ الرحمن الرحیم حامدا و مصلیا
مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر فجر کی اذان کے علاوہ جو بقیہ نمازوں کے لئےاذان مروج ہے وہی بطور تلقین قبر پرپڑھی جائے گی۔اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اس پر خوب کلام فرمایا اور آذان کے کلمات کو احادیث سے ثابت فرمایا جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے۔جو دفن ہوچکا حقیقۃً مُردہ ہے اور اُسے بھی کلمہ پاک سکھانے کی حاجت کہ بعون اللہ تعالٰی جواب یاد ہوجائے اور شیطان رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشک اذان میں یہی کلمہ لاالٰہ الّا اللّٰہ تین جگہ موجود بلکہ اُس کے تمام کلمات جواب نکیرین بتاتے ہیں ان کے سوال تین ہیں (۱)من ربک تیرا رب کون ہے؟ (۲)مادینک تیرا دین کیا ہے؟ (۳)ما کنت تقول فی ھذا الرجل تُو اس مرد یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ اب اذان کی ابتدا میں اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اشھد ان لاالٰہ الااللّٰہ اشھد ان لاالٰہ الااللّٰہ اور آخر میں اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لاالٰہ الااللّٰہ سوال من ربک کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئیگا کہ میرا رب اللہ ہے اور اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ سوال ماکنت تقول فی ھذا الرجل کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیں اللہ کا رسول جانتا تھا اور حیّ علی الصلاۃ حی علی الفلاح جواب مادینک کی طرف اشارہ کریں گے کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن وستون ہے کہ الصلاۃ عمادالدین تو بعد دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعمیل ہے جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حدیث صحیح متواتر مذکور میں فرمایا۔ (فتاوی رضویہ ج 5ص657)
مزید تفصیل کے لئے دیکھیں اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا رسالہ فتاوی رضویہ میں۔ ایذان الاجر فی اذان القبر(دفن کے بعد قبر پر اذان کہنے کے جواز پر مبارک فتوٰی) (فتاوی رضویہ ج5ص653)
ھذا ماعندنا واللہ اعلم بالصواب
شیر محمد خان مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
ضیاء المصطفی نائب مفتی دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
محمد شعیب رکن دارالافتاء دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
تاریخ:2019۔04۔15